اورنگی ٹاﺅن کی نورین

Published on October 12, 2021 by    ·(TOTAL VIEWS 315)      No Comments

اسلامی معاشرے میںعورت پر ہونے والے مظالم پر مبنی ایک سچی کہانی
ڈاکٹر فیاض احمد
پارٹ ۳
نورین: دھیمی آواز میں۔۔۔۔ السلام و علیکم ۔۔۔۔جی کون
نورین کا منگیتر: و علیکم اسلام۔۔۔میں ارسلان ہوں
نورین: شرماتے ہوئے جو ایک مشرقی لڑکی کا زیور ہے۔۔۔۔ رکیے جی میں ابو جی سے بات کرواتی ہوں
ارسلان:نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔مجھے آپ سے بات کرنی ہے
نورین: گھبراتے ہوئے خوشی سے بولی۔۔۔جی بولیے۔۔۔ (اسے کیا پتہ تھا کہ اس کے ارمانوں کا خون ہونے جا رہا ہے) ۔
ارسلان:مجھے آپ سے ایک خاص بات کرنی ہے۔۔۔۔
نورین: مارے خوشی کے۔۔جی فرمائیے۔۔۔( جیسے شاپنگ پر جانے کے لیے فون کیا ہو)۔
ارسلان:میں آپ سے حقیقت بیان کروں گا۔۔۔ برائے مہربانی مجھے غلط مت سمجھیں گا۔۔
نورین: جی بولیں آپ ۔۔۔۔ (ہلکی سی گھبراہٹ کے ساتھ)۔۔۔میں سن رہی ہوں
ارسلان: میں۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔میں
نورین: جی کیا ہوا آپ بولتے کیوں نہیں ہیں۔۔۔۔؟ ۔۔۔۔(بے چینی کے عالم میں)۔
ارسلان:جی میں۔۔۔ جی میں۔۔۔ جی میں ۔۔۔ایک لڑکی سے پیار کرتا ہوں اور اسی سے شادی کروں گا۔۔۔
ارسلان کے یہ الفاظ سنتے ہی نورین کی تو دنیا ہی اجڑ گئی اور دھڑم کر کے نیچے زمین پر گر گئی۔۔۔
گھر والے پریشان حال اس کی طرف لپکے اور ہسپتال لے گئے چند گھنٹوں کے بعد حواس باختہ ہوئے توسب کو قریب دیکھ کر موٹی بڑی آنکھوں سے اشکوں کے دریا رخساروں کو نہلاتے ہوئے جذباتوں کا خون کرتے ہوئے زمین بوس ہونے لگے والدین کو نورین کی بے ہوشی کے دوران پتہ چل چکا تھا مگر کیا کرتے سوائے بے بسی کے ۔۔۔۔۔
نورین نے اپنی تنہائی دور کرنے کے لئے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھانا شروع کیا خوبصورتی کی وجہ سے نورین کے شاگرودں میں سے ایک مس نورین کا دیوانہ ہوگیا اور دل ہی دل میں پیار کے خواب سجانے لگامگر مس نورین کو بولنے سے گھبراتا تھا ایک دن تو حد ہی ہو گئی جب مس نورین نے اس بارہ سالہ لڑکے وحید کی نوٹ بک چیک کی جس میں عشق و محبت کی داستان رقم تھی مس نورین کے نام سے بہت سے خطوط اور محبت نامے منظر عام آئے وحید محبت میں اس مقام پر جا چکا تھا جہاں سے واپسی ناممکن تھی نورین کی خوبصورتی نے اس بارہ سالہ لڑکے وحید کے دل و دماغ میں اپنے نقش چھوڑ رکھے تھے وحید تو مس نورین کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا مگر نورین اس وقت اپنی جوانی کے نشے میں تھی اس نے اس لڑکے کو بولا کر اس کی خوب پٹائی کی اور سکول چھوڑ دیا
کچھ مہینے گھر میں رہی مگر بے چینی اور ماضی کی یادوں نے سکون سے جینے نہیں دیا اسی دور نورین کی ایک دوست امبر نے ایک سکول میں سائنس ٹیچر کی آفر کی نورین نے غم تنہائی کو بھلانے کے لئے اس آفر کو تہہ دل سے قبول کیا اور سکول میں پڑھانا شروع کر دیا ۔۔۔۔
مشکلات اور غم تنہائی نورین کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی سب راستے بند نظر آ رہے تھے اتنے میں سکول کے پرنسپل نے مس نورین کو اپنے آفس میں بولایا ۔۔۔
مس نورین اپنی جوانی میں کسی مس ورلڈ سے کم نہ تھی مگر تھوڑی سی غرور والی بھی تھی یہ تو حقیقت ہے کہ حسن ۔ جوانی ہوتو غرور تو آ ہی جاتا ہے لیکن حسن ایک مسلسل عمل کا نام نہیں مگر وقت گزرنے کے بعد اس کا احساس ہوتا ہے جب انسان کی جوانی اور حسن ڈھل جاتا ہے مس نورین پرنسپل آفس پہنچی تو پرنسپل صاحب نے بڑی عزت و احترام کے ساتھ استقبال کیا مس نورین کو یہ ہضم نہیں ہو رہا تھا کہ ایک سائنس ٹیچر کی اتنی عزت بھی ہو سکتی ہے مس نورین جی سر آپ نے یاد کیا
سر: مس جی میں نے آپ سے ایک بات کرنی ہے
مس نورین: جی بولیں سر
سر: مس میری بات کا غلط مطلب مت لینا
مس: جی اچھا
سر: میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں
مس: اوہ۔۔۔اوہ۔۔۔اوہ۔۔۔(حیرانی کے عالم میں)۔
سر: مس جی پلیز میری بات کا برا مت ماننا
مس : اچھا تو آپ شادی کرنا چاہتے ہیں مجھ سے ۔۔۔آپ کو شرم نہیں آتی مجھ سے یہ بات کرتے ہوئے ۔۔۔آپ کی قسمت اچھی ہے کہ آپ مجھ سے دور بیٹھے ہیں ورنہ میں آپ کو ابھی سبق سکھا دیتی
سر: اگر آپ کو برا لگا تو سوری
مس نورین آفس سے سیدھے گھر چلی گئی اور سکول میں اگلے دن نوٹس بھیج دیا پرنسپل صاحب نورین کے دیوانے تھے مگر نورین غرور کی پوڑیا ۔۔۔
پرنسپل نے اپنے گھر والوں کو نورین کے گھر رشتے کے لئے بھیجا ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم لوگ زیادہ تر وٹہ سٹہ کی شادی کرتے ہیں مگر نورین کے بھائی ابھی اس قابل نہیں تھے کہ ان کی شادی کی جائے پرنسپل کی امی جان وٹہ سٹہ کی شادی کرنا چاہتی تھی بات نہ بنی مگر پرنسپل صاحب مس نورین کے گھر آ گیا اور نورین کی امی سے بات کی جس پر وہ بولی کہ آپ اپنی شادی کے لئے سٹینڈ لو میں بیٹی دینے کو تیار ہوںمگر بے سود کیونکہ پرنسپل صاحب میں اتنا دم نہیں تھا وہ تو صرف نام کا ہی مرد تھا مردوں والی مردانگی اس میں نہیں تھی وہ نورین کی دیوانگی میں پاگل ہوگیا تھا مگر کچھ کرنے کی جستجو نے اس کو چھوا تک نہیں تھا پیار کرنا تو آسان ہوتا ہے مگر پیار کو حاصل کرنے کے لئے کوشش اور ہمت کرنا بہت مشکل کام ہے جو ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہے انسان دعوے تو بہت بڑے بڑے کرتا ہے مگر حقیقت سے بہت دور ہوتا ہے اس کی افادیت کا اندازہ اس کے طرز بیاں سے ہوتا ہے جتنے بڑے وعدے ہوں گے اتنے ہی جھوٹے ہوں گے کچھ کرنے والا انسان کچھ وضاحت نہیں دیتا اور نہ کرنے والا وضاحتوں میں ہی وقت گزار دیتا ہے
جاری ہے

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Premium WordPress Themes