روٹی گول ہے   


کو شائع کی گئی۔ November 2, 2021    ·(TOTAL VIEWS 41)      No Comments

تحریر:پروفیسر ڈاکٹر صائمہ جبین مہک
علی الصبح اٹھتے ہی گول پراٹھا نوش فرمانا ہماری شاہی عادات کا خاصہ تھا۔ لفظ شاہی کچھ زیادہ لگ رہا ہے مگر کون سے والدین ہیں جو خود کو بادشاہ اور اپنی اولاد کو شہزادے شہزادیاں تصور نہیں کرتے۔بس میں بھی اپنے ماں باپ کی شہزادی تھی۔ اب شہزادے شہزادیاں ایک دو ہوں یا نو دس، ماں باپ کی شفقت کے سائے میں خود کو سلطنت کا وارث سمجھتے ہیں اور ہمارے گھر میں بھی چار شہزادیاں اور تین شہزادے موجود تھے، ایک شہزادہ تو نوزائیدگی میں اللہ کو پیارا ہو گیا اور باقی شاہانہ انداز لیے زندگی کی سائبانی میں بڑھتے گئے۔ پیدائش سے لے کر بچپن تک شاہانہ زندگی دودھو (دودھ )پینا، مم مم (پانی) پینا، چوچی (روٹی) کھانا، اچھے اچھے کپڑے پہننا اور کھلونوں سے کھیلنا ہوتا ہے جو ہر ماں باپ اپنی اولاد کے لیے پورا کرتے ہیں۔ بچپن میں قد چھوٹا ہونے کے ساتھ مسائل بھی قد آو رنہیں ہوتے،اور ماں باپ دن رات مشقت کر کہ اپنے پیٹ پر پتھر باندھے اوراپنی ذاتی ضروریات و خواہشات کا گلہ کاٹے اپنی اولاد کی پرورش کرتے رہتے ہیں۔اور جب ننھے منے شہزادے شہزادیوں کے پر نکلتے ہیں اور وہ اڑانیں بھرنے لگتے ہیں تو پھر وہ آشیانہ جسے وہ سلطنت سمجھ رہے تھے کسی اجڑے ہوئے دیس کی طرح لگتا ہے جسے حالات نے آہنی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہو، کیونکہ اب انھیں سمجھ آنے لگتا ہے کہ یہ گھر یا تو مشترکہ جائیداد کے جھگڑے کا شکار ہے یا ہر مہینے مالک مکانوں کے کرایوں کی ز د میں ہے۔ اوہ خدیا! ہم شہزادے شہزادیاں تو نہیں تھے ہم تو حالات کے غلام ہیں، ہمارے ماں باپ بھی دو وقت کی روٹی کے لیے حالات کی چکی میں پِس کر اپنے خون سے آٹا گوندھ کر ہمیں روٹی کھلاتے رہے۔ اور اب وہ بوڑھے ماں باپ جو میرے بچپن کے سنہرے دور کے بادشاہ تھے اب گوشت پوست کے ضخیم بدن پر گردشِ ایام کی دھوپ لیے تھک کر بیٹھ گئے ہیں۔ اب ہم شہزادے شہزادیاں بجائے اپنے ماں باپ کی دوائیاں لانے اور انھیں پرسکون زندگی دینے کے پھر روٹی کے بھنور میں پھنس گئے ہیں۔ گھوم گھما کر ہم اتنا ہی کما پاتے ہیں کہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں۔ یہی سوچ کر نظریں حیرت کدوں کے دائروں میں گھومتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ دنیا بھی گو ل ہے،پہلے پہل تو گول والا قصہ سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر جب پہلی بار گلوب(زمین کا نقشہ) دیکھا تھا تب اسے گھما گھما کر اندازہ ہوا کہ دنیا تو واقعی گول ہے، لیکن دنیا سے نظریں چھپ چھپا کر ہم اپنی چھت پر گئے اور ترچھی نگاہوں سے گھوم گھوم کر اطراف میں دیکھنے لگے تا کہ گولائی کا اندازہ ہو سکے تب بھی سوائے خودکو تین سو ساٹھ کی ڈگری پر گھمانے کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آیا، ہاں اتنا ضرور اندازہ ہوا کہ آسمان سر سے نیچے ہوتے ہوتے دور تک کہیں نیچے جا کر گم ہو جاتاہے لیکن آسمان تو اوپر ہے تو چاروں طرف سے نیچے کیوں چلا جاتا ہے، بس اپنی کم عقلی کو اپنی پیشانی پر ہاتھ سے چھپائے سر تھامے سیڑھیوں سے نیچے آگئے۔ اس دن ہمیں یہ تو اندازہ نہیں ہوا کہ دنیا گول ہے لیکن گول گول گھومنے سے چکراتے ہوئے دماغ میں ہر چیز دو گنا ہو کر نظر آ رہی تھی جس پر بعد میں کافی سوچ پجار سے اندازہ ہوا کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں، تصویر کے بھی دو رخ اور ہاتھی کے دانت کھانے کے او رد کھانے کے اور۔۔ہاں ہاں اب سمجھ میں آ رہا تھا کہ جو جیسا دکھتا ہے ضروری نہیں کہ ویسا ہو۔ہم بھی صرف شہزادے شہزادیاں نہیں تھے بلکہ زندگی کے اکھاڑے میں کھڑے ایک جنگجو بھی تھے جنہیں اپنی سلطنت کی بقاءکے لیے ہر حال میں جنگ جیتنا تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب شعور کی منزلیں پختہ ہو کر قد آور ہونے لگیں تو حقیقی زندگی کے مطالعے سے پتہ چلا کہ شہزادے اور شہزادیوں کی زندگیاں کس قدر مشقت والی تھیں، عالی شان محلات کے ساتھ انھیں جنگی تربیت حاصل کرنے کے لیے کڑی مشقت اٹھانا پڑتی تھی اور سلطنتیں زوال کا شکار تب ہی ہوئیں جب بعد میں آنے والے جانشین آرام پسندی کا شکار ہوئے اور پشتینی محلات کو اپنی سلطنت شمار کرنے لگے جہاں ان کے طاقتور دشمن ان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر مال و اسباب لوٹ کر چل دیے۔لہذا آج ہم حالات سے شکوہ کرنے کی بجائے محنت و مشقت سے زندگی کی جنگ جیتنے کی کوشش کریں، اپنے مسائل کم کرنے کے لیے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے تسخیر کے ہر دروازے پر دستک دیں، ہمیں غلام پیدا نہیں کیا گیا اور نہ ہی غلامی میں رکھ کر ہماری پرورش کی گئی، اپنے محل (گھر) کو حالات اور غلامی کی زنجیروں میں گھرے ہونے کا واہمہ صرف ہماری اپنی سوچ کا نتیجہ ہے۔ ہم اپنی غربت اور تنگدستی کا گلہ اپنے والدین، ملک اور حالات سے کیوں کریں، ہم خود ہی کیوںنہ سوچ کا ایسا زاویہ تعمیر کریں جس کو نفع بخش بنا کر ہم حقیقت میں اپنے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے کوئی محل تعمیر کر لیں، یہ جو ڈگریاں جن کے رعب میں ہم خود پسندی کا شکار ہو گئے اور محنت کر کہ کسی چھوٹے کام کو عار سمجھتے ہیں، ان ڈگریوں کے زعم سے نکل کر محنت ،مشقت اور سوچ پجار سے ذرائع آمدن کے نئے طریقے تسخیر کریں جس ہم خود کفیل ہو جائیں۔ یقین کیجیے سڑک کنارے وہ شخص جس نے ڈھابا لگایا ہے وہ ماہانہ ان لوگوں سے زیادہ کما لیتا ہے جو ڈگریاں تھامے کسی کی غلامی (نوکری) کے لیے دربہ در ٹھوکریں کھا کر اکثر وہاں چائے پینے آتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ ڈھابالگائیںہم تو صرف ایک ادنیٰ سی مثال دے رہے ہیں، آپ تو اس سے زیادہ بڑھ کرکچھ کر سکتے ہیں۔المختصر اپنی آزادی کو محسوس کرتے ہوئے اپنی دنیا خود تسخیر کیجیے ورنہ زندگی صرف گول روٹی کے بھنور میں پھنس جائے گی۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme
Weboy