تحریر؛عطیہ ربانی، بیلجیئم

Published on November 27, 2021 by    ·(TOTAL VIEWS 102)      No Comments

انیس سو چوالیس میں گاندھی کی بات کہ مذہب تبدیل کرنے والے لوگوں کی جماعت ایکا قوم نہیں ہوتی؛
محمد علی جناح نے جواب میں کہا کہ“ ہم اس بات پر قائم ہیں کہ کسی بھی تعریف کے اعتبار سے ہندو اور مسلمان دو بڑی قومیں ہیں- ہم ایک سو کروڑ آبادی کی“قوم“ ہیں اس سے بھی بڑھ کر ہم ایک ایسی قوم ہیں جس میں اپنی مخصوص ثقافت اور تہذیب، زبان و ادب، فن اور فن تعمیر، نام اور نامگذاری، قدر و قیمت کا احساس، قانونی قوانین، اور اخلاقی ضابطے، رسم و رواج، اور کیلنڈر، تاریخ، اور روایات، اہلیت اور عزائم – مختصر یہ کہ زندگی اور زندگی کے بارے میں ہمارا اپنا مخصوص نقطہ نظر ہے۔”
اکثر چہل قدمی کرتے ہوئے راستے میں ایک سکھ جوڑے سے ملاقات ہو جاتی ہے- ادھیڑ عمر کے میاں بیوی کو جب پہلی بار معلوم ہوا کہ میں پاکستانی ہوں تو نہایت گرمجوشی سے ملے- ہر بار جوگنگ کرتے ہوئے ان سے ضرور ملاقات ہوتی ہے اور وہی پرتپاک لہجہ اور انداز، دل خوش ہو جاتا ہے- لیکن ایک بات جو ہمیشہ حیران کرتی ہے وہ یہ کہ ان کے منہ سے ہمیشہ ایک جملہ ضرور سننے کو ملتا ہے-
اپاں تے سارے بہن بھراواں ای نیں، بس اپنے وڈیاں نے ایہہ گلتی کیتی ہا-
(ہم سارے تو بہن بھائی ہی ہیں بس ہمارے بڑوں نے یہ غلطی کر دی) یعنی پاکستان کی بجائے انڈیا کا ساتھ دیا-
بہت سال پہلے ایک تعلیمی ادارے میں ساتھ والی کلاس میں ایک ہندو لڑکا پڑھتا تھا“رام جی“ لیکن وہ پنجابی تھا – اس وقت تو کبھی ایسی بات نہیں ہوئی کہ انڈیا میں ان کو کسی قسم کی کوئی تکلیف ہو- لیکن تقریباً دو سال پہلے اس سے بات ہوئی تو وہ حکومت سے بہت نالاں نظر آیا- اس کی ہر بات میں دکھ کا اظہار تھا کہ اپنے پنجابیوں کے ساتھ ناں بس اچھی نہیں ہو رہی- سرکار نے بہت تنگ کر رکھا ہے-
کچھ روز قبل ایک اور سہیلی جو انڈین ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ہیں- یہ ان کا المیہ رہا کہ سرکار19- Covid کی آڑ لے کر مسلمانوں کو اٹھا لے جاتی ہے اور دو، دو مہینے انہیں گھر جا نے کی اجازت نہیں ملتی- بے چاروں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آنے لگی ہے-
ذیادہ حیرانگی اس بات پر ہوئی جب ان کے منہ سے یہ الفاظ سنے کہ تمہارے قائد اعظم ٹھیک کہتے؛
“انڈیاکے مسلما، ہمیشہ اپنی وفاداری ثابت کرتے رہیں گے لیکن ان کو کبھی ہند کا وفادار سمجھا نہ جائے گا-“
اب دیکھو یہاں ہمارے تری پورہ میں کیا ہو رہا ہے- کتنی مسجدیں توڑ ڈالیں! میں نے تصحیح کروائی کہ مسجد کو شہید کرنا کہتے ہیں- شکریہ کہہ کر انہوں نے بات جاری رکھی کہ کوئی مسلمانوں کا پرسان حال نہیں- ان پر حملے لئیے جا رہے ہیں-
صرف یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے گھروں پر، دکانوں پر حملے کئیے جا رہے ہیں- اب تک پندرہ مساجد ہندو انتہا پسند آر ایس ایس کے علاوہ رائٹ ہینڈ ونگ کے ہندو¶ں کے ہاتھوں شہید کی جا چکی ہیں- باقاعدہ ریلی کی صورت میں پولیس کی موجودگی میں مساجد کو آگ لگائی گئی- لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کو بغیر کسی نوٹس کے نشانہ بنایا گیا- اب کتنے مسلمان بے گھر ہوئے- لیکن پولیس سوشل میڈیا پر یہی بیان جاری کر رہی ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا- مسلمانوں کے کہنے پر کوئی ایف آئی آر نہیں کاٹی جا رہی کیونکہ وہ اس بات سے ہی انکاری ہیں کہ ان کے علاقے میں نہ کسی مسجد کو آگ لگائی گئی نہ ہی کسی کے کاروبار یا گھر کو گرایا گیا-
کہا جا رہا کہ یہ بنگلہ دیش میں ہونے والے واقعے کا رد عمل ہے- جس کی وجہ سے تری پورہ، انڈیا میں مساجد میں آگ لگائے جانے والے واقعات پر پولیس کوئی اقدام نہیں اٹھا سکی کیونکہ ریلی کی حفاظت پولیس کی ذمہ داری تھی نہ کہ ان واقعات کی روک تھام-
ایسے ہی بہت سے اور واقعات جیسے حال ہی میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کی پاکستان کے ہاتھوں شکست پر انڈین کھلاڑی محمد شامی کو کیسے نشانہ بنایا گیا- یہاں تک کہا گیا کہ اسے پاکستان چلے جانا چاہئیے-
اس کے علاوہ بھائی گورداس انسٹیٹوٹ آف انجینئرنگ میں دو کشمیری طالب علموں پر حملہ کیا گیا کیونکہ یہ پہلا ورلڈ کپ کا میچ تھا جس میں پاکستان نے انڈیا کو شکست دی اور ویراٹ کوہلی پہلا انڈین کپتان بنا جس کی کپتانی میں انڈین کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے ہاتھوں دس وکٹوں سے شکست کھائی- لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں کا کیا قصور—؟
ایسے ہی بہت سے واقعات خبروں کی زینت بنے – بات صرف مسلمانوں کی ہی نہیں اس وقت انڈیا میں ہر وہ شخص جو ہندو مذہب سے تعلق نہیں رکھتا، خواہ وہ سکھ ہو، عیسائی یا مسلمان ہو سبھی ہندوانہ تعصب کا شکار ہو رہے ہیں-
کچھ وز قبل ایک آرٹیکل میں اداکار نصیر الدین شاہ کا بیان نظر سے گزرا کہ پانس سال قبل شائع ہوئی ان کی سوانح عمری میں ان کا خیال تھا کہ ان کے والد نے پاکستان نہ جانے کا فیصلہ اس لئیے کیا کہ وہ اپنی سرکاری نوکری چھوڑنا نہیں چاہتے تھے نہ ہی پاکستان جا کر نا حق کسی جائیداد کے حقدار بننا چاہتے تھے اور بعد ازاں ان کا فیصلہ درست لگا-
لیکن حال ہی میں انھوں نے انڈیا کے شہریت کے متنازع قانون پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’70 برس بعد اب انھیں احساس ہونے لگا ہے کہ وہ بطور مسلمان انڈیا میں نہیں رہ سکتے اور یہ کہ انھیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت بھی پڑے کہ وہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ انڈین بھی ہیں۔
ان سب واقعات کو پڑھ کر، دیکھ کر خود ہی سر سجدے میں جھک جاتا ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے ہمیں محمد علی جناح جیسا راہنما عطا کیا اور اقبال جیسا خواب دیکھنے والا، قوم کو جگانے والا شاعر عطا کیا-
آج اگر قائد علحدہ ملک کے لئیے نہ لڑے ہوتے تو کیا مملکت خداد میں مسلمان سر اٹھا کر رہ پاتے- مساجد اور مکان و کاروبار محفوظ ہوتے- پاکستان میں رہنے والا ایک باشندہ ہو سکتا ہے کہ متعصب ہو کر بھارت کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے لیکن یہاں تو بات کرنے والے ذیادہ تر ہندستان کے ہی باشندے ہیں جو اتنے سال بعد بھی اپنے آپ کو“انڈین“ ثابت کرنے کی تگ و دو میں لگے ہیں-
ایسے پاکستانی جو آج بھی دو قومی نظرئیے کے خلاف ہیں یا بحث میں مبتلا ہیں کہ آیا اس کا کوئی وجود بھی ہے یا نہیں- تو ان سے صرف اتنا ہی کہنا ہے کہ کرکٹ میچ کے بعد کی خبریں دیکھ لیجیئے، وہ خبریں جو“بھارت دیش“ سے نشر ہو رہی ہیں – یا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے واقعات پر نظر ڈال لیں-
مجھے تو صرف اتنا ہی کہنا ہے کہ؛
شکریہ محمد علی جناح, ہمیں سر اٹھا کر اپنے مذہب پر عمل کرنے کی خاطر آپ اور آپ کے ساتھیوں نے اتنی جدو جہد کی-

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress Blog