لوٹ مار اور ناانصا فیوں کی داستان   


کو شائع کی گئی۔ January 2, 2022    ·(TOTAL VIEWS 78)      No Comments

تحریر ۔۔۔شیخ توصیف حسین
ایک کہاوت ہے کہ ایک ملک کا بادشاہ اپنے محل کے ایک کو نے میں اپنے شاہی حجام سے اپنی شیو بنا نے میں مصروف عمل تھا کہ اسی دوران شاہی حجام نے بغیر کسی ڈر اور خوف کے بادشاہ کو مخا طب کرتے ہوئے کہا کہ تمھاری بیٹی بھی جوان ہو چکی ہے اور میرا بیٹا بھی جوان ہو گیا ہے اگر آپ منا سب خیال کرے تو ہم ان دونوں کو شادی کے بند ھن میں باندھ دیں بادشاہ نے شاہی حجام کی اس بات کو سنتے ہی آگ بگو لا ہو کر سپاہیوں کو فل الفور طلب کر کے شاہی حجام کو گرفتار کر کے سر تن سے جدا کرنے کا حکم جاری کر دیا اس واقعہ کی اطلاع جب وزیر خاص کو ہو ئی تو وزیر خاص دوڑتا ہوا بادشاہ اقدس کی خد مت میں حاضر ہوا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کرنے لگا کہ اس شاہی حجام کی اتنی جرات کہا کہ وہ آپ سے ایسی بے ہودہ گفتگو کرے اس کی اس بات میں بھی کوئی راز ہے لہذا آپ سے میری یہ التضا ہے کہ آپ اس شاہی حجام کو پھر اُسی کونے میں بیٹھ کر اپنی شیو بنوائے اور وہ بھی میری مو جو دگی میں بادشاہ نے وزیر خاص کی اس التجا کو منظور کرتے ہوئے شاہی حجام کو حکم دیتے ہو ئے دوبارہ محل کے اُس کو نے میں بیٹھ کر شیو بنوانے لگا تو اسی دوران شاہی حجام نے بادشاہ اور وزیر خاص کے سامنے وہی الفاظ دہرائے شاہی حجام کے دوبارہ یہی لفظ دہرانے پر بادشاہ نے بڑے غیض و غضب کے ساتھ شاہی حجام کو اپنے سپاہیوں کو حکم دیتے ہو ئے کہا کہ اس ناسور کو فوری گرفتار کر کے تختہ دار پر لٹکا دیا جائے بادشاہ کے اس حکم کو سننے کے بعد بڑی عاجزی کے ساتھ بادشاہ کو عرض کی کہ جس جگہ یہ شاہی حجام کھڑا ہے اس کے نیچے بہت بڑا خزانہ دفن ہے آپ اگر مناسب خیال کرے تو یہاں پر کھدائی کروا دے بادشاہ نے وزیر خاص کی التجا پر کھدائی کا حکم دے دیا کچھ عرصہ کھدائی کے دوران واقعہ ہی وہاں سے خزانہ نکل آ یا جس پر بادشاہ نے وزیر خاص سے پو چھا کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہاں پر بہت بڑا خزانہ دفن ہے بادشاہ کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خاص نے کہا کہ جب یہ شاہی حجام آپ سے ایسی گھناﺅ نی بات کر رہا تھا تو میں فوری طور پر سمجھ گیا تھا کہ شاہی حجام کی اتنی جرات کہا یہ تو بس یہاں پر دفن ہوئے بہت بڑے خزانے کی تپش کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے یہ اپنی اوقات بھول کر اتنی بڑی بات کر گیا بالکل یہی کیفیت بلدیہ جھنگ کے آ ڈٹ آ فیسر عمیس ذیشان کی ہے جو حرام کی کمائی کے بل بو تے پر اپنی اوقات بھول کر نت نئی گھناﺅ نی تاریخ رقم کرنے میں مصروف عمل ہے جس کے متعلق یہ شنید ہے کہ مذکورہ آ فیسر کا والد فیاض جنجو عہ دھجی روڈ جھنگ صدر پر ایک معمولی دو کان کا مالک تھا جس کی وجہ سے اکثر وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرتا رہتا تھا جس سے دلبرداشتہ ہو کر اپنے بچوں کے ہمراہ اپنے میکے چلی گئی بتایا جا تا ہے کہ وہ دس پندرہ سال تک اپنے میکے میں رہی جس کے نتیجہ میں مذکورہ آ فیسر کا والد ان حالات سے دلبرداشتہ ہو کر وفات پا گیا جس کی وفات کو تقریبا دس پندرہ سال گزر چکے ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ آ فیسر جو اپنے والد کے دکھوں کا مداور نہ بن سکا وہ کسی کا کیا بنے گا افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ مذکورہ آ فیسر نے اپنی اذیت ناک زندگی کا بد لہ اپنے بلدیہ کے غریب اہلکاروں سے لینا شروع کر دیا ہے مذکورہ آ فیسر کا یہ ماٹو ہے کہ دہاڑی لگاﺅ اور مال کماﺅ کیا کسی نے خوب کہا ہے کہ کردار ہی انسان کے خون کی عکاسی کرتا ہے سچ تو یہ ہے کہ انگریز اپنے دور حکومت میں کسی بھی کم ظرف خاندان کے افراد کو کوئی اعلی نو کری نہیں دیتا تھا چونکہ وہ یہ بخوبی جا نتا تھا کہ کم ظرف خون اپنی کم ظرفی میں خوب مہارت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انگریز قوم آج بھی پوری دنیا پر حکومت کر رہے ہیں تو یہاں مجھے یاد آیا کہ میں گزشتہ روز اپنے صحافتی فرائض کی ادائیگی میں مصروف عمل تھا کہ اسی دوران چند ایک اہلکار جن کے سر کے بال آ وارہ بادلوں کی طرح بکھرے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے زیب تن کیے ہوئے ہونٹ خشک پتوں کی طرح آ نکھوں میں آ نسو مو سلا دھار بارش کی طرح قصہ مختصر مذکورہ اہلکار بے بسی و لا چارگی کی تصویر بنے ہو ئے تھے جہنوں نے روتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہو کر کہنا شروع کیا کہ خداوندکریم کی نظر میں ہم غریب یا امیر سب افراد ایک ہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ خداوند کریم کے گھر ہم سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن خدا کے گھر سے باہر نکلتے ہی یعنی خدا کے گھر مسجد سے باہر نکلتے ہی اس معاشرے کے ناسور ہم سے ایسا سلوک روا رکھتے ہیں جیسے بر ہمن قوم اچھوتوں کے ساتھ اگر آپ حقیقت کے آ ئینے میں دیکھے تو یہ ناسور جو نہ صرف مذہب اسلام بلکہ انسانیت کے نام پر ایک بد نما داغ ہیں اس پر آ شوب معاشرے کے یہ ناسور بھول چکے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حصول کی خا طر جتنی قربانیاں ہم غریبوں نے اپنے تن من اور دھن کی دی ہیں ان کے ورثا نے نہیں دیں ان کے ورثا نے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شدید مخالفت کی تھی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ناسور جو اپنے آپ کو ہلاکو خان اور چنگیز خان سمجھتے ہیں درحقیقت ہیں نہیں یہ تو بس حرام کی کمائی کا کمال ہے جس کی وجہ سے یہ اپنے باپ دادا کی قوم کو بھول کر اپنے آپ کو خان زادہ اور نواب زادہ بن کر سستی شہرت پا رہے ہیں اور ہمیں محکوم سمجھتے ہیں حالانکہ ان کا کردار ہی کم ظرف ہو نے کا واضح ثبوت ہے تو کیا کسی نے خوب کہا ہے
کہ حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
اور خو شبو کبھی آ نہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے
یہ کہنے کے بعد مذکورہ اہلکار جو خاکروب مالی اور چپراسی کے عہدے پر بلدیہ جھنگ میں تعنیات ہیں اور وہ بھی ڈیلی ویجز پر مذید انھوں نے روتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا کہ ہم عرصہ دراز سے بلدیہ جھنگ میں بیس ہزار سے لیکر پچیس ہزار روپے تک بلدیہ جھنگ میں اپنے فرائض و منصبی صداقت امانت اور شرافت کا پیکر بن کر ادا کرنے میں مصروف عمل ہیں اس کے با وجود یہاں کے سیاست دان اور چند ایک کرپٹ ترین بیورو کریٹس جو اپنے فرائض و منصبی دہاڑی لگاﺅ اور مال کماﺅ کی سکیم پر عمل پیرا ہو کر ادا کر رہے ہیں سچ تو یہ ہے کہ اگر مذکورہ آ فیسر و سیاست دان اپنے فرائض و منصبی اور فرض شناسی سے ادا کرتے تو آج ضلع جھنگ تباہ و بر باد نہ ہو تا یہ وہ ناسور ہیں جو اپنے ماتھے پر ایمانداری کا ٹکہ سجا کر اور انسانیت کو سہولیات کی سیج پر لٹا کر حرام و حلال کی تمیز کھو بیٹھے ہیں یہی کافی نہیں یہ وہ ناسور ہیں جو ضلع جھنگ کو دیمک کی طرح چاٹ کر ہڑپ کرنے میں مصروف عمل ہیں کاش ریاست مدینہ کی نیک خواہشات کے بانی وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دور حکومت کا کوئی اعلی آ فیسر ان ناسوروں کے حکومت وقت کے ملنے والے فنڈز کا آ ڈٹ کر لے اور وہ بھی ان ناسوروں کو اطلاع دیے بغیر تو انشاءاللہ تعالی ان کے کالے کرتوت عیاں ہو جائیں گے جبکہ دوسری جانب یہ ناسور ہم اول اور درجہ دوئم کے ملازمین کو چور بے ایمان اور نجانے کن کن غلیظ لفظوں سے پکارتے ہیں آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں ہم غریب اور بے بس ملازمین کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے ہم اس قدر بے بس ہیں کہ ہم اپنی بچیوں کی شادیوں کیلئے بھی بینکوں سے سود پر رقوم وصول کرتے ہیں اور تو اور ہم اپنے عزیز و اقارب کی وفات پر بھی بینکوں سے سود کی مد میں ملنے والی رقوم سے اُن کے کفن دفن کا بندوبست کرتے ہیں یہی کافی نہیں ہم میٹ اور سینٹری انسپکٹروں کے ڈرانے اور دھمکانے پر اُن کا حصہ بحثیت جسہ ادا کرتے ہیں یہاں افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ ہمارا کوئی اہلکار وفات پا جائے تو آ ڈٹ آ فیسر سے لیکر باقی ماندہ آ فیسر بغیر کمیشن وصول کیئے ہمیں اپنی پنشن دینے سے انکاری ہو جاتے ہیں اب انشاءاللہ تعالی مذکورہ آ ڈٹ آ فیسر عمیس ذیشان کے کالے کرتوتوں کا پردہ آ ئندہ اپنے قارئین و ارباب و بااختیار کی نظر کریں گے ۔۔۔جاری ہے

Readers Comments (0)




WordPress Blog
WordPress主题