ڈرگ انسپکٹر جھنگ محمد ارشد انوارجنید سچائی کا سامنا کرنے کے بجائے انکوائری سے راہ فرار اختیار کر گیا

Published on May 3, 2014 by    ·(TOTAL VIEWS 458)      No Comments

Dco 01
ڈرگ انسپکٹر جھنگ محمد ارشد انوارجنید سچائی کا سامنا کرنے کے بجائے انکوائری سے راہ فرار اختیار کر گیا
جھنگ(شفقت سیال)ڈرگ انسپکٹر جھنگ محمد ارشد انوارجنید سچائی کا سامنا کرنے کے بجائے انکوائری سے راہ فرار اختیار کر گیا ۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں ڈرگ انسپکٹر جھنگ محمد ارشد انوار جنید جس کی کرپشن کے چرچے ہر زروزبان پر عام ہیں کے متعلق خبریں نشر ہوئی چونکہ مذکورہ آفیسر کی لوٹ مار کے نتیجہ میں عطائی ڈاکٹرز جن کی دیہی وشہری حلقوں میں تعداد تقریبا 90پرسنٹ کے قریب ہیں انسانی جانوں سے کھلنے میں مصروف عمل ہیں جس کی اطلاع پاکر ای ڈی او ہیلتھ جھنگ ڈاکٹر ظفر خان بلوچ نے مذکورہ ڈرگ انسپکٹر جھنگ کے خلاف کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ کے ایم ایس ممتاز خان سیال کو انکوائری آفیسر مقرر کر دیا ۔لیکن مذکورہ ڈرگ انسپکٹر جھنگت سچائی کا سامنا کرنے کے بجائے انکوائری میں تین بار بلوانے کے باوجود راہ فرار اختیار کر گیا ۔شنید ہے کہ مذکورہ ای ڈی او ہیلتھ جھنگ ظفرخان بلوچ نے صیح صورت حال جاننے کیلئے مذکورہ ڈرگ انسپکٹر کے خلاف ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جھنگ ڈاکٹر حسین احمد کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری اریگیشن اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے تریموں ہیڈورکس جھنگ ڈویژن کی مبینہ بدعنوانیوں اور سنگین نوعیت کی بے قاعد گیوں ،بے ضابطگیوں وکرپشن کے واقعات کا سخت نوٹس
جھنگ(شفقت سیال ) چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری اریگیشن اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے تریموں ہیڈورکس جھنگ ڈویژن کے ایکسیئن محمد اسلم ،ایس ڈی او ہیڈ ورکس زاہد حسین مترو،اکاؤنٹس یوسف ،بیلدار سرفراز وغیرہ کی مبینہ بدعنوانیوں اور سنگین نوعیت کی بے قاعد گیوں ،بے ضابطگیوں وکرپشن کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کے احکامات جاری کر دیئے ہیں یہ کاروائی حاجی نعمت خان گورنمنٹ کنٹریکٹر جھنگ کی ہر دو مجاز آفیسران کو گزاری جانے والی تحریری شکایات پر عمل میں آئی ہیں جس میں شکایت کنندہ نے انکشاف کیا تھا ایکسیئن اور ایس ڈی اوہیڈ ورکس مبینہ طور پر متعلقہ ٹھیکیداران سے ملی بھگت کرکے کام مکمل کروانے کی بجائے تھوڑا بہت کام کرواکر گورنمنٹ کے خزانہ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں یوسف اور سرفراز مبینہ طور پر ٹھیکیداری کرنے میں مصروف ہیں جو کہ غیرقانونی اقدام ہے مگر کوئی باز پرس کرنے کو تیار نہ ہے انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ دوران ورکشاپ سیکشن میں رولر ٹرین اور آئل گریس کی لاکھوں روپے کی فج پیمنٹ بذریعہ ایل پی اے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کے نام کر کے مبینہ طور پر ہضم کی گئی ہیں جبکہ ماہ نومبر 2013میں ایکسیئن نے شورکوٹ سب ڈویژن میں بیس لاکھ روپے زائد رقم کی مبینہ فج پے منٹ کر کے اپنی اور دیگر کی جیبیں بھریں اسی طرح سب ڈویژن اٹھارہ ہزاری اور سب ڈویژن شورکوٹ میں نہروں اور فلڈ بند کی واچنگ کے نام پر لاکھوں روپے کی فج پے منٹ کی گئی اور کالونی رنگ بند کی دیکھ بھال پر بھی لاکھوں روپے ہڑپ کئے جبکہ ایک روپے کا کام نہ کیا گیا ۔انہوں نے درخواست میں مزید موقف اختیار کیا کہ زاہد حسین مترو2006میں بطور ایس ڈی او ہیڈ ورکس تعینات رہ کر مبینہ کرپشن کی اور اس کی تعیناتی کے دوران تریموں انجینئرنگ ورکشاپ سے ایک ٹرک لوہا اور ٹریکٹر چوری ہواتھا لیکن ٹرک الٹ جانے کے باعث لوہا چوری ہونے سے بچ گیا جبکہ مسروقہ ٹریکٹر چوری ہونے کے بعد تھانہ مترو کے علاقہ سے پولیس نے برآمد کیا تھا تاہم محکمانہ تحقیقات نہ ہو سکنے کے باعث معاملہ سرد خانے کی نذر ہو گیا متعدد اہلکاران مقامی اور کافی عرصہ سے تعینات ہیں انہوں نے شفاف و منصفانہ تحقیقات ودادرسی کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Premium WordPress Themes