سموگ ماحولیاتی آلودگی کی ایک خطرناک قسم ،سموگ کے اثرات اور بچاو

Published on September 7, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 33)      No Comments

فیصل آباد (یو این پی)سموگ ماحولیاتی آلودگی کی ایک خطرناک قسم ہے جسےسردیوں کے ابتدائی مہینوں میں دیکھا جاتا ہے۔ ہوا میں موجود گیسیں مثلاً کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسا ئیڈ ، میتھین، سلفر ڈائی آکسائیڈاور ہائیڈرو کاربن وغیرہ کے کیمیائی ذرات مل کر سموگ کا روپ دھارلیتے ہےں۔ فضاءمیں سموگ کی صورتحال پورے ماحول کو آلودہ کر دیتی ہے ۔ سموگ ہوا میں معلق رہتا ہے اور زمین کی سطح کے قریب ہونے کی وجہ سے ہر جاندار بشمول پودوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انسانوں میں سموگ آنکھ، ناک ،کان اور گلے کی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔سموگ کی زیادتی کی صورت میں پودوں کی بڑھوتری کا عمل رک جاتا ہے اور ےہ فصلات ، باغات اور سبزیات کو بہت نقصان پہنچاتی ہے ۔سموگ عموماً ماہ ستمبرکے آخر سے لے کردسمبر کے آخرتک وقوع پذیر ہوتا ہے جب سرسوں اور سبزیات کی فصلات کی بجائی اور چاول ، کپاس ، مکئی اور سبزیات کی فصلات کی برداشت کا موسم ہوتا ہے سموگ کی زیادتی کی وجہ سے ان تمام فصلات کیلئے کافی زیادہ مشکلات درپیش ہوتی ہیںان تمام موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پودوں کی بڑھوتری کا عمل رُک جاتا ہے اور پودے اپنے مدافعاتی نظام کی کمزوری کی وجہ سے مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں کر پاتے ۔ ٹریفک کے دھویں اور صنعتی باقیات کے علاوہ دھان کی باقیات مثلاً پرالی اور مڈھوں کو آگ لگانے سے اٹھنے والا دھواں بھی سموگ کا باعث بنتا ہے ۔ اسی صورتحال اور عوامی مفادِ عامہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے سموگ کو ایک ” قدرتی آفت”قرار دیتے ہوئے اس کی روک تھام کے لئے باقاعدہ طور پر ایک کمیشن تشکیل دیا ہے ۔وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں سموگ کا باعث بننے والے عوامل پر کڑی نگاہ رکھنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کرنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے بھی سموگ سے بچا¶ کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے صوبائی مشینری پوری طرح حرکت میں ہے۔ حکومت پنجاب کو اس سنگین مسئلے کی شدت کا مکمل احساس ہے اوراس سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوششیں بروئے کار لائے جا رہی ہیں ۔ اسی ضمن میں محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کو دھان کی کٹائی کے بعدفصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کی ہدایات جاری کی گئی ہیں کیونکہ اس عمل سے نہ صرف زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ دھان کی باقیات سے اٹھنے دھواں ٹریفک حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بھی بنتا ہے۔دھان کے کاشتکار مڈھوں کو آگ لگانے کی بجائے انہیںزمین میں ملا کر زرخیزی میں اضافہ کریں۔دھان کے مڈھوں کو تلف کرنے کیلئے کاشتکار دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر اور مشین سے کٹائی کی صورت میںڈسک ہیرو کی مدد سے فصل کی باقیات کو زمین میں ملا دیںیا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا دیں۔دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کے واقعات کو روکنے کیلئے محکمہ زراعت پنجاب ہر ممکن اقدام کررہا ہے کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگی کے ساتھ فصلات، باغات اور سبزیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ موجود ہوتا ہے۔ امسال مانیٹرنگ ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر دھان کی فصل کی باقیات کو آگ لگانے والے واقعات کی مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور ایسا کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جا ئے گی۔سموگ سے بچاﺅ کے لئے کی جانے والی کوششوں مےں ہر شخص کو انفرادی طور پر حصہ لےنا چاہیے۔ سموگ سے بچاو¿ کیلئے کا رخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں سے زہریلی گیسوں کے اخراج کو بند کرکے اور ان میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں۔ زگ زیگ ٹیکنالوجی والے بھٹوں کو لگانے کے ساتھ ساتھ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کرنا چاہیے ۔سموگ کی صورت میںشہرےوں کو چاہےے کہ غیر ضروری باہر کھلی فضا میں نکلنے سے گریز کریں اور اگر باہر نکلنا ہو تو پھر ناک پر رومال اور منہ پر ماسک پہنیں۔آنکھوں پر سن گلاسز والا چشمہ لگائیں اور جب بھی باہر سے واپس آ ئیں تو آنکھوں کو پانی سے خوب اچھی طر ح دھوئیں۔ گھروں میں یا باہر کھلی جگہوں میں آگ لگانے یا دھواں پیدا کرنے سے گریز کریں۔سموگ کے زہریلے اثرات کو ختم کرنا انسان کے بس سے باہر ہے مگر اس کے اثرات کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

WordPress Blog