انتظارآخرکب تک

Published on September 12, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 27)      No Comments

تحریر:چوہدری عارش سندھو
پاکستان میں جب تک پاکستان تحریک انصاف کی حکومت رہی تب تک نون لیگ اورن لیگ کے سپورٹران مہنگائی کاروناروتے رہے۔اورعوام کوپاکستان تحریک انصاف کے خلاف بھڑکاتے رہے اورکہتے رہے کہ ہمارے دورحکومت میں مہنگائی نہیں تھی اورپاکستان تحریک انصاف کے دورمیں بہت مہنگائی ہے غریب کے ایک وقت کے کھانے کاانتظام بھی محال کررکھاہے۔حالانکہ ن لیگ کی حکومت میں پاکستان جتنامقروض ہوااورجتنازرداری حکومت میں مقروض ہواتھااس کی مثال نہیں ملتی۔ان دونوں پارٹیوں نے بیرون ممالک سے پاکستان کی غربت کاروناروروکرمعیشت بحال کرنے کے نام پرقرض لے لے کراپنی تجوریاں توبھرلیں مگرغریب عوام کوجودیاوہ تھاصرف دھوکا۔ پاکستان معرض وجودسے لی کر آج تک جتنے سیاست دانوں کے ہاتھوں سب سے زیادہ مقروض ہواہے ان میں ن لیگ اورآصف علی زداری کادورحکومت سرفہرست ہے۔نوازشریف نے توایک تقریرمیں واضع طورپراقرارجرم کیاتھاکہ(ہم نے کھایاہے تولگایابھی ہے) پی ٹی آئی کی حکومت آنے تک بچہ بچہ مقروض ہوچکاتھا۔اب پی ٹی حکومت آئی تواسے ملکی معیشت کواپنے پاو¿ں پرکھڑاکرنے کے لیے قرض لیناپڑا۔ اوربہت سے درست فیصلے بھی معیشت کی بحالی کے لیے کیے۔جن میں کامیاب جوان پروگرام،صحت کارڈ،مستحق کے لیے ماہانہ امدادوغیرہ سرفہرست ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بڑے بڑے سرکاری عہدوں پربیٹھے ن لیگ ودیگرجماعتوں کے سپورٹران نے پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ غداری کی اورپی ٹی آئی کے حکومتی بہت سارے احکامات پرعملدرآمدنہ کروایا۔جس وجہ سے زمینداروں کوکھاد،سپرے وغیرہ پرجوسبسڈی ملنی تھی وہ نہ مل سکی۔کیونکہ منافع خوروں نے کھادوغیرہ سٹاک کرکے زمینداروں کومہنگی کھادوغیرہ خریدنے پرمجبورکردیااوریہی حال صحت کارڈکابھی تھاجوزیادہ ترہسپتالوں نے صحت کارڈکوماننے سے ہی انکارکردیا۔یہ توتھی پی ٹی آئی کی حکومت کے فیصلوں پرنچلے درجوں پرغیرعملدرآمدکی صورت حال۔اب اگراعلیٰ درجے کی بات کی جائے توپی ٹی آئی کی حکومت کے تمام ایم این اے ممبران نے بھی دولت کی چمک دھمک کے سامنے آنکھیں موندلیں اوربندآنکھوں سے ن لیگ کواعتمادکاووٹ دے کرکامیاب کر دیا۔اب جناب آگئی نون لیگ کی حکومت جس نے پی ٹی آئی کی حکومت میں عوام کومہنگائی مہنگائی کرکے خودکوعوام کانجات دہندہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی اوردعوئے کیے تھے کہ اگرہم حکومت میں آتے ہیں توسب سے پہلے مہنگائی کم کریں گے۔لیکن اس کے بالکل برعکس کیا۔حکومت میں آتے ہی مہنگائی کومزیدآسمان کی جانب رواں دواں کردیا۔آتے ہی بجلی تقریباًپانچ روپے فی یونٹ مہنگی کردی اوراب نون لیگ کی حکومت ڈیزل کومہنگاکرنے جارہی ہے جس سے ہمیشہ کی طرح مہنگائی کے ظلم کازیادہ شکارہونے والاکسان سب سے زیادہ متاثرہوگا۔ایک بڑامسلہ منافع خوروں کابھی ہے جوہرحکومت میں عوام کودرپیش ہے وہ ہیں منافع خور۔جوریٹ بڑھنے کااندیشہ ہوتے ہی ڈیزل کے شارٹ ہونے کابہانہ بناکراسٹاک کرلیتے ہیں اورزمیندارسمیت تمام عوام خوارہوناشروع ہوجاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیاعوام کاکوئی بھی نجات دہندہ نہیں؟ہرسیاست دان عوام کوسنہری خواب دکھاکرووٹ لیتا ہے لیکن بعدمیں اپنے بیانوں سے مکرجاتاہے کیاکسی بھی حکومت کوعوام کاصحیح معنے میں احساس نہیں؟ہرسیاستدان عوام کوسبزباغ دکھاکربعدمیں اسی عوام پرمہنگائی کاظلم کرکے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہوجاتاہے کیاکسی بھی سیاستدان کوخوف خدانہیں رہا؟ کیاکوئی عوام کومسیحابھی کبھی آئے گاجواپنے دعوے پورے کرئے گایاپھرعوام ایسے ہی سیاستدانوں کے ہاتھوں خوارہوتی رہے گی؟حقیقی معنوں میں نجات دہندہ/عوام کے مسیحا کاانتظارآخرکب تک کرناپڑے گااورآخروہ نجات دہندہ کون گا؟

Readers Comments (0)




WordPress主题

WordPress Blog