ڈائریکٹرمحکمہ زراعت کا کاشتکاروں کے لئے ٹماٹر کی منظور شدہ دیسی اقسام کا اعلان

Published on September 22, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 22)      No Comments

فیصل آباد (یو این پی)کاشتکار ٹماٹر کی منظور شدہ دیسی اقسام روما، نگینہ، پاکٹ اور نقیب جبکہ دوغلی اقسام منی میکر، جیوری، یوکی، ٹی 1359،ایڈن ایف 1،ریڈ چیمپین، ڈومی نیٹر اور فونٹووغیرہ کاشت کرکے بہترین پیداوار حاصل کرسکتے ہیں نیز وسطی پنجاب میں ٹماٹر کی پنیری اکتوبر کے آغاز سے وسط نومبر تک کاشت کی جاسکتی ہے۔ڈویژنل ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری عبدالحمیدنے بتایاکہ پنجاب میں گزشتہ سال 19201 ایکڑ رقبہ پر ٹماٹرکی کاشت کرکے 89269 ٹن پیداوار حاصل کی گئی۔ انہوں نے بتایاکہ ٹماٹر ایک اہم سبزی ہے جس میں غذائیت کے لحاظ سے حیاتین اے،سی، ریبوفلیون، تھایا مین اورمعدنی نمکیات لوہا،چونااور فاسفورس کافی مقدارمیں ہوتے ہیں جو کہ صحت کیلئے مفید ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ٹماٹر سے پلپ، چٹنی، کیچپ اور پیسٹ جیسی مصنوعات بھی تیارکی جاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ٹماٹرکی نفع بخش کاشت میں اس کی مناسب وقت پر کاشت،جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی، نقصان رساں کیڑوں اور نقصان رساں بیماریوں کا کنٹرول زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ٹماٹر کی کاشت کا آب وہوا سے گہرا تعلق ہے اوریہ زیادہ گرمی یا سردی برداشت نہیں کرسکتا۔انہوں نے بتایاکہ ٹماٹر کے پودے 14سے 30ڈگری سینٹی گریڈ پر بہتر نشوونما پاتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ٹماٹر کی دوغلی اقسام زیادہ پیداواری صلاحیت اور لوکل مارکیٹ کیلئے زیاد ہ موزوں ہونے کے باعث کاشتکاروں میں بہت زیادہ مقبول ہیں۔انہوں نے بتایاکہ وسطی پنجاب میں ٹماٹر کی پنیری اکتوبرتا وسط نومبر میں کاشت اور آخر اپریل سے وسط جون تک پیداواردیتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کاشتکار ٹماٹر کی تیارکردہ پنیری کو آخر نومبر سے وسط دسمبر تک کھیت میں منتقل کریں اورایک ایکڑ رقبہ پر ٹماٹر کی کاشت کے لیے 100گرام سے 125گرام بیج اور 4مرلہ زمین پر تیار کی گئی پنیری استعمال کریں۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار پنیری کاشت کرنے کے لیے زمین کو اچھی طرح تیار کریں اور چھوٹی چھوٹی مستطیل نما کیاریاں بنائیں جو زمین سے 10 سے 15سینٹی میٹر اونچی ہونی چاہئیں تاکہ بارشوں کا فالتو پانی آسانی سے نکل سکے۔انہوں نے کہاکہ ان کیاریوں میں ایک انچ کے فاصلے پر ایک سے ڈیڑھ انچ گہری لائنیں لگا کر ان میں ٹماٹر کے بیج کاشت کریں اوران بیجوں کے اوپر پتوں کی گلی سڑی کھاد ڈال دیں۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار نرسری پر نقصان رساں کیڑوں اور بیماریوں کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت توسیع وپیسٹ وارننگ کے عملہ کے مشورہ سے زہروں کا استعمال کریں۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Weboy