آج کے دور میں عورت کو مضبوط ہونے کی اشد ضرورت ہے، غوثیہ عصمت

Published on September 30, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 228)      No Comments

انٹرویو؛ طلال فرحت
پاکستان کی تاریخ میں دیکھا جائے تو خواتین کی بڑی لمبی فہرست ہے کہ جس میں انہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں مختلف شعبوں میں کامیابیاں سمیٹیں، چاہے وہ سیاست کا میدان ہو، فنون لطیفہ ہو، کھیل ہو، طب ہو، آرٹ ہو، مصوری ہو، گلوکاری ہو، اداکاری ہو یا دیگر شعبوں میں خواتین نے اپنا سکہ جمایا، جب سے پاکستان وجود میں آیا شوبز انڈسٹری نے بھی درجہ بدرجہ کافی ترقی کی، اداکاری، صداکاری، لوکیشنز، تدوین، ہدایتکاری،موسیقی، غرض کوئی شعبہ ہو کہیں نہ کہیں اپنا مقام ضرور بنایا، پاکستان میں جہاں اداکاروں کو شہرت اور دولت ملتی ہے وہا ں چند ایسے شعبے ہوتے ہیں جہاں پر شہرت تو مل جاتی ہے مگر دولت کی ریل پیل نہیں ہوتی مگر لگن اور جسجتجو سے سرشار پڑھی لکھی اور باشعور صلاحیت بچیاں اور خواتین کوشش کرتی رہتی ہیں اور کہیں نہ کہیں اپنے ہنر سے پاکستان کا نام بلند کرتی جا ہی ہیں ان ہی میں ایک با ہمت اور بے پناہ صلاحیتیں رکھنے والی گھریلو خاتون محترمہ ”غوثیہ عصمت“ سے آپ کو روشناس کرانے جا رہے ہیں، جن کا تعلق پاکستان کی شوبز انڈسٹری سے ہے اور انہوں نے تین دہائی اس شعبے میں رہ کر اپنی خدمات پیش کیں، میں مزید یہ بتاتا چلوں کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا طویل انٹرویو ہے جسے آپ ان کی زبانی کہے الفاظوں کی صورت میں پڑھ سکیں گے۔انہوں نے گفتگو میں بتایا ”پہلے تو طلال صاحب میں آپ کا اور ادارے کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ آپ نے میرے کیے ہوئے کاموں پر بات چیت کرنے کے لیے وقت نکالا جس کے لیے میں خصوصی طور سے شکر گزار ہوں آپ میرے بارے میں جانتے ہیں کہ میں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور خاتون ہوتے ہوئے بھی میں نے ہر موڑ پر مشکلات اور صعبتوں اور کا سامنا کرتے ہوئے اپنی زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھایا، میں سمجھتی ہوں کہ عورت کے وجود سے کائنات میں رنگ ہیں تو یقینا مرد کے وجود سے تحفظ بھی ہے، میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے اس نے ہمت، حوصلہ اور زمانے کی تند و تیز ہواؤں سے نہ صرف بچا کر رکھا بلکہ جہاں جہاں مشکلات آئیں ان کا مقابلہ کرنے میں مجھے طاقت ور بنایا، چار بچوں کی والدہ بھی ہوں اور گھر گھرستی کے ساتھ شوبز کی دنیا میں ۳۰۰۲؁ء سے ایک نام گرامی پروڈکشن ہاؤس میں بحیثیت پروڈکشن مینجر اور میڈیا مینجرکے فرائض انجام دے چکی ہوں، گولڈ برج میڈیا میں پروڈکشن اور میڈیا مینجر کے فرائض کئی برس تک انجام دیے، کئی سیریلز اور سولو ڈراموں میں اپنی خدمات پیش کیں، ۴۱ سال ”آواز“ ٹی وی چینل پر بحیثیت ایڈمن اور ایچ آر ڈپاٹمنٹ کی پوسٹ پر فائز رہی، آواز چینل کے شہزاد جتوئی صاحب اور فیض بروہی صاحب کی میں انتہائی مشکور ہوں کہ انہوں نے میرے کندھوں پر جو ذمہ داری ڈالی، اسے میں نے بخوشی حسن اسلوبی سے نبھایا یہی نہیں بلکہ گولڈبرج پروڈکشن ہاؤس کے روح رواں جناب سید مختیار احمدصاحب کی بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہر پروجیکٹ میں رہنمائی کی، دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جن میں انسانیت پائی جاتی ہے ایسے ہی فرشتہ صفت انسان ”شہزاد جتوئی“ کے ساتھ ”سید مختیار احمد“ بھی ہیں کہ جن کے دل میں اللہ پاک نے انسان دوست کے لیے ایک نرم گوشہ رکھا ہوا ہے، انہیں میں نے کئی خاندانوں کی مدد کرتے دیکھا ہے اور انہوں نے کبھی بھی اپنی مدد کا کسی کے سامنے دکھاوا نہیں کیا، میری دعا ہے کہ اللہ پاک ان کو صحت و سلامتی کے ساتھ دونوں جہاں میں خوشیاں دے، زمانے کے نشیب و فراز میں اپنے آپ کو زندہ رکھنا مشکل ہے، زندگی کے اس سفر میں اپنے سفر کو جاری و ساری رکھنے کے لیے ماضی میں میں نے ایک سیلون بھی کھولا، جس میں میک اپ کی کلاسز بھی دی جاتی تھیں، میاں بیوی کی مثال گاڑی کے دو پہیوں کے جیسی ہے اورمیرے شوہر نے ہمیشہ میری بڑی ہمت بڑھائی اور آج میں جس مقام پر ہوں اس پر ان کا بھی بڑا ہاتھ ہے، ایک وقت ایسا بھی آیا جب میرے کام کرنے پر انگلیاں اٹھائی گئیں مگر میرے شوہر اور میرے شوبز کے سینئرز نے میری ہمت بندھائی اورمجھے ان پر پیچ راستوں سے نکال کر ایسے مقام تک پہنچا دیا جس کی خواہش ہر خاتون کو ہوتی ہے اس سلسلے میں میری سوچ یہ ہے کہ اگر آپ کی سوچ مثبت ہے تو یقینا آپ کے لیے کامیابی قدم چومے گی ورنہ دوسروں پر انگلی اٹھانے پر آپ کا اپنا ہی نقصان ہے، ۸۰۰۲؁ء میں بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنی”کرسٹین“ نے میک اپ کامقابلہ رکھا جس میں مجھے الحمدوللہ ”گولڈ سیٹ“ کے ساتھ کئی انعامات سے نوازا اور یوں اس میں میری پہلی پوزیشن آئی، نیز انڈس ٹیلی وژن نیٹ ورک سے بھی مجھے میرے کام پر ایوارڈ مل چکا ہے اور کئی اداروں سے سرٹیفکیٹس بھی حاصل کیے، میں یہ بتاتی چلوں کہ مجھے ادب سے بہت لگاؤ رہا اس سلسلے میں میں نے باقاعدہ آرٹس کونسل سے اردو ادب سیکھا اورساتھ ہی تھیٹر بھی کیامنٹو کے ڈرامے ”لاجونتی“ پر اور خاص کر ”وہم“ پر بیماری”سنگولائٹس“ پر مبنی ایک خصوصی کھیل کیا،خصوصی طور پر اردو کانفرنس کے لیے فیض احمد فیض صاحب (مرحوم) کا لکھا ہوا”یہ گلیوں کے آوارہ کتے“ میں بھی پرفارم کیایہی نہیں بلکہ چند ڈراموں اور سیریلز میں اداکاری بھی کی، پانچ سال تک مختلف چینلز کے لیے گولڈبرج پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے رمضان ٹرانسمیشن میں سماجی مسائل پر مبنی ڈراموں کے سلسلے میں اپنی خدمات پیش کیں، میں نے پاکستان میڈیا انڈسٹری کے لیے کئی سیریلز میں بحیثیت پروڈکشن مینجر اور میڈیا مینجراپنی خدمات دیں ان سیریلز میں چادر،دامن، جھومر، چڑیا میرے آنگن کی، دل نواز، بدگمان،دو نیناں،زمین پر نکلاچاند،انتہا، پیسہ پاپا اور پیار سمیت نجانے اتنے سالوں میں کتنے ایسے ڈرامے ہیں جن کے مجھے اب نام یادنہیں رہے، سیریل میں ”نیلی شرٹ کے دو بٹن“ میں ملکی و غیر ملکی گلوکار و اداکار”علی حیدر“کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جسے میں اپنی زندگی کا یادگار سیریل کہہ سکتی ہوں،ایک اور یادگار سیریل ”گناہ“ تھا جو میگا پروجیکٹ تھا،اس کا اسکرپٹ ایدھی سینٹر میں رہنے والی خصوصی خواتین کی کہانی پر مبنی تھا اور اس سیریل کوخصوصی ”ایوارڈ“ سے بھی نوازا گیا، میں بتاتی چلوں کہ میں نے کمرشلز بھی بہت کیے جن میں چند کے نام یاد ہیں ان میں اوایل ایکس کا پہلا کمرشل،وارد نیٹ ورک،اسٹائلو،روفی بلڈرز کے علاوہ کئی دوسرے بلڈرز کے اشتہارات میں اپنی خدمات پیش کیں، میں نے زندگی سے کبھی شکوہ نہیں کیا، اللہ نے ہمیں زمین پر بھیجا ہے تو یقینا کوئی وجہ ضرور ہوگی تو میں اللہ کا شکر ہمیشہ اور ہر وقت ادا کرتی ہوں کہ اس نے سانسیں اس لیے دی ہیں کہ ہم اپنے عمل اور اپنے ادا کیے ہوئے کلمات سے کسی کی زندگی میں روشنی کر سکیں، اس کا کاندھا بن سکیں، ساتھ چل سکیں اور اس سفر میں یقینا وہ ہمیشہ ساتھ چلتے چلتے جب اس دنیا سے رخصت ہوگا تو دوسرے جہاں میں وہ ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھول چکا ہوگا اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ جب ہم اپنی زبان، اپنے کلمات، اپنے ہر اچھے عمل سے دنیا میں رہ کرانسانوں کے لیے کر جائیں، وقت کبھی کسی کے لیے نہیں ٹہھرتا، ٹہھرتے وقت کو ہمیں خود کو قابو کرنا ہوتا ہے اور کامیابی اسی صورت میں آپ کا استقبال کرتی ہے کہ جب آپ ہمت، لگن اور جسجتجو سے میدان میں دوڑتے ہوئے سب کو اپنے ہنر اور عمل سے ہرا کر اس در تک پہنچتے ہیں جہاں آپ کی کامیابی بانہیں پھیلا کر کا دروزہ کھولے رکھتا ہے، آخر میں اپنے چند لفظوں میں صرف یہی کہوں گی کہ اس دور میں عورت کو مضبوط ہونے کی اشد ضرورت ہے، بشرطیکہ اس میں حوصلہ، بلند عزائم اور کچھ کر گزرنے کی تمنا ہو، میں ان خوش نصیب خواتین کی فہرست میں شامل ہو گئی ہوں جن کو آج تک لوگ ان کی محنت اور کامیابی پر سرہاتے ہیں، ان کے لیے لکھتے ہیں اور ان کے الفاظ تاریخ کا حصہ بنتے ہیں بالکل اسی طرح آج پہلی بار میرے الفاظ تحریر کی صورت میں صفحے پر بکھریں ہیں، جو یقینا کسی نہ کسی لڑکی یا خاتون کے لیے مشعل راہ بنیں گے، اسی دعا کے ساتھ کہ اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress Themes