فلم”ہوٹل“ میں انشولہ دیوی کے کردار کو میں زندگی بھر نہیں بھلا سکتی، اداکارہ نسرین جون

Published on October 28, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 182)      No Comments

کردار کوئی چھوٹا نہیں ہوتابلکہ اس کردار سے اپنی پہچان بنانا بہت بڑی بات ہوتی ہے، ”ہوٹل“ فلم کا کردار انشولہ دیوی
پاکستان میں اقلیت کو جتنی آزادی دی ہے، اس کے لیے میں حکومت کی شکر گزار ہوں، ٹی وی و فلمی اداکارہ نسرین جون
تحریر؛ طلال فرحت
پی ٹی وی ہی وہ واحد درسگاہ ہے جہا ں سے کوئی بھی سیکھ کر اپنے لب و لہجے، باڈی لینگویج، کرادروں کی پلیسنگ اور ملبوسات کو زیب تن کرانے میں استاد کا درجہ رکھتا ہے“، یہ بات پاکستان کی پہلی سائکو تھرلر فیچر فلم ”ہوٹل“ کی سینئر اداکارہ نسرین جلیل نے گفتگو میں کہی، انہوں نے زندگی کی دو دہائی شوبز کو دیے،اپنے تجربے اور رویے سے انڈسٹری میں لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی،اپنا شوبز کاسفرپاکستان ٹیلی وژن کے کراچی سینٹر سے ڈرامے اور سیریلز میں درجہ بدرجہ چھوٹے کرداروں سے بڑے کردار تک اداکر کے کیا، اقلیتی طبقے سے تعلق ہے، نہایت بردبار، ملنسار، اور بذلہ سنج ہیں،پاکستان میں اقلیت کو جتنی آزادی دی ہے، اس کے لیے وہحکومت کی شکر گزار ہیں، تبدیلی چاہتی ہیں مگر مثبت انداز میں، تاکہ زمین پر رہنے والوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے، ان کے کہنے کے مطابق پی ٹی وی سے کوئی کچھ بھی نہ سیکھ کر جائے، ایسا ممکن نہیں، پاکستان میں اداکاری اور پروڈکشن سیکھنے کے لیے اس سے بڑی کوئی درسگاہ نہیں، میڈیا انڈسٹری میں پی ٹی وی ہی وہ واحد درسگاہ ہے جہا ں سے شوبز کی دنیا کی تعلیم حاصل کر سکتا ہے، پی ٹی وی کے مایہ ناز پروڈیوسرز کی کامیابیاں کسی سے چھپی نہیں، شہزاد خلیل، شعیب منصور، محسن علی،قاسم جلالی، نصرت ٹھاکر، یاور حیات، طارق جمیل،محمد بخش سمیجو، ہارو ن رند،ناظم الدین، علی رضوی، ساحرہ کاظمی پی ٹی وی کی تاریخ کا حصہ ہیں،کتنے ایسے سینئر پروڈیوسرزہیں جنہوں نے نیشنل و انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کیے، ان کی خوش قسمتی کہ وہ بھی اسی صف میں شامل ہیں جو انٹرنیشنل ایوارڈ کی کیٹاگری میں رہ چکے ہیں، انہوں نے پاکستان کی پہلی سائکو تھرلر فیچر فلم ”ہوٹل“ میں ایک ہندو کردار ”انشولا دیوی“ کا ادا کیا جوکہ ایک پامسٹ کا تھا، ”ہوٹل“ فلم نے ہندوستان کے بین الاقوامی فلمی میلے میں ”دو بہترین ایوراڈ“ چار سو سے زائد فلموں کے مقابلے میں حاصل کیے،گروپ بندی سے متعلق ان کا یہ کہنا تھا کہ آج کل شوبز میں تعلقات سے کام مل رہا ہے، آپ کی جتنی اچھی جان پہچان ہے، وہیں اچھا کام ملے گا، اب ٹیلنٹ سے زیادہ لوگ اپنی پی آر کی بناء پر کام حاصل کر رہے ہیں، انہوں نے ”پس آئینہ“کے پروڈیوسر ہارون رشید نے اے ایس آئی کے کردار کو متعارف کر ایا، وہ جب بھی کہیں باہر جاتی ہیں، سب لوگ انہیں ”پولیس والی“ کا وہی کردار سمجھتے ہیں اور اور حقیقت میں انہیں اے ایس آئی سمجھتے ہیں، جب خواتین و حضرات ان سے آکر بات چیت کرتے تب ان کواحساس ہوتا کہ واقعی کردار کوئی چھوٹا نہیں ہوتابلکہ اس کردار سے اپنی پہچان بنانا بہت بڑی بات ہوتی ہے، انہوں نے ”کچا گھڑا“ اور”جلن“ میں جاندارکردار کیا اور وہ کردار آگے چل کر ان کی پہچان بھی بنا، ماضی میں وہ بیوٹیشن بھی رہ چکی ہیں ان کے مطابق گھر کے باورچی خانے کو بھی چلانا ہے مگرانہوں نے اداکاری کو کبھی پروفیشن نہیں بنایا،انہیں کام کرنے کا شوق ہے اور اچھے لوگوں سے ملنا پسند ہے،ان کے ڈراموں میں ”پچھتاوا“، ”اوئے موٹی“، ”بھید“، ”تیرے نال لو ہو گیا“، ”مشکل“، حبس،اور”گمشدہ محبوبہ“ ہیں، فلم ”ہوٹل“ میں یادگار کرادار ادا کیا اور ”ہوٹل“فلم نے دو بین الاقوامی ایوارڈ بھارت سے حاصل کیے، فلم میں کردار’انشولا دیوی“ ایک (ہندو نجومی) ”پامسٹ“کا تھا،بقول ان کے کہ اس جیسا کردار آج تک کہیں ادانہیں کیا، ان کی خواہش ہے کہ اس جیسا کردار ملے تو وہضرور اسے اداا کریں گی ان کے نزدیک کردار ہمیشہ ذہنوں پر نقش چھوڑ تا ہے، اللہ کا شکر ہے کہ میرے ہر کردار میں الگ انداز اور نقش نظر آتا ہے جس کے لیے میں تمام ہدایتکاروں کی مشکور و ممنون ہیں، چاہے ٹی وی ڈرامہ یا سیریل ہو یا فلم ہو پروڈیوسرز اور گورنمنٹ کو چاہیے کہ اداکاروں کی بہبود کے لیے ایک ایسا فنڈ ترتیب دیں جو انہیں رائلٹی کی صورت میں ملتا رہے اس طرح سے کوئی بھی سفید پوش فنکار کبھی بھی مانگنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گا ان کے کہنے کے مطابق کرکٹ کے میچز پر لاکھوں نہیں اربوں روپیہ لگا دیا جاتا ہے وہ چند دنوں کے لیے، مگرڈرامہ یا فلم مہینوں چلتی ہے، وہثمینہ احمد، فریال گوہر، خالدہ ریاست، عظمی گیلانی، طاہرہ واسطی اور عتیقہ اوڈھو کی اداکاری سے متاثرہیں،کیونکہ یہ سب پی ٹی وی سے سیکھ کر ترقی کی راہ پر ابھی تک گامزن ہیں اور اس سیکھنے کے عمل کی وجہ سے یہ سب ہمارے دلوں میں اور ذہنوں میں آج تک یاد ہیں،ان کی خواہش ہے کہ سب اداکارشوبز سے تعلق رکھنے والی مرحوم ہستیوں کے ان کے اہل خانہ سے جاکرملیں،آج وہ ہم میں نہیں مگر ان کا کام اور ان کی یادیں تو ہماے ذہنوں میں تو یاد ہیں،ان کے گھر جا کر اپنے ساتھ ہونے کا احساس دلائیں اور میں سمجھتی ہوں یہ آپ کی وہ چھپی نیکی ہے جسے اللہ ضرور پسند کرے گا، نسرین جون سے ملاقات کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ وہ صرف اداکارہ ہی نہیں بلکہ وہ اچھی انسان بھی ہیں جن کے دل میں کسی کے لیے درد ہے، اپنائیت ہے، احساس ہے، جنہیں وہ اپنے اندر سمو کر ان کے بارے میں سوچتی ضرور ہے، آج کے اس نفس نفسی کے دور میں بھلا کسی کے بارے میں کون سوچتا ہے، وقت کی ضرورت یہی ہے کہ ہم کسی کے ساتھ اچھا کریں گے تو یقینا آگے ہمارے ساتھ کوئی اچھا کرے گا۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

WordPress Themes