پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے سب سے زیادہ ٹیلی فلمز پروڈیوس کرنے والے دورِ حاضر کے واحدپروڈیوسر خرم عزیز

Published on November 1, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 220)      No Comments


اگر حروف تہجی سے پی ٹی وی کے نامور پروڈیوسرزکے نام لکھنے بیٹھیں تو الفاظ کا ذخیرہ ختم ہوجائے

پاکستان ٹیلی وژن نے جب سے آنکھ کھولی، اس وقت سے اب تک نجانے کتنے لوگوں نے اس پلیٹ فارم سے عروج پا چکے ہیں
تحریر و تحقیق؛ طلال فرحت

چھبیس نومبر1964ء میں جب سے پاکستان ٹیلی وژن نے ہوا کے دوش پر اپنی آنکھ کھولی، اس وقت سے اب تک نجانے کتنے لوگوں نے اس پلیٹ فارم سے عروج پا چکے ہیں، اگر حروف تہجی سے ان لوگوں کے ساتھ پی ٹی وی کے کارکنان کے نام لکھنے بیٹھیں تو الفاظ کا ذخیرہ ختم ہوجائے، الف سے ے تک تمام محنتی کارکنان، اداکار، اداکارائیں،پروڈیوسرز،پروگرام اسسٹنٹ، انجینئرز، کیمرہ مین، سیٹ ڈیزائنرز، ٹیکنیکل اسٹاف، میک اپ، وارڈروب نیز ہر شعبے کے نام اس فہرست میں پنہاں ہیں، میں یہ اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ میں نے بھی اپنے زندگی کے تینتیس قیمتی سال ادارے کو دیے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان ٹیلی وژن صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک مستند یونیورسٹی ہے جہاں پر وہی لوگ آکر کام کوسیکھتے ہیں جن کو جستجو اور کچھ کر گزرنے کی لگن ہوتی ہے، وہ یہاں سے اپنے سینئرز سے ٹریننگ لیتے اور پھر اپنے اپنے شعبوں میں جاکراپنے اندر چھپے فن کو دنیا کے سامنے لا کر داد سمیٹتے ہیں، یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کے پروگرام اور ڈراموں کے ماحول کی بہتری عکاسی کو اسکرین پر پیش کرنے کے لیے اسٹوڈیوز کی چھت تلے سب کچھ مہیا ہو جاتا ہے،یقینا اس کا سہرا پی ٹی وی کی انتظامیہ کو ہی جاتا ہے، ڈرامہ چاہے کوئی ہو کسی موضوع پر ہو پاکستان ٹیلی وژن کے کہنہ مشق کارکنان اسے اتنے خوبصورت انداز سے سجاتے ہیں کہ دیکھنے والے کو حقیقت کا گمان ہوتا ہے، سیٹ چاہے جہاز کا ہو، یا ٹرین کا، پُرتعیش گھر کا ہو یا گاؤں کا، شاہراہ ہو یا کسی گلی کا اندورونی منظر غرض زندگی میں عام نظر آنے والے نظاروں اور ماحول کی عکاسی کرنے میں پاکستان ٹیلی وژن اور ٹیلنٹڈ کارکنان کا ثانی نہیں،دیکھا جائے تو ماضی کی کوئی معرکۃ الآراء سیریل اور پروگرامز ایسے نہیں کہ جن کی تعریف نہ کی جائے، خدا کی بستی، پرچھائیں، ان کہی، تنہائیاں، روزی، وارث، آہٹ، زینت،مینا بازار، نیلام گھر، ہوائیں، سسرال،افشاں،ٹیلی تھیٹرز، رنگ ترنگ، آبگینے،ٹیپو سلطان،عید ٹرین، سیاسی شوزاور نجانے کتنے ایسے سیریلز اور پروگرام ہیں کہ جنہیں دیکھنے والا آج تک بھلا نہیں سکا، پی ٹی وی میں کام کے حوالے سے کی شعبے بٹے ہوئے ہی،ان شعبوں میں ایک خاص شعبہ ”پروڈیوسر“ کا بھی ہوتا ہے اور وہ”کیپٹن آف دا شپ“ ہوتا ہے، اس کے کندھے پر اس کھیل یا پروگرام کو کرنے کی ذمہ دای ہوتی ہے جو اپنے قریبی ساتھیوں کی مدد سے اسے پایہ ء تکمیل تک پہنچاتا ہے، ابتدا میں پاکستان ٹیلی وژن کے کہنہ مشق پروڈیوسرز میں بڑے بڑے نام شامل رہے ہیں کہ جنہوں نے اپنی خوبصورت پروڈکشنزکے ذریعے اپنے دیکھنے والوں کو اتنے خوبصورت ڈرامے، سیریلز، دستاویزی پروگرام دیکھنے کو دیے کہ جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر نہ صرف انہیں پذیرائی حاصل ہوئی بلکہ انعامات و اعزازات کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری رہا اور تا حال آج تک جاری ہے، ان نامی گرامی پروڈیوسرز کی فہرست میں جناب یاور حیات، محمد نثار حسین، قاسم جلالی،عارف رانا، شہزاد خلیل، علی رضوی، ناظم الدین، محسن علی، منظور مگسی، محمد بخش سمیجو،ہارون رند، عبدالکریم بلوچ،شعیب منصور،ساحرہ کاظمی،منیزہ ہاشمی، حیدر امام رضوی، سجاد احمد، دوست محمد گشکوری اور دیگر پروڈیوسرزشامل ہیں، ان نامور ہستیوں میں بیشتر پرڈیوسر ز اس دنیا میں نہیں مگر ان کا کیا ہوا کام اور نام آج بھیہم سب کے دلوں اور ذہنوں میں زندہ ہے، پاکستان ٹیلی وژن کے یہ وہ مضبوط ستون تھے،جن کا نام آج بھی بڑے فخریہ انداز سے لیا اور لکھا جاتا ہے،2005ء میں پاکستان ٹیلی وژن نے نئی نسل کے پروڈیوسرز کو اپنے بیڑے میں شامل کیا ان پروڈیوسرز میں سے ایک پروڈیوسر ”خرم عزیز“ بھی ہیں آج کل وہ پی ٹی وی کراچی مرکز پرپروڈیوسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں،خرم عزیز سے میری شناسائی کئی سالوں سے ہے، مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ خرم عزیز سے میری ملاقات سترہ سال قبل پی ٹی وی کراچی مرکز کے اسٹوڈیوبی میں ہوئی تھی، جب وہ ایک معلوماتی پروگرام معروف اینکر عمران شیروانی کے ساتھ پروڈیوس کر رہے تھے، سیٹ پر اپنے تجربے کی روشنی میں سیٹ ڈیزائنر سے معلومات شیئر کر رہے تھے، یوں اس نوجوان، اینرجیٹک اورملنسار طبیعت رکھنے والے خرم نے میرا دل جیت لیا، آج میراسترہ سال بعد خرم عزیز کے لیے کچھ لکھنے کا دل کیا یوں میں نے اپنے طور سے خرم عزیز کی محنت کو جمع کیا جسے آپ تک پہنچا رہا ہوں اور اس تحریر کو لکھنے کی خاص وجہ صرف یہ تھی جو میں نے محسوس کی کہ اب تک نئے پروڈیوسرز میں پاکستان ٹیلی وژن کے کراچی مرکز سے سب سے زیادہ ٹیلی فلمز پروڈیوس کرنے والے دورِ حاضر کے واحد پروڈیوسر ہیں،کراچی کے رہائشی ہیں، کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا ہے یوں انہوں نے پی ٹی وی میں نوکری کے سلسلے میں باقاعدہ امتحان پاس کرنے کے بعد ہیڈکواٹر سے تربیت حاصل کی اور یوں پروڈیوسر کے شعبے سے منسلک ہوگئے،اپنے سینئرز کا دل و جان سے احترام کرتے ہیں، کئی سینئرز اور منجھے ہوئے پروڈیوسرز کے ساتھ بحیثیت ایسوسی ایٹ پروڈیوسرمختلف شوز اور سیرلز سمیت کئی پروگرامز میں کام کر کے بہت کچھ سیکھ چکے ہیں، انہوں نے پی ٹی وی کراچی مرکز سے شوز،سیاسی و مذہبی پروگرام، ٹیلی فلمز،سیریلز اور سولو پلیز پروڈیوس کر چکے ہیں، ان کی پروڈیوس کی ہوئی ٹیلی فلمز کی ایک لمبی فہرست ہے،مشہور و معروف ومتعدد ایوارڈ یافتہ تحریر نگار جناب اصغر ندیم سید کی تحریر”وفا کے مسافر“ پاکستا ن ٹیلی ویژ ن کے کہنہ مشق رائٹر جناب منظر امام کی ”سویرا“ بابر جمال کی ”جانے بھی دو یارو“،کلیم کاظمی کی ”جو یوں ہوتا“ اور”خالی دام“، ڈرامہ رائٹر محمود مغل کی ”ابا نے ہمارے لیے کیا کیا“، رحمت اللہ کی تحریر”اگر“ قابل ذکر ہیں، جبکہ مزاحیہ سیریز ”ففٹی ففٹی“ بھی ان کی محنت میں شامل ہے، ڈرامہ سیریل”اگر اعتبار ہوتا“ اور”سوچو تو ذرا“ کے نام قابل ذکر ہیں، یہی نہیں پی ٹی وی کی مارننگ ٹرانسمیشن”رائز اینڈ شائن“ کے کئی شوز براہ راست پیش کیے، پی ٹی وی کی روایت ابتداء سے یہ رہی کہ ہر موقع اور فیسٹیول کی مناسبت سے پروگرام تیار کرانا مشن رہا ہے اسی لیے کئی”رمضان المبارک کی ٹرانسمیشن“ اور مذہبی دنوں کے حوالے سے شوز،خصوصی ٹرانسمیشن، حمد باری تعالی، نعت رسول مقبول ﷺ اور دیگر پروگرامز پروڈیوس کر چکے ہیں،کئی مستند اور منجھے اداکاروں کے ساتھ کام کیا جن کی ایک طویل فہرست ہے مگر ان میں چیدہ چیدہ پاکستان ٹیلی وژن کے ابھرتے ستارے جناب طلعت حسین، جاوید شیخ، اسماعیل تارا، اشرف خان،نائلہ جعفری، خالد انعم،شہزاد رضا،عائشہ خان، وکیل فاروقی،نذر حسین،ذاکر مستانہ، اورنگزیب لغاری،عصمت زیدی،نازلی نصر،قاضی واجد،ذوالقرنین حیدر،ماجد جہانگیر، زیبا شہناز، خالد ظفر اور دیگر ستارے شامل ہیں، میراجب بھی خرم سے سامناہوتا ہے تو مجھے ان کی کہی ہوئی کئی سال پرانی بات یاد آجاتی ہے ”کچھ الگ کام کرنے کی خواہش ہے،“ یوں دیکھا جائے تو پروڈیوسرز کی فہرست میں سب سے زیادہ ٹیلی فلمز کرنے والے پروڈیوسر بن کر کچھ الگ تو کر گئے ہیں، حرف آخر دعا ہے کہ جس طرح سے روز اول سے پی ٹی وی نے اپنے سفر کو محنت اور محبتوں کے ساتھ جاری کیا تھا اور ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتا چلا آیا، اسی طرح مستقبل قریب میں بھی انہی محنتی، ہونہار اور مستند کارکنان سے یہ سفر جاری رہے

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Themes