قاسم سلیمانی کی شہادت

Published on January 3, 2023 by    ·(TOTAL VIEWS 57)      No Comments

تحریر۔۔۔ میر افسر امان
بیس سو تئیس کا جنوری کا مہینہ ہے اورسپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھی ابو مہدی المہندس اور ان کے ساتھیوں کے قتل کی تیسری برسی ہے۔ان کو ایک امریکی ڈرون کے ذریعے شہید کر دیا گیا تھا۔
ایک زمانہ تھا کہ دنیا میں جنگل کا قانون تھا۔ان کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک کمزرو جانور بکری کے بچے کو شیر کا ہڑپ کرنا تھا تو اس پر الزام لگایا کہ کی توں نے میرے پینے کے پانی کو کو خراب کر دیا ہے۔بکری کے بچے نے کہا شیر صاحب میں دریا کے پانی جو آپ کی طرف سے نیچے بہہ کر آرہاہے پی رہا ہوں۔ آپ تو اوپر والی جگہ سے پانی پی رہے ہیں۔آپ کا پانی کیسے خراب ہو گیا۔ شیر نے کہا بدتمیز! خاموش اور بے چارے کمزور بکری کے بچے کو ہڑپ کر لیا۔شاید اسی کو جنگل کا قانون کہتے ہیں۔کہ جس کا زور اس کا قانون۔پھربے انتہا غیر قانونی قتل وغارت کے بعد دنیا میں پھرجدید دور آیا تو دنیا نے برابری کی بنیادپر قانون متعارف کرایا۔یورپ میں جنگ عظیم میں کروڑوں انسانی جانوںکے قتل و غارت بعد لیگ آف نیشن بنی۔اس کے بعد ساری دنیا کو شریک کرکے دنیا کے ملکوں کی ایک اقوام متحدہ بنائی گئی۔ مگر پھر بھی جس کا زرو اس کی بات ماننے کا رواج چل رہا ہے۔ہاں طاقت ور طبقوں نے نماشی قصے کہانیاں بھی کھڑیںکی ہوئی ہیں۔مگر پھر بھی دنیا میں طاقت ورملکوںکا قانون اور ہے اور کمزروں کا قانون اور۔ مظلوم فلسطینی اور کشمیری اسی کی زد میں ہیں۔
کہیں پڑھا تھا کہ قانون نام ہے کچھ رعائیتوں کا جو طاقت ورکمزورں کو دیتے ہیں۔ قانون توواقعی طاقت وروں کا ہے۔ یہ اقوم متحدہ کا جو ادارہ ہے اس میں پانچ بڑی طاقتوں نے اپنی اپنی اجارا داری یعنی ویٹو پاور قائم نہیں کیا ہوا؟۔ کس بھی معاملہ میں اگر کسی ایک بھی فریق کو وہ بات پسند نہ آئے تو اس میں وہ ویٹو پاور استعمال کرتا ہے تو وہ قانون منظور نہیں ہو سکتا۔اسی اقوام متحدہ کے تحت انصاف کی ایک عالمی عدالت انصاف(آئی سی سی) بھی قائم ہے۔ جس میں کسی بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کی جا سکتی ہے۔ مگر دنیا میں من مانیاں کرنے کے لیے ان میں بھی نیو ورلڈ آڈر والے امریکہ بہادر بیس برس قبل فرار ہو گیا تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھی ابو مہدی المہندس اور ان کے ساتھیوں کی تیسری برسی کے موقعہ پر ایک بیان جاری کیا ہے کہ وہ اس کھناونے دہشت گردانے اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے۔اقوام متحدہ کے رکن ملک کے ایک سرکاری اور اعلیٰ فوجی عہدیدار کے خلاف دہشت گردی کی کاروائی بین الاقوامی قانون، جینوا کنونشن اور فوجی رسم و رواج ااورضوابط کی صریح خلاف ورزی تھی۔یہ اقدام جرم اور جارحیت کا عمل ہونے کے ناطے دنیا اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے بہت بڑاخطرہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ بہادر نے پاکستان کے اندر دو پاکستانیوں کو دن دھاڑے قتل کرنے کے جرم میں قید ریمنڈ ڈیوس کو پاکستان سیاسی حکومت پر دباﺅ ڈال کر رہا کرواکر ایک چارٹڈجہاز میں بیٹھا کر امریکہ لے گیا تھا۔ اس سے قبل ایمل کانسی کو بھی پاکستان سے گرفتار کر کے امریکا لے گیا ۔وہاں اس پر مقدمہ چلا کر موت کی سزا سنا کر پھانسی دے دی تھی۔ڈاکٹر عافیہ صدیقہ کے بغیر کسی جرم ثابت ہوئے 86 سال کی سزا سنائی۔ جو ا ب بھی امریکا کا اندر جیل میں سزا کاٹ رہی ہے۔عراق پر حملہ کرنے کے لیے اپنے خفیہ ادارے کی غلط رپورٹ پر عراق کو تباہ برباد کر دیا۔ اُسامہ بن لادن کے بہانے ہمارے مسلمان اور پڑوسی ملک افغانستان کو تورا بورا بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر اسے عبرت ناک شکست سے فاقہ مست افغان طالبان سے دلائی۔
اسلامی دنیا آپس کے جھگڑوں میں پھنسی ہوئی ہے۔ امریکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر کمزور کرتا رہتا ہے۔ مسلمان کمزور سے کمزرو تر ہوتے جارہے ہیں۔اسی پر حکیم الامت ،شاعر اسلام، شاعر مشرق ،فلسفی شاعر حضرت علامہ شیخ محمد اقبال ؒ نے کہا تھا:۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضیفی کی سزا مرگِ مفاجات
اسلامی جمہوریہ ایرن اور اسلامی دنیا کو ضیفی سے نکل کر طاقت حاصل کرنا چاہےے۔تاکہ ایسے واقعات بار بارجنم نہ لیں۔ مسلمانوں کو اپنی لیگ آف نیشن بنانے چاہےے۔ اس طرح وہ
اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔مسلمان جب مسلمان تھے تو اسی دنیا کے معلوم چار براعظموں میں سے پونے چار براعظموں پر بارا سو سال حکومت کی تھی۔ ابھی کچھ دور کی بات نہیں ایک صدی کی بات ہے۔ ۲۳۹۱ ترک عثمانی دنیا پر حکمران تھے۔ اس وقت وہ مسلمان تھے۔ جب اسلام سے ہٹ کر سیکولر بنے۔ تو اسلام نے بھی ان کو چھوڑ دیا۔ بقول علامہ اقبالؒ:©۔
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثُریا سے زمیںپر آسمان نے ہم کو دے مارا
مسلمانوں کے عروج کے زمانے میںمسلمانوں نے کسی غیر مسلم کے ساتھ ایسے مظالم نہیںکیے ۔جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھی ابو مہدی المہندس اور ان کے ساتھیوںکے ساتھ کیا۔مسلمان جب کسی سے جنگ کرتے تھے تو پہلے اس کو اسلام کی دعوت دیتے تھے کہ اسلام لے آﺅ آپ اسلامی برادری کے ایک رکن بن جائیں گے۔اگر یہ منظور نہیں تو جذیہ دو ہم اس کے عوض آپ کی حفاظت کریں گے۔ اگر یہ بھی منظور نہ ہو توایک دن جنگ کا طے کرلو کہ حق اور باطل کا فیصلہ ہو جائے۔مسلمانوںنے کبھی چھپ کر کسی پر حملہ نہیں کیا۔جیسا امریکا نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھی ابو مہدی المہندس اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا۔ بلکہ مسلمان مظلوم کے ساتھ تھے۔ ظالم کے ساتھ نہیں تھے۔ اس لیے دنیا کے قومیں اپنے حکمرانوں کے ظالم سے تنگ ہو کر اسلام کے پر امن اور شانتی والے مذہب میں شامل ہوتی گئیں۔
جہاں تک اسلامی جمہوریہ ایرن کی بات ہے تو خمینی ؒ نے ایک بار پھر سے اسلام کی طرف روجوع کیا اور نیا نعرہ دیا تھا لا شرقیا لاغربیا۔۔۔ اسلامیہ اسلامیہ۔ اس نعرے میں کشش تھی۔ وہ ایرن جو ایشیا میںامریکی میں پولیس مین تھا ۔وہ واپس اپنی میراث اسلام کی طرف گامزن ہوا تھا۔ مگر شروع دن سے امریکا نے اس کو سانس نہیں لینے دیا۔ اس کے اسلامی انقلاب کے خلاف سازشیں کیں۔ پہلے اپنے سفارت خانے میں قید اپنے عملے کو کمانڈو ایکشن کر کے چھوڑوانے کی کوشش مگر منہ کی کھائی۔ اس کے جہاز صحرا میں ہی ایک دوسرے سے ٹکڑا کو تباہ ہو گئے۔پھر عراق کو ایران سے لڑا دیا۔ کئی سال جنگ ہوتی رہی۔پھر ایران کے ایٹمی پروگرام کے پیچھے پڑھ گیا۔ مغربی اتحادیوں کو ملا کر ایران پر پابندی لگائی ہوئی ہیں۔مگر بہادر ایرانی اب تک ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس ظالم امریکا کو ان شاءاللہ منہ کی کھانی پڑے گی۔اسلامی جمہوریہ ایران سرخ روح گا۔ ناکامی امریکا کا مقدر بنے گی۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Free WordPress Theme