بدلتے موسمی حالات کے پیش نظر دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ سے نہ صرف غذائی تحفظ کا حصول ممکن ہو گا اورملکی معیشت کواستحکام حاصل ہو گا

Published on January 31, 2023 by    ·(TOTAL VIEWS 56)      No Comments

فیصل آباد (یو این پی/ایم ایس مہر)دھان پاکستان کی اہم ترین فصل ہے یہ ملکی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ زرمبادلہ کے حصول کا اہم ذریعہ بھی ہے۔پاکستان کو دنیا میں چاول برآمد کرنے والے ممالک میں اہم مقام حاصل ہے اور یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ گزشتہ سال دھان کے زیر کاشت رقبہ میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال پنجاب میں 65 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر دھان کی فصل کاشت کی گئی۔جس سے 60 ہزار ٹن سے زائد پیداوار حاصل ہوئی اور دھان کی برآمد سے اربوں ڈالر زر کا قیمتی زرمبادلہ کا حصول ممکن ہوا۔ حکومت پنجاب چاول کی پیداوار میں اضافہ اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے قومی پروگرام پر بھی عملدرآمد جاری ہے۔ اس پروگرام کے تحت دھان کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کے لیے کاشتکاروں کو فنی رہنمائی اور ترغیبات فراہم کی جارہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل زراعت (فارم اینڈ ٹریننگ)، پنجاب، ڈاکٹر اشتیاق حسین نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں پیداواری منصوبہ برائے دھان 2023-24کی منظوری بارے منعقد اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔سینئر سائنٹسٹ، رائس ریسرچ انسٹیٹیوت کالا شاہ کاکو، نیلم شہزادی نے اجلاس میں بتایا کہ حکومت پنجاب میں کاشت کیلئے دھان کی نئی منظور شدہ باسمتی اقسام۔2021ایرومیٹک،نبجی باسمتی2020، سپر باسمتی،سپر گولڈ، شاہین باسمتی، کسان باسمتی، چناب باسمتی، پنجاب باسمتی، نیاب باسمتی2016,اور باسمتی ہائبرڈ کے ایس کے111ایچ اور غیر باسمتی فائن قسم پی کے۔386کے علاوہ موتی اقسام اری۔6، کے ایس۔282، کے ایس کے۔133، نیاب اری۔9، کے ایس کے۔434،نبجی جی ایس آر۔6اور موٹی اقسام کی منظور شدہ مختلف ہائبرد اقسام متعارف کروائی ہیں۔ ان اقسام کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے متعلق کاشتکاروں کی فنی رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈاکٹر اشفاق انجم، چیف سائنٹسٹ، زرعی تحقیقی ادارہ شورزدہ اراضیات، پنڈی بھٹیاں نے اجلاس میں بتایاکہ گندم کی فصل کی برداشت کے بعد کاشتکار سبز کھادکے طور پر استعمال ہونے والی فصل جنتر اگائیں اور مناسب وقت پر کتر کراسکوزمین میں ملا دیں تاکہ نامیاتی مادہ میں اضافہ ہو۔اس عمل سے کیمیائی کھادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ناصرف کیمیائی کھادوں کے استعمال میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ دھان کی پیداوارمیں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھان کی فصل میں کھادوں کے متناسب استعمال کو یقینی بنایا جائے اور زنک کے علاوہ بوران کی کمی کی صورت میں 33فیصد والا زنک سلفیٹ بحساب 5کلو گرام اور 03کلو گرام بورک ایسڈ یا4.5 کلو گرام بوریکس (10.5فیصد)فی ایکڑ استعمال کیاجائے۔پروفیسرڈاکٹر عبدالخالق نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ کاشتکار حکومت کی کسان دوست پالیسیوں اور سہولتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ یقینی بنائیں۔دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور معیار کو بہتر بنا کر بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی چاول کی مانگ میں اضافہ ممکن ہو اہے۔ محکمہ زراعت پنجاب اور دھان کے کاشتکار پرعزم ہو کر چاول کی برآمدات میں اضافہ سے کاشتکار خوشحال ہوں گے اور ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔ڈاکٹر عامر رسول، ڈپٹی ڈائریکٹر، شعبہ پیسٹ وارننگ فیصل آباد ریجن نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لئے اسکی کی بروقت کاشت کے علاوہ جڑی بوٹیوں کی تلفی اورضررساں کیڑوں کا انسدادکے لئے کاشتکاروں کی رہنمائی کی جائے۔اجلاس میں دھان کی پیداواری ٹیکنالوجی میں چند ضروری ترامیم کے بعدپیداواری منصوبہ برائے دھان 2023-24کی منظوری دی گئی۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Free WordPress Themes