صحافت کی آواز

Published on May 22, 2023 by    ·(TOTAL VIEWS 148)      No Comments

تحریر شیرین زادہ صدر سوات پریس کلب
صحافت کے حوالے سے پاکستان کوان چند ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جن کو صحافیوں کے لیے بہت ہی خطرناک ملک قرار دیا جا رہا ہے۔آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر صحافیوں کی تنظیموں نے پاکستان میں صحافیوں کے قتل اور حکومت کی طرف سے بےجامقدمات اور ان کو ہراساں کرنے کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔ پاکستان میں یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے آج کل اگر ہم دیکھے تو پاکستان کے ایک نامور اینکر پرسن اور صحافی عمران ریاض خان بھی حکومت کے زیر عتاب ہے اوران کے گمشدگی کےایک ہفتے سے زیادہ ہوگیا ہے کہ ان کو ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہےاور تاحال لاپتہ ہے پولیس مختلف بہانوں سے عدالت کا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں۔ عمران ریاض وکالت سے صحافت کی طرف آئے وہ ایک اچھے رپورٹر آچھے اینکر اور اچھے یوٹیوبر بھی ثابت ہوئے، اس کے علاوہ وہ ایک بہترین دوست اچھے بھائی اچھے شکاری اچھے کرکٹر اور ایک اچھےسماجی ورکر بھی ہے۔عمران ریاض خان ایک محب وطن پاکستانی ہے انہوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے مختلف محاذوں میں میڈیا پرجنگ لڑی ہے، چا ہے وہ پاکستان اورانڈیا کے حوالے سے اینکروں کی سطح پرمؤثرجواب دیناہویاان کو خاموش کراناہو،یا کارگل کے محاذ پرہزاروں فٹ بلندی پر پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ رپورٹنگ کرتے ہوئے، یا سوات کشیدگی میں ان مقامات تک جاناہو جہاں عام لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے، سوات میں دوران کشیدگی ان خطرناک علاقوں میں رپورٹنگ کی اور دنیا کو پاکستان کا بہترین چہرہ دیکھایاجسکا میں چشم دید گواہ ہوں۔
عمران ریاض خان ہمیشہ سچ دکھاتا اور سچ بولتا تھا ان کا یہ ماننا تھا کہ جوغلط ہو رہا ہے اس کوغلط ہی دکھایا جائے اور جو ٹھیک ہورہا ہے اس کو ٹھیک ہی دکھایا جائے۔ گزشتہ سال 2022 میں پاکستان میں قیامت خیز سیلاب آیا جس سے سوات سے لیکر سندھ کے ضلع دادوتک لوگ متاثر ہوئے۔اس موقع پرعمران ریاض میدان میں آئے اور لوگوں نے بڑھ چڑھ کراس پراعتماد کیا اور کروڑوں کے حساب سے فنڈزاکٹھے کئے اور متاثرین تک پہنچایا۔ سندھ ہو بلوچستان یا خیبر پختونخوا انھوں نے سیلاب متاثرین کی خوب مدد کی۔ہزاروں کی تعداد میں انہوں نے مکانات تعمیر کئے, راشن تقسیم کئے کپڑے جوتے یہاں تک کہ پینےکا صاف پانی بھی متاثرین تک پہنچائی۔ سندھ ضلع دادو میں میں نے ان کے ساتھ خود سیلاب متاثرین کے بحالی کی کاموں میں حصہ لیا ڈاکٹروں کی ٹیم وہاں پہنچائی اشیاء خوردونوش ادویات اور فری میڈیکل کیمپ بھی متاثرہ علاقوں میں لگائے۔ اسی طرح پنجاب کے ضلع راجن پور میں بھی کئی مکانات تعمیر کئے لوگوں کی مدد کی اور یہ سلسلہ کئی مہینوں تک جاری رہا عمران ریاض ان علاقوں میں جاتے اور امدادی سرگرمیںوں میں خود حصہ بھی لیتے اور نگرانی بھی کرتے۔
فنڈ ریزنگ کے لیے عمران ریاض خان خود اسلام آباد، پشاور، لاہور اور پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود رہتے، بچے بڑے سب ہی ان کو نقد رقم، کپڑے ادویات اور دیگر چیزیں دیکر لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی انھوں نے سینکڑوں کی تعداد میں مکانات تعمیر کرنے ساتھ وہاں کے متاثرین کواشیاء خوردونوش ادویات فراہم کی اور وہ خود وہاں جاتے اور امدادی کاموں میں حصہ لیتے رہے۔ سوات میں بھی میں نے اپنے ہاتھوں سے کئی ٹرک اشیا خوردنوش،کمبل، گرم کپڑے کیونکہ سردی آنے والی تھی تو اس وجہ سے لوگوں کو سردی سے بچانے کے لیے اشیائے خورد و نوش کے ساتھ ساتھ گرم کپڑوں کی بھی ضرورت تھی ۔تقسیم کئے۔
گزشتہ دنوں ایک شخص نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ہم اپنے علاقے گبرال سوات واپس آئے ہیں لیکن ہماری مکانات تباہ ہوئےہیں ہمارے پاس اس کو تعمیر کرنے کے لیے پیسے نہیں تو اس سلسلے میں آپ ہماری مدد کریں تو میں نے ان کو کہا کہ مدد کرنے والے عمران ریاض خان تھے جو ان کو نامعلوم جرم کی وجہ سے گرفتار بلکہ لاپتہ کیا گیا ہے۔ تووہ بہت پریشان ہوئے اور دعائیں کرنے لگے کہ اللہ تعالی ان کو اپنے گھر صحیح سلامت واپس پہنچائیں۔کیونکہ گزشتہ سال عمران ریاض نے سیلاب کے بعد سوات کے علاقوں اتروڑ، گبرال،پلوگا، بحرین، بالاکوٹ،لائکوٹ کالام میں لوگوں میں امدادی اشیاء تقسیم کی تھی۔ یہاں پر میں نے عمران ریاض کی کچھ صحافتی اور کچھ سوشل ایکٹیویٹیز کے حوالے سے آپ کو آگاہ کیا۔
عمران ریاض خان کے ساتھ تقریباً 18 سے 19 سالوں سے تعلق ہونے کے ناطے میں نے ان کی صحافتی اور سماجی کوششوں کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ ہمارا سفر اکٹے ایکسپریس نیوز سے شروع ہوا، اور ہمارایہ سفر ایک مضبوط دوستی سے بڑھ کر بھائی جیسے رشتے میں بدل گیا۔ عمران ریاض خان سال میں ایک یا دو بار باقاعدگی سے سوات کا اتے تھے، اپنے یوٹیوب چینل اور ٹیلی ویژن پروگرام کے ذریعے سوات کی سیاحت کے فروغ کیلئے پروگرام کیا کرتے تھے۔
عمران ریاض خان ایک توانا آوازہے اس کو بند کرنے سے پاکستان کا ہی نقصان ہوگا ان کے بولنے سے کسی کو اعتراض ہے تو اس کو دور کیا جا سکتا ہے اس کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔رائے کا اختلاف فطری ہے، لیکن انہیں کبھی بھی ذاتی زندگیوںں پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے یا اس کے نتیجے میں دوستوں اور ان کے خاندان کو ذہنی اذیت جیسے صورتحال سے دوچار نہیں کرنا چاہیےآج نہیں تو کل تعلقات دوسری موڑ پر ہونگے،آج ان کا بیانیہ پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتا ہے،تو پی ٹی آئی والے حمایت اور دیگر پارٹیوں والے مخالفت کرتے ہیں۔کل وہ اسٹبلشمنٹ کے بہت قریب تھا وہ آج دور ہے ہیں تو سیاست اور صحافت میں حرف آخر نہیں ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے, ان کے ساتھ اسی طرح رویہ رکھنا ان کو ٹارچر کرنا ان کے فیملی کو ٹارچر کرنا مناسب نہیں ہے اختلاف ضرور ہونی چاہیے لیکن یہ اختلاف ذاتی زندگی کی اوپر حاوی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو اس کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر ہونی چاہیے اور اگر جرم ثابت ہو تو سزا بھی ہونی چاہیے لیکن اگر یہ چیزیں نہیں ہے تو ان کو رہا کر دیا جائے ان کی فیملی کو بہت زیادہ تکلیف ہے ہم صحافیوں کو اور ان کے دوستوں کو اور پاکستان کے بہت سارے ماؤں بہنوں کو بھی بہت تکلیف ہے۔بد دعاؤں سے بچے اس سے پہلے بھی وہ دو دفعہ گرفتار ہوئے ان کے خلاف مقدمات تھے انہوں نے ان کا سامنا کیا اور عدالتوں نے ان کو ضمانتیں دی۔پہلی گرفتاری کے موقع پر بھی میں ان کے ساتھ تھا اور ہم نے عدالتوں کا سامنا کیا اور اللہ کا شکر ہے اس میں ان کو رہائی ملی۔تمام سٹیک ہولڈر سے اپیل ہے کہ وہ اینکر پرسن عمران ریاض کی رہائی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔یہاں ہماری صحافی برادری بھی دو گروپوں میں تقسیم ہے ایک حکومت کی تو دوسرا پی ٹی آئی کے بیانیہ کو فروغ دینے میں پیش پیش ہے،آزادی اظہار رائے کی آئین پاکستان ہمیں اجازت دیتا ہے اپنا اپنا نقطہ نظریے لیکن یہ پاکستان کے خلاف نہیں ہونا چاہیے ۔گزشتہ حکومتوں میں اگر صحافیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی تو وہ بھی غلط تھا اور اگر آج صحافیوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تو یہ بھی غلط ہے اس کے لئے سب کو اکٹھے ہو کر آواز اٹھانا چاہیے کل آپ کی آج ان کی تو کل پھر تمہاری باری ہے،عمران ریاض اس وقت پاکستان کئ سب سے بڑی آواز ہے ان کے لاکھوں کے حساب سے فالوورز ہیں،عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا دئے ہوئےعزت پر صبر کرنا چاہیے اس وقت ہم سب صحافیوں کو صحافتی جیلسی کو پس پشت ڈال کر عمران ریاض خان کے لیے آواز اٹھانی چاہئے۔

Readers Comments (0)




Weboy

WordPress Blog