آئی ٹی سپیکر کامران حیات نے قومی ٹی وی پر پاکستانی خواتین کی خود کفالت کے لیے ڈیجیٹل دور کا چونک دینے والا معاشی فارمولا پیش کر دیا.
لاہور (یواین پی)پاکستان کے معروف ڈیجیٹل ایکسپرٹ اور آئی ٹی اسپیکر کامران حیات نے حال ہی میں لاہور رنگ نیوز کے مقبول مارننگ پروگرام “گڈ مورننگ لاہور ” میں شرکت کر کے ملک کی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کا موضوع روایتی مشوروں سے ہٹ کر انتہائی سنسنی خیز تھا: “خواتین گھر بیٹھے، اپنا چہرہ دکھائے بغیر، مردوں سے بھی زیادہ آمدنی کیسے کما سکتی ہیں؟”
کامران حیات نے لاکھوں خواتین کی مشکل کو آسان بناتے ہوئے ایسی مؤثر آن لائن ارننگ ٹپس شیئر کیں جو انہیں محفوظ ماحول میں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر بغیر کیمرہ کام کرنے کے طریقوں پر زور دیا۔
علم و ہنر، ڈیجیٹل آمدنی کا نیا دروازہ:
اپنے پروگرام میں کامران حیات نے بتایا کہ خواتین کو سکرین پر آئے بغیر آن لائن سکول ٹیچنگ یا قرآن کی تعلیمات دینے کے لیے گوگل میٹ جیسے پلیٹ فارمز کو استعمال کرنا چاہیے۔ ان کے تجویز کردہ آسان طریقے کے مطابق، ان تعلیمی سیشنز کو سکرین ریکارڈ کر کے انہیں یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کرنے اور چینل مونیٹائزیشن کروانے سے سے خواتین محض چند گھنٹے کے کام سے کئی دن کی اضافی آمدنی حاصل کر سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ، انہوں نے روزمرہ کے گھریلو ہنر کو بھی کاروبار میں بدلنے کا گر سکھایا۔ انہوں نے کہا کہ گھر میں بننے والے نئے کھانوں کی ریسیپیز اپنے فالورز اور ناظرین سے شیئر کرنے اور ان کی مختصر ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے سے آمدنی کے زبردست چانسز موجود ہیں۔ ان ویڈیوز میں خواتین بآسانی باپردہ رہ کر بھی مواد تیار کر سکتی ہیں۔ مزید برآں، آن لائن جیولری، کاسمیٹکس اور دیگر ہینڈی کرافٹس کی کامیاب سیلنگ کے جدید ترین اصولوں کی وضاحت کی اور مونیٹائزیش کے آسان طریقے بتائے ۔
کامران حیات کے مطابق، اس پروگرام کو نہ صرف خواتین بلکہ پوری قوم نے بے حد سراہا ہے اور یہ ویڈیو کلپس اس وقت سوشل میڈیا (یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام) پر وائرل ٹرینڈ بن رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے وسیع تر مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا: “میرا مقصد صرف خواتین کو کامیاب بنانا بلکہ پاکستان کی نوجوان نسل کو بھی گیمز کی دنیا سے نکال کر علم اور ہنر کے راستے پر لگانا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو ان غلط راستوں پر جانے سے روکنے کے لیے یہی وقت ہے کہ والدین اور خواتین آگے آئیں اور انہیں ایک باوقار روزگار فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے یہ ذمہ داری نہ نبھائی تو وہ قوتیں متحرک ہو جائیں گی جو ہماری نسل کو ایسے غلط راستوں پر ڈالیں گی جس کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔
کامران حیات نے اپنے پختہ عزم کا اظہار ان الفاظ میں کیا: “ہم سب مل کر پاکستان کے ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر پہچان دلائیں گے۔