اسلام آباد ( یو این پی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دسمبر 2025 میں ریکارڈ ٹیکس وصولی پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے حکومت کے مالیاتی اصلاحات کے ایجنڈے، بہتر ٹیکس تعمیل، مؤثر نفاذ اور ڈیجیٹل اصلاحات کی کامیابی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹیم ایف بی آر اور فیلڈ فارمیشنز سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دسمبر 2025 کی وصولیاں نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن، کیش لیس لین دین کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر مضبوط نفاذِ قانون کی حکمت عملی نے عملی اور پائیدار نتائج دینا شروع کر دیے ہیں۔وزیرِ خزانہ نے ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز پر زور دیا کہ وہ اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں اور ٹیکس نیٹ کو گہرا اور وسیع بنانے کے لیے دگنی محنت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ٹیکس تعمیل اور مؤثر نفاذ ہی وہ واحد پائیدار راستہ ہے جس کے ذریعے رسمی شعبے پر ٹیکس کے بوجھ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ٹیم ایف بی آر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، محنت اور مؤثر نفاذ کے ذریعے اس اہم قومی ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔قبل ازیں،وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے دسمبر 2025 میں 1427.1 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جو ماہانہ ہدف 1446 ارب روپے کا 99 فیصد ہے، یہ کسی بھی سال کے دسمبر میں اب تک کی سب سے زیادہ ٹیکس وصولی ہے جس سے بہتر تعمیل اور مؤثر نفاذ کی عکاسی ہورہی ہے،اسی طرح ان لینڈ ریونیو سروس نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 1310 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1308 ارب روپے وصول کیے جو 99.8 فیصد بنتا ہے۔نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں ٹیکس وصولی میں 59 فیصد اضافہ ہوا، نومبر میں وصولی 898 ارب روپے تھی جو دسمبر میں بڑھ کر 1427.1 ارب روپے ہو گئی۔ انکم ٹیکس کی وصولی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا جو نومبر کے 402 ارب روپے سے بڑھ کر دسمبر میں 831.5 ارب روپے تک پہنچ گئی،نومبرکے مقابلے میں دسمبر کے دوران انکم ٹیکس کی وصولی میں 107 فیصد اضافہ ہوا۔ سیلز ٹیکس کی وصولی میں 25 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 403.7 ارب روپے رہی جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 6 فیصد اضافے کے ساتھ 72.8 ارب روپے تک پہنچ گئی۔کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی میں بھی 15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 118.9 ارب روپے رہی۔ایف بی آر بورڈ کی مسلسل نگرانی اور وزارتِ خزانہ کی اصلاحاتی حکمتِ عملی کے مطابق یہ نتائج مضبوط ٹیکس تعمیل، بہتر نفاذ اور ادارہ جاتی احتساب کی جانب واضح پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔