تحریر۔شاہد شکیل
الرجی دراصل جسم کے مدافعتی نظام کی ایک غیر معمولی اور حد سے زیادہ حسّاس ردِعمل کا نام ہے، عام طور پر وہ مادّے جو صحت مند اِنسانوں کے لئے بے ضرر ہوتے ہیں،جیسے پولِن، غِذا ء، دُھول کے ذرّات یا جانوروں کی کھال کے ذرّے، بعض لوگوں کے جسم میں خطرے کے سِگنل کی طرح کام کرتے ہیں۔الرجی مختلف علامات سے ظاہر ہو سکتی ہے،جیسے کہ آنکھوں میں پانی آنا، خارِش، چھینکوں کی زیادتی، مِعدے اور آنتوں کی تکالیف یا جلد پر ردِعمل، بعض اِنتہائی صورتوں میں یہ کیفیت شدید الرجک شاک کی شکل بھی اِختیار کر سکتی ہے جو جان لیوا ہو سکتا ہے۔سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ الرجی پیدا کرنے والے مادّے اَلرجین سے جتنا ممکن ہو بچا جائے، متبادل طور پر گولیاں، ناک کے سپرے یا آنکھوں کے قطرے علامات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔مونگ پھلی کھانا، کھِلتی ہوئی گھاس کے کِنارے چِہل قدمی کرنا اور خاص طور پر بِلّی کو پیار کر نا،ایسی عام روزمرہ سرگرمیاں بھی الرجی کے مریضوں کے لئے مسئلہ بن سکتی ہیں۔الرجی کی نوعیت کے مطابق جسم پولِن، جانوروں کی کھال کے ذرات یا دیگر بیرونی مادّوں (جنہیں الرجین کہا جاتا ہے) کے خلاف دفاعی ردِعمل ظاہر کرتا ہے، یہ ردِ عمل مختلف صورتوں میں سامنے آسکتا ہے جیسے،آنکھوں میں پانی آنا اور شدید خارِش، بار بار چھینکیں آنا، معدے اور آنتوں میں تکلیف، جِلد پر ردِ عمل یا خارِش۔کچھ اِقسام کی الرجی شدید ترین تکلیف دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سب سے زیادہ عام پولِن الرجی ہے،جو زیادہ تر (ہی فیور) کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے،پولِن الرجی والے افراد کے لئے بہار کا موسم اکثر بے فِکری کے بجائے تکلیف اور بے چینی کا باعث بنتا ہے۔ لیکن صرف پولِن الرجی ہی زِندگی کو مشکِل نہیں بناتی،دیگر الرجیز بھی روزمرہ زِندگی اور صحت پر گہرا اَثر ڈال سکتی ہیں جیسے کہ، کانٹیکٹ الرجی، الرجِک دَمہ، غِذائی الرجیز، ہاؤس ڈَسٹ الرجی،کیڑوں کے زہر سے الرجی، یہ تمام اِقسام مُختلف شِدت کے ساتھ ظاہر ہو سکتی ہیں اور بعض اوقات زِندگی کے معیار پر واضح اثر ڈالتی ہیں۔الرجی کی قِسم کے مطابق علامات بہت مختلف ہو سکتی ہیں، عام طور پر درجِ ذیل مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔آنکھوں میں پانی آنا اور خارِش، بعض اوقات سوجن یا آنکھ کی جُھلی کی سوزِش کے ساتھ، چھینکیں آنا، ناک کا بہنا، سانس لینے میں دُشواری، بعض اوقات سانس رُکنے تک، معدے اور آنتوں کی تکالیف، جیسے پیٹ درد، گیس، اِسہال یا مَتلی، جِلد پر خارِش، دانے یا ایگزیما، الرجک شاک، ابتداء میں ہاتھوں اور پاؤں کی ہتھیلیوں میں سنسناہٹ پھر جسم میں گرمی کا اِحساس، دِل کی دھڑکن تیز ہونا، بلڈ پریشر کا اچانک کم ہو جانا، بد ترین حالت میں سانس اور دورانِ خون کا رُک جانا، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔الرجی ٹائپ 1۔تمام الرجیز میں سے تقریباََ 90فیصد اِسی قِسم میں آتی ہیں،اِسے فوری الرجی بھی کہتے ہیں، کیونکہ علامات چند منٹ سے لے کر چند گھنٹوں میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ مثلاََ، گھاس اور درختوں کے پولِن، ہاؤس ڈسٹ مائٹ، مخصوص ادویات، غذائی الرجی، شہد کی مکھی یا بِھڑ کے ڈنگ سے الرجی، جانوروں کے بال /کھال کے ذرات وغیرہ۔ الرجی ٹائپ 2۔اِس قِسم کی الرجی میں مدافعتی نظام جسم کی اپنی خلیاتی سطح پر موجود ساختوں کے خلاف اینٹی باڈیز بناتا ہے،جب یہ اینٹی باڈیز اِن خلیاتی ساختوں کو پہنچانتی ہیں تو وہ مدافعتی نظام کو متحرک کرتی ہیں جس کے نتیجے میں جسم اپنے ہی خلیوں پر حملہ کرنے لگتا ہے، اِسی وجہ سے اِسے سائیٹو ٹاکسک الرجی کہا جاتا ہے،یعنی خلیوں کے لئے نقصان دہ عمل۔ الرجی ٹائپ 3۔اِ س قِسم کی الرجی میں جسم الرجین اور اینٹی باڈیز کو مِلا کر امیون کمپلیکسز بناتا ہے، یہ امیون کمپلیکسز جسم کے مختلف حصوں، مثلاََ گُردوں، جِلد یا جوڑوں میں جمع ہو سکتے ہیں، یہ جب جمع ہو جاتے ہیں تو وہاں سوزِش پیدا ہوتی ہے، یہ عمل آہستہ ہوتا ہے لیکن عِلامات ظاہر ہو سکتی ہیں، چند گھنٹوں بعد، چند دِنوں بعد بعض صورتوں میں مہینوں بعد بھی۔امیون کمپلیکسز کی وجہ سے رگوں کی سوزِش ہو سکتی ہے، یہ عام طور پر ٹانگوں یا کولہوں پر چھوٹے گہرے دھبوں کی صورت میں نظر آتی ہے۔ سوزِش کی وجہ سے خون کے لوتھڑے بن سکتے ہیں جو متأثرہ حصے کی خون کی گَردِش کو مُتأثر کر سکتے ہیں۔ الرجی ٹائپ 4۔اِس قِسم کی الرجی میں عِلامات تاخیر سے ظاہر ہوتی ہیں، یعنی الرجین سے رابطے کے24 سے 72گھنٹے بعد۔ اِسی وجہ سے اِسے تاخیر سے ظاہر ہونے والی الرجی کہا جاتا ہے۔عام مِثال۔الرجِک کانٹیکٹ، ایگزیما، یہ اکثر نِکل، خوشبوؤں یا کاسمیٹکس میں موجود کیمیکلز کی وجہ سے ہوتا ہے،جب الرجی کا اصل سبب معلوم ہو جائے تو عِلامات سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اِس مخصوس الرجین سے جتنا ممکِن ہو دور رہا جائے،اِس کا مطلب یہ ہے کہ کِسی پالتو جانور کو چھوڑنا پڑے گا، بعض غذاؤں سے پرہیز کرنا ہو گا، کچھ خاص دھاتیں یا خوشبوئیں استعمال نہیں کی جائیں۔ ہاؤس ڈسٹ الرجی میں بیڈ روم کی باقاعدہ صفائی، کمرے کو ٹھنڈا اور خشک رکھنا، زیادہ سے زیادہ ہوا کی آمدورفت، مائٹ پروف خصوصی بِستر کی چادریں، بیڈ کور استعمال کرنا۔ پولِن الرجی میں کھڑکیاں کھول کر ہواداری کرنا، سونے سے پہلے شاور لینا تاکہ بالوں اور جِلد سے پولِن دُھل جائیں، باہر پہنے ہوئے پولِن سے بھرے کپڑے سونے کے کمرے سے باہر رکھنا۔ یہ اقدامات الرجی کے اثرات کو واضح طور پر کم کر سکتے ہیں اور روز مرہ زندگی کو آسان بنا دیتے ہیں۔(جاری ہے)