
ٹیکسلا(یو این پی /ڈاکٹر سید صابر علی )ٹیکسلا پولیس کے خلاف دو شہریوں کو غیر قانونی ٹارچر اور اغواء کاسنگین مقدمہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اعلیٰ پولیس افسران کی مغوی کی بازیابی اور مقدمہ میں نامزد پولیس ملازمین کی گرفتاری کے لئے دی گئی ڈیڈ لائن بھی کارگر ثابت نہ ہوسکی،ٹیکسلا پولیس نے اعلیٰ افسران کے احکامات بھی ہوا میں اڑا دیئے، ایک ماہ کا عرصہ گذرنے کے بعد بھی ملزمان گرفتار ہوئے نہ مغوی بازیاب ، مغوی کو دوران ٹارچر قتل کرنے کا خد شہ بڑھ گیا ، انصاف کی عدم فراہمی متاثرہ افراد نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا،ایڈیشنل سیشن جج ٹیکسلا کی عدالت میں بائیس سالہ مغوی عبدالحمید خان کے بھائی کی جانب سے دائر بائیس اے کی درخواست ، معروف قانون دان طاہر محمود راجہ ایڈووکیٹ ، سید اکرار حیدر ایڈووکیٹ نے عدالت میں مدعی کیس کی پیر وی کرتے ہوئے دلائل پیش کئے ،عدالت نے وکلاء کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ڈی ایس پی ٹیکسلا سرکل کو مدعی کا ورجن ریکارڈ کرنے کے علاوہ قانون کے مطابق کاروائی کا حکم دے دیا،عدالتی حکم پر محکمہ پولیس میں تھل تھلی،پولیس پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لئے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے،مدعیان کی جانب سے کیس میں مدعی بننے کے علاوہ ایس ایچ او ٹیکسلا ملک محمد خان کو کیس میں شامل کرنے کی دوڑ جاری، اول خان کی شناخت پر پولیس کے خفیہ ٹھکانوں پرپہرا دینا والا پولیس کانسٹیبل نسیم کو گرفتار توکیا گیا مگر اسکے بیان کو دباؤ ڈال کر تبدیل کیا گیا اور کسی قسم کی کوئی قانونی کاروائی اسکے خلاف عمل میں نہیں لائی گئی جس نے مدعی کو بیان دیا تھا کہ اسکی ڈیوٹی ایس ایچ او نے لگائی تھی ، مذکورہ ملزم سے کوئی تفتیش نہیں کی جارہی ، تفصیلات کے مطابق ماہ رمضان میں ساتویں روزے کو ٹیکسلا کے دو شہریوں اول خان ولدہاشم خان، عبدالحمید ولد نذیر خان،کو ٹیکسلا تھانہ میں تعینات پولیس اہلکاروں نے اغواء کیا اور انھیں مختلف مقامات پر ٹارچر کرنے کی غرض سے رکھا گیا جن میں سے ایک شہری اول خان ولد ہاشم خان پولیس کو بھاری رقم دیکر انکے چنگل سے نکل آیا جبکہ دوسرا شہری بائیس سالہ نوجوان عبدالحمید ولد نذیر خان تاحال بازیاب نہ ہوسکا مدعیان کی جانب سے شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ کہیں پولیس نے اسے قتل نہ کردیا ہو، اول خان کے مطابق اسے اور اسکے دوست کو پولیس نے دوران حراست بہمانہ تشدد کیا اور غیر انسانی سلوک روا رکھا، ادہر ایس ایچ او ٹیکسلا نے کیس کا رخ تبدیل کرنے کے لئے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے اپنے ہی کارخاص و دیگر ملزمان پولیس اہلکار جو اغواء کے کیس میں ملوث پائے گئے کے خلاف خود ہی مدعی بنتے ہوئے یکم اگست کو عمران محمودولد حاجی فقیر محمد ساکن گھیلا خورد کی اطلاع کو مقدمہ کی بنیاد بناتے ہوئے پولیس ملازمین ذوالفقار علی پیٹی نمبر 2129 ، سعیدخان پیٹی نمبر6069 ، ظہیر اقبال پیٹی نمبر7060 ،جبکہ دو پرائیویٹ اشخاص خرم بٹ ، نصیر خان نیازی کے خلاف اغواء برائے تاوان اور شہریوں کو حبس بے جا میں رکھنے پر زیر دفعہ 365/342 پی پی سی اور پولیس آرڈر 2002 155-C کے تحت مقدمہ درج کرلیا،ادہر خبروں کی اشاعت کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جنکا یہ انتخابی حلقہ بھی ہے کے علاوہ پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لیا ، ایس پی پوٹھوہار نے پولیس کو بارہ گھنٹوں کا وقت دیا ،جس میں پولیس کو سختی سے ہدائت کی گئی کہ وہ مغوی کو بازیاب کرے اور پولیس ملازمین کو گرفتار کرے ، مگر بارہ گھنٹے کی ڈیڈ لائن دیئے کئی دن گذر گئے مگرپولیس ٹس سے مس تک نہ ہوئی ، اور اعلیٰ افسران کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا،جس پر مدعیان میں تشویش بڑھ گئی ، مغوی عبدالحمید کے بھائی جہانزیب خان نے کیس کے تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر راجہ افتخار انچارج سٹی چوکی کو تحریری درخواست دی جس میں بیان کیا گیا کہ چونکہ میں مغوی کا بھائی ہوں اس لئے کیس کا مدعی ایس ایچ او نہیں بلکہ مجھے بنایا جائے ، انکا موقف تھا کہ ایس ایچ او تو خود اس کیس میں ملوث ہے وہ کیسے مدعی بن سکتا ہے،مگر پولیس کہاں اپنے ہی ایس ایچ او کے خلاف کوئی بات سنتی ہے تفتیشی نے بھی وہی کیا جس کی امید تھی اسنے کوئی کاروائی نہیں کی ، پولیس کے اعلی ٰ افسران اور مقامی پولیس کی مسلسل چشم پوشی اور سرد مہری کے باعث دلبرداشتہ ہوکر مدعیان نے عدالت سے انصاف طلب کرنے کے لئے بائیس اے کی درخواست دی، جس پر وکلاء طاہر محمود راجہ اور سید اکرار حیدر نے اپنے دلائل پیش کئے پیر کے روز ایڈشنل سیشن جج ٹیکسلا احمد کامران نے وکلاء کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ڈی ایس پی ٹیکسلا سرکل ملک محمد ارشاد کو مدعیان کا ورجن نوٹ کرنے کے علاوہ قانون کے مطابق کاروائی کا حکم دیا،مغوی عبدالحمید کے والد نذیر خان ، چچا جمعہ خان ، بھائی جہانزیب خان نے میڈیا کو بتایا کہ انھیں عدالت سے انصاف کی پوری توقع ہے،تاہم پولیس نے اگر عبدالحمید کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے ، انکا کہنا تھا کہ پولیس نے انت مچا رکھی ہے بیہاں کسی کی عزت محفوظ نہیں، پولیس کا کام تو لوگوں کی جان ومال کاتحفظ کرنا ہے ادہر پولیس لٹیرے اور اغواء کار وں کا روپ دھار چکی ہے انھوں نے کہا کہ ایس ایچ او ملک محمد خان تمام کیس میں براہ ر است ملوث پایا گیا ہے جسکے ٹھوس شواہد بھی مل چکے ہیں۔جبکہ جن مقامات پر پولیس نے ٹارچر کی غرض سے ہر دو اشخاص کو رکھا انکی نشاندہی کے باوجودکوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ، یہ لوگ بھی اغواء اور قتل کیس میں بلواسطہ یا بلا واسطہ ملوث ہیں جوپولیس کے ساتھ ان غیر قانونی سرگرمیوں کامیں شامل ہیں،انھوں نے ان عناصر کے خلاف بھی بھرپور کریک ڈاون کا مطالبہ کیا،پولیس ملازمین کے خلاف درج ہونے والا اغواء برائے تاوان کا کیس لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جبکہ بائیس سالہ نوجوان عبدالحمید کی بازیابی بھی ایک معمہ بن چکی ہے ،اور اعلیٰ افسران کے لئے یہ کیس کسی چیلنج سے کم نہیں ،ایک طرف پولیس ملازمین اور دوسری طرف عام شہری ،کیا پولیس عدالتی حکم پر عملددرآمد کرے گی یاروائتی بے حسی کا ثبوت دیتے ہوئے ٹال مٹول سے کام لے گی ، مدعیان کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی وہی وطیرہ اختیار کیا گیا تو ہم ہائی کورٹ جائیں گے