اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے سیکرٹری سکندراسماعیل کے اعزاز میں عشائیہ

Published on December 5, 2014 by    ·(TOTAL VIEWS 364)      No Comments

kw
کویت سٹی( عبدالشکورابی حسن )مہمان نوازی میں اس وقت کویت میں پاکستانی کمیونٹی صف اول میں شمارہوتی ہے پاکستان سے آئے ہوئے مہمانوں کو توقیر دینا پاکستانی کمیونٹی نے اپنا طیرہ امتیاز بنالیا ہے مہمان تو ویسے ہی اللہ کی رحمت ہوتے ہیں اورزرق میں برکت کا باعث بنتے ہیں کہتے ہیں جب کسی کے گھر میں فاقہ آنے لگا تو اپنے دسترخوان کو وسیع کردیاجائے اوراپنے گھروں کو مہمان بلوا لیاجائے اسی حقیقت کو عملی جامہ پہناتے ہوئے حافظ محمد شبیر اور محمد عارف بٹ یہ روایت کونبھا رہے گذشتہ دنوں وفاقی سیکرٹری برائے اوورسیزپاکستانیز سکندر اسماعیل خان کے اعزاز میں ممبر اوپیک حافظ محمد شبیر (ڈائریکٹر شرکتہ الحافظ کویت) کی جانب سے ایک پر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں سفیر پاکستان محمد اسلم خان اور کویت میں پاکستانی کمیونٹی کی تمام تنظیموں کے صدور نے خصوصی طور پر شرکت کی۔تقریب کی نقابت محمد افضل شافی نے اپنے خوبصورت اندازمیں نبھائی ۔تقریب کا باقاعدہ آغاز اﷲ تعالی کے بابرکت کلام سے کیا گیا۔ حافظ محمد شبیر نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی اس کے بعد نعت رسول مقبول کیلئے محمد قمر نظا می کو سٹیج پر دعوت دی گئی ا نہوں نے اپنی خوبصورت آواز میں (میں نے در رسول پہ سر کو جھکا دیا) نعت پیش کی.محمد افضل شافی نے ممبر اوپیک کو سٹیج پر بلا کر معزز مہمان کا سٹیج پر استقبال کرنے کی گذارش کی۔جس کے بعد معزز مہمان کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی اس کے بعد سفیر پاکستان محمد اسلم خان ،لیبر اتاشی کمرشل اتاشی (سفارت خانہ پاکستان) اور کویت میں پاکستانی کمیونٹی کی بزرگ شخصیت ملک نور محمد کو سٹیج پر بلایا گیا.حافظ محمد شبیرنے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ کویت میں پاکستانی کمیونٹی مل بیٹھنے کا جذبہ رکھتی ہے.ان کا تعلق انفرادی طور پر کسی بھی جماعت سے ہو لیکن جب انہیں پاکستان کی فلاح وبہبود کے لئے بلایا جاتا ہے تو وہ اپنی ساری مصروفیات چھوڑ کو ایک جگہ پرجمع ہو جاتے ہیں۔انہوں نے سفیر پاکستان کا خصوصی طور پر شکریہ اداکیا کہ انہوں کسی دوسرے پروگرام کی حاضری میں تاخیر کر کے ہماری اس تقریب کو رونق بخشی۔حافظ محمد شبیر نے حاضرین کو بتایا کہ معزز مہمان نے پروگرام کے اختتام کے بعدسفر پر روانہ ہونا ہے اور سفیر پاکستان نے بھی کسی دوسرے پروگرام میں شرکت کرنی ہے اس لئے ہم پروگرام کومختصر کرتے ہوئے سفیر پاکستان کو پہلے فارغ کر دیں گے اس کے بعد یہ تقریب اپنے پروگرام کے مطابق جاری رہے گی.اس کے بعد سفیر پاکستان کے دست مبارک سے معزز مہمان کو ایک یادگاری شیلڈ حافظ محمد شبیر اوردوسری یادگاری شیلڈ محمد عارف بٹ کی طرف سے پیش کی گئی علاوہ ازیں ان کو حافظ محمد شبیر کی جانب سے 15000دینار کویتی کا ایک چیک (برائے مالی امداد حالیہ متاثرین سیلاب)پیش کیا گیا۔اس کے علاوہ ان کو حافظ شبیر احمد کی طرف سے ایک عدد آئی پیڈ کا یادگاری تحفہ بھی پُر خلوص انداز میں پیش کیا گیا ۔
پاکستان بزنس سنٹر کویت اورورچوئیل یونیورسٹی آف پاکستان کے باہمی اشتراک سے کویت میں مختلف تعلیمی کورسز کا آغاز فری کنسلٹنسی اور آن لائن اصلاتی تعلیمی کلاسز کا اجراء بہت جلد عمل میں لایا جا رہا ہے ۔ اس سلسلے میں ورچوئیل یونیورسٹی کی جانب سے بطور ایجوکیشن سپورٹ پارٹنر کویت پاکستان بزنس سنٹرکے ساتھ الحاق کیا گیا ہے۔ اور دورانِ تقریب ورچوئیل یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل لیٹر بھی دکھایا گیا اور اس کا رسمی محمد اسلم خان ، سفیر اسلامی جمہوریہ پاکستان ۔کویت نے وفاقی سیکرٹری برائے اورسیز پاکستانیز سکندر اسماعیل خان کی موجودگی میں اپنے ہاتھوں سے کیا ۔
حافظ محمد شبیر نے اپنے خطاب کے دوران معزز مہمان گرامی کو آگاہ کیا کہ کویت میں بچوں کی تعلیم کے لئے بہت کوشش کی جا رہی ہے.ایسے طالب علم جو اعلی تعلیم کے لئے دوسرے ممالک کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا چاہتے ہیں ان کی رہنمائی کے لئے ہمارے پاس دوسرے ممالک کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل خصوصاً ’’ ورچوئیل یونیورسٹی ‘‘ سے سینکڑوں پاکستانی شخصیات موجود ہیں ان میں سے دس احباب نے ہمیں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے جو بچوں کو ہر قسم کی معلومات کے لئے ہر وقت حاضر ہیں.اس سلسلہ میں
ہمیںuk انٹرنیشنل نے بھی ہر طرح کی مددکا یقین دلایا ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی بچے کا تمام تر کاغذات مکمل ہونے کے بعد کسی بھی ملک کا ویزہ صرف 5 دن میں دلانے کا وعدہ کرتے ہیں.ایسے طلبہ یا طالبات جو دوسرے ممالک کی بجائے پاکستان میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند ہیں ان کی معاونت کے لئے بھی ہیلپ ڈیسک کے پاس تمام معلومات موجود ہیں.ہم پاکستان کے ہر شہر کے کالج اور یونیورسٹی کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بتایا کہ میاں محمد بلال ۔ پرنسپل ، اے بی ایس ،خیطان نے ہائیر ایجوکیشن کیلئے مکمل خدامات فراہم کرنے اور اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے۔اسی طرح پاکستانی مصنوعات کو اس ملک میں فروغ دینے کے لئے ہم نے پا کستان بزنس سنٹر کا قیام کیاہے .جس کے ذریعے ہم کویت میں کسی بھی پاکستانی کو پاکستان کی مصنوعات منگواکر یہاں پرفروخت کرنے میں پوری مدد فراہم کر سکتے ہیں.وہ جو پراڈکٹ بھی لانا چاہتا ہے ہم پاکستان سے منگوانے سے لے کر کویت میں فروخت کرنے تک اس کی پوری مدد کریں گے جس میں ہمارا کوئی بھی لالچ نہیں ہو گا.ہماری یہ خدمات بالکل فری ہو گی محمد اسلم خان سفیر پاکستان نے ایک اور پروگرام میں شرکت کے لئے روانہ ہونا تھا۔ اس لئے انہوں پروگرام کے شیڈول سے ہٹ کر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے معزز مہمان کوکویت آمد پر خوش آمدید کہا اور حافظ محمد شبیر کا اتنے مختصر نوٹس پر آج کی یہ خوبصورت تقریب منعقد کرنے پر شکریہ ادا کیا.انہوں نے کہاحافظ شبیر احمد کی باتیں سنی یہ کوئی چھوٹی باتیں نہیں.انہوں نے مالی امداد کا جو پندرہ ہزار دینار کویتی کا چیک دیا یہ بھی ایک بڑی رقم ہے جوکہ ابھی بطور ٹوکن ادا کیا گیاہے۔جس کاحافظ محمد شبیر نے بہت خلوص سے اہتمام کیا ہے.انہوں نے مزیدکہاکہ جب بھی وطن عزیز پر کوئی مشکل وقت آتا ہے تو کویت میں پاکستانی کمیونٹی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے.میں اس کے لئے آپ لوگوں کا بے حد مشکور ہوں اس کے بعد سٹیج پر موجود تمام مہمانوں نے سفیر پاکستان کونہایت عزت و احترام سے رخصت کیا اور ممبر اوپیک دوباوہ ڈائس پر تشریف لائے اور اپنی بات کو دوبارہ شروع کیا.انہوں نے کہا کہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں ہم پلاننگ کرتے رہے لیکن اب ہم اپنی محنت کو آپ کے سامنے لا رہے ہیں.اب عملی کاروائی کا وقت ہے.ہم نے پاکستان کے ذر مبادلہ میں اضافہ کرنے کے لئے کویت میں پاکستان بزنس سنٹر کا قیا م عمل میں لایا گیاہے پاکستان میں پندرہ ہزار کمپنیاں بطور مینوفیکچر کام کر رہی ہیں اور 31ہزار ایسی کمپنیاں ایسی ہیں جو پاکستان کی مصنوعات کو دوسرے ممالک میں بھیجنے کا کام کر رہی ہیں.یہاں پر کو ئی بھی پاکستانی اپنے وطن کی مصنوعات منگواناچاہتا ہے ہم ان کومکمل معلومات اور رہنمائی فراہم کریں گے.ایسے پاکستانی جن کے پاس دس ہزار کویتی دینارسے کم رقم ہے اور وہ کاروبار کا شوق رکھتے ہیں ان کی خواہش کے مطابق بھی ان کی مکمل مدد کی جائیگی.
انہوں نے مزیدبتایاکہ یہاں پر پاکستانی سکولوں میں پاکستانی بچوں کو اردو پڑھنے اور لکھنے کا مسئلہ درپیش ہے۔اس سلسلے میں کویت کے مشہور شاعراور انجمن ارباب فکر و فن کے صدر جناب صفدر علی صفدر کے علاوہ بدر سیماب اور خالد سجاد اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں تاکہ اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں کویت میں مقیم پاکستانیوں کا اپنا ایک کردار سامنے آ سکے ۔اسی طرح ہم نے ہیلپ ڈیسک کے زیر انتظام ایک ووکیشنل ٹریننگ کا اہتمام کیا ہے.جہاں پر پاکستانی غیرہنرمندافراد کو مفت ٹریننگ دی جائے گی.ممبر اوپیک نے بتایا کہ انشا ء اﷲ جون 2015 میں کویت میں پاکستانی آموں کی نمائش لگانے کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے.اس کے بعد محمد عارف بٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کویت میں پاکستانی مصنوعات کی فروخت کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں لیکن کویت کے ویزے بند ہونے کی وجہ سے ہمارے کاروبار میں مشکلات بڑھ رہی ہیں.حکومت پاکستا ن اس سلسلے میں کوشش کرے اور کم از کم سیر اور فیملی ویزے کھلوا دے علاوہ ازیں کویت سے پاکستانی دارلخلافہ اسلام آباد کے لئے پی آئی اے کی کوئی فلائٹ نہیں آخر میں مہمان گرامی سکندر اسماعیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا ایک ایک بندہ خود ایک انجمن ہے.میں ہمیشہ تعلیم پر زوردیتا ہوں کیونکہ اسلام کی بنیاد ہی تعلیم پرہے .ویزوں کے بارے میں انہوں بتایا کہ حکومت کویت سے میں نے وقت مانگاتھا جس پر انہوں نے مجھے خصوصی وقت دیا اور میں نے پوری بات ان کو بتائی انہوں نے میری بات کو سنا اب دیکھیں اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے.پی آئی اے والی بات میرے اختیار میں نہیں لیکن میں پاکستان پہنچ کر آپ کی یہ آواز پہلی فرصت میں سیکرٹری ایوی ایشن تک ضرور پہنچا دوں گا. معزز مہمان نے سفیر پاکستان ، ممبر اوپیک حافظ محمد شبیر، محمد عارف بٹ اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد حافظ محمد شبیر کو دعا کے لئے بلایا گیا.حافظ محمد شبیر نے دعا سے پہلے حاضرین کو خوش خبری سنائی کہ کویت میں پیغام صبح ڈاٹ کام کے نا م سے ایک اردو نیور ویب سائٹ کا آغاز کیا گیا جس میں صرف پاکستان کی نیوز ہوں گی انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں خلیل الر حمن چیف ایڈیٹر اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ انہوں نے ’’پندرہ روزہ نئی روشنی ‘‘کی انتظامیہ ، خالد نور ’’پاک میڈیا ‘‘ عبدالشکورابی حسن بیوروچیف نوائے وقت اورنیاز عابد چودھری کی صحافتی کاوشوں کو بھی سراہا ۔.دعا کے بعدپاکستان سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان اور تمام حاضرین کو عشائیہ دیا گیا اور یوں یہ خوشگوار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

Readers Comments (0)




Weboy

Weboy