آتشِ یمن اور میرا وطن

Published on April 18, 2015 by    ·(TOTAL VIEWS 505)      No Comments

Amjad Khan
کالم میں تحریر ای میل آئی ڈی کھلتا ہے اور ساتھ ہی ای میلز کا ڈھیر لگنا شروع ہو جاتا ہے سب سے پہلی میل ہارون آباد کے رہائشی قائد تحریک اللہ اکبر ڈاکٹر احسان باری کی موصول ہوتی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ یمن میں جاری جنگ اسرائیلی ،قادیانی ، نصرانی، سیکولر بھارت اور نام نہاد لادینی جمہوریت کے چیمپئن مغربی سامراجی ممالک کی جانب سے عالم اسلام کے خلاف ایک خوفناک سازش ہے جس پر پاکستان کہنے کو تو کہہ رہا ہے کہ ہم حرمین شریفین کے دفاع کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہا ڈالیں گے مگر عملاً خاموش ہے جو کہ صرف گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف ہے ،جس سے ہم ھیوں میں نہ شیوں میں بن کر رہ جائیں گے جس سے بچنے کیلئے پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنی فوج عملاً سعودی عرب کی سرحدوں پر تعینات کرکے اس کادفاع مضبوط کرنے کے بعد عالم اسلام کی سربراہی کانفرس بلوا کر اِس طرح سے صلح کروا ئے کہ جس میں کوئی گروہ بھی اپنے أوقف سے دستبردار ہوتا بھی نظر نہ آئے اور قتل و غارت گری بھی بند ہو جائے یعنی سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ورنہ ہم اپنے ہمہ وقت کے دوست سعودی عرب سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور یہ آگ پھیلتے پھیلتے فرقہ واریت کا روپ دھارلے گی اور ہر جگہ مسلکوں کی جنگ شروع ہونے کا خطر ہ ہے ،اور اگر حکمرانوں سے یہ سیدھا سادھا الجبرا کا سوال حل نہیں ہوتا تو شریف برادران ، زرداری اور عمران خان سبھی مستعفی ہو کر اقتدار سپریم کورٹ کے حوالے کردیں ،
ڈاکٹر صاحب نے اپنے پیغام میں جو لکھا وہ پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نواز شریف ،شہباز شریف ،عمران خان ،آصف علی زرداری مولانا فضل الرحمٰن ،الطاف حسین ،حافظ سعید اور مجھ سمیت سبھی یہی بات کررہے ہوں اور یہی سوچ رہے ہوں کہ یہ الجرا کا چھوٹا سا تو سوال ہے جو اگر حکمرانوں سے حل نہیں ہوتا تو اقتدار چوڑ کر گھر بیٹھ جائیں ،کیونکہ کہنے کو ہم بہت کچھ کہہ سکتے ہیں ،ہم چاہیں تو بڑے سے بڑے مسئلے کو بھی الجبرا کا چھوٹا ساسوال قرار دے دیں اورچاہیں تو گھریلوجھگڑے کو بھی مسئلہ کشمیر بنا لیں اور پھِر سعودیہ سے تومذہبی عقیدت کے علاوہ بھی ہمارے بہت سے ذاتی و اجتماعی مفادات وابستہ ہیں ،اِسی لئے تو سعودی شہزادہ بھی حال ہی میں ایک دھمکی امیزبیان دے چکا ہے ،جس کا مطلب ہے کہ اگر پاکستان اپنی فوج نہیں بھیجتا تو آئندہ وہ کِسی سیاستدان کو شیلٹر نہیں دیں گے اور نہ ہی سیاستدانوں کو حکومتیں بنانے میں کوئی مدد فراہم کریں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے مذہبی حلقوں و مدارس کی فنڈنگ بھی بندیا مشروط کر سکتے ہیں جس کے نتیجہ میں مقامی مذہبی تنظیمیں حکومت کے خلاف نکل پڑیں گی اور موجودہ حکومت کا تختہ پلٹنے کے ساتھ ساتھ خانہ جنگی بھی شروع ہو سکتی ہے ،جو کہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ،جس سے بچنے کیلئے ہم فوج بھیجنا چاہتے ہیں مگر بھیج نہیں سکتے،کیونکہ ایک طرف ہم خود حالت جنگ میں ہیں،دوسری طرف ہمارا پڑوسی ملک ہمہ وقت گھات لگائے ہوئے ہے، تیسری طرف ہماری ایران سے مفت میں دشمنی پڑتی ہے ، چوتھی طرف اگر ہم بارڈ ر سے فوج ہٹاتے ہیں تو بھارتی جارحیت کا خطرہ ہے اور اگر آپریشن بندکرتے ہیں تو دہشت گردپھِر سے مظبوط ہو جائیں گے ،یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہم سعودیہ فوج نہ بھیجنے کی متفقہ قرار داد پیش کر چکے ہیں،
اور اگر خدا نخواستہ حرمین شریفین پر حملہ کی صورت میں ہمیں اِن تمام ترخدشات کو پسِ پشت ڈال کرفوج بھیجنا پڑتی ہے اور بھیج دیتے ہیں تو ایک طرف توجیسے آج ہم افغان جنگ کے نتائج بھگت رہے ہیں ایسے ہی کل ہمیں یمن جنگ کے نتائج بھگتنے پڑیں گے، اوردوسری طرف بیرونی طاقتوں کو ملک میں شیعاسُنی فسادات کروانے کا موقع مِل جائے گا جو کہ خانہ جنگی میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے اور تیسری طرف پہلے ہمارا ایک دشمن صرف بھارت ہے پھِر (ایران سمیت)دوہوجائیں گے جبکہ چوتھی پریشانی یہ ہوگی کہ اپو زیشن جماعتوں کے ہاتھوں موجودہ حکومت بھی قربان کرنا پڑے گی،کیونکہ متفقہ قرار دار میں سبھی اِس کی مخالفت کر چکے ہیں،
لہذا ہم یعنی کہ حکمران ایک ایسی گلی میں ایک بار پھِر پھنس ضرور گئے ہیں جس کے چار وں اطراف آگ ہے جو ہم فوج بھیجیں چاہے نہ بھیجیں ہماری ہی طرف بڑھے گی اِس لئے جتنا جلد ہو سکے ہمیں اِس سے نکلنا ہوگا اور نِکلنے کیلئے ڈاکٹر مذکور کی رائے میری رائے یا حکومت کو اپنی موجودہ پالیسی جس کے تحت وہ حرمین شریفین پر حملے تک خاموش اور حملے کی خبر پاتے ہی فوج بھیجنا چاہتی ہے کو اپناکر نہر کھودنے کی بجائے اِس پر پانی پھینکنا ہوگا،ورنہ یہ آج آتشِ یمن ہے کل آتشِ وطن ہو سکتی(فی امان اللہ)۔

Readers Comments (0)




Weboy

WordPress Blog