سانحہ قطیف ، مکڑی کا جالا

Published on May 31, 2015 by    ·(TOTAL VIEWS 577)      No Comments

NewUNN
عبد الستارخان۔ جدہ
سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی شیعہ اکثریتی آبادی والی کمشنری قطیف میں خود کش دھماکہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اس سے پہلے ہونے والے حملوں سے یکسر مختلف ہے۔ القاعدہ، داعش اوران سے پہلے ایران یہاں متعدد مرتبہ تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں مگر قطیف کے قدیح محلے کا واقعہ اپنے اندر فرقہ واریت کے مذموم مقاصد رکھتا ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ سعودی عرب چاروں طرف سے دشمن کے نشانے پر ہے۔ اس کی جنوبی سرحدوں پر ایران ، حوثی باغیوں کے توسط سے ملک کے امن وامان کو متزلزل کرنے کی کوششوں میں ہے جبکہ شمالی سرحد پر داعش شام اور عراق میں سفاکیت پھیلارہا ہے ۔ وہ سعودی عرب کے حوالے سے اپنے مکروہ عزائم کا علی الاعلان اظہار بھی کرتا رہتا ہے۔ ان دونوں محاذوں کے علاوہ ایران مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے مملکت کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہے۔
دنیا کے عقل مندچیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ شام اور عراق میں انسانیت کی حرمت کو پامال کرنے والی تنظیم داعش گوکہ القاعدہ کے بطن سے پیدا ہوئی مگر یہ مادر تنظیم سے کہیں زیادہ سفاک اور انسانیت دشمن ہے۔ عراق پر امریکی قبضے کے دوران القاعدہ کے ارکان سے تشکیل پانے والی اس سفاک تنظیم کو دہشت گردی کے ماہروں نے پہلے پہل سنی شدت پسند جماعت قرار دیا بلکہ امریکی حکام یہاں تک کہتے رہے کہ اس تنظیم کے پشت پناہ خلیجی ممالک ہیں۔بعد ازاں وقت نے ثابت کردیا کہ داعش شامی حکومت کی پیدا کردہ تنظیم ہے جس کی مالی مدد ایران سے کی جاتی ہے۔حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ داعش خطے میں ایرانی تخریبی ایجنڈے کی تکمیل کرتی ہے۔یہ داعش ہی ہے جس کے تعاون کے بغیر عراق میں ایرانی اثر ونفوذ ممکن نہیں تھا۔داعش نے کبھی شیعہ اکثریتی علاقوں کا رخ کیا نہ خطے میں ایران کے مفادات کو کوئی نقصان پہنچایا۔عراق اور شام کے جن علاقوں پراس نے قبضہ کیا ،وہ سنی اکثریتی علاقے تھے۔اس نے موصل، فلوجہ اور اب رمادی پر قبضہ کیا، یہ سب سنی علاقے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے اس کی سرگرمی کا رخ عراق کے جنوب میں ہے ، اس نے عراق کے مشرق کی طرف کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا جہاں شیعہ آبادی ہے۔اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ داعش بھی حوثی، حزب اللہ اور دیگر شیعہ جماعتوں کی طرح ایران کی ہی لے پالک ہے تاہم اس نے سنی لبادہ اوڑ کر رکھا ہے۔
سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں کی تاریخ کافی طویل ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جس نے 1987ء میں موسم حج کے دوران ، اللہ تعالی کے محترم مہینے میں ، اللہ تعالی کے محترم گھر میں جلوس نکال کر اللہ تعالی کے معزز مہمانوں کو نہ صرف ہراساں کیا بلکہ اس مذموم کارروائی میں کئی عازمین جاں بحق بھی ہوئے۔ اس نے مقدس شہر کو 1989ء کے حج کے دوران ایک مرتبہ پھر نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ الخبر میں 1996 ء میں ہونے والے دھماکے کے ملزمان بھی اسی نے تیار کئے، عوامیہ محلے میں گاہے بگاہے اچھل کود بھی وہی کراتا ہے، بحرین میں شیعہ آبادی کو ورغلانے کا ذمہ دار بھی وہی ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں ایران کی تخریب سرگرمیوں کی فہرست خاصی طویل ہے جس کا یہاں احاطہ کرنا ممکن نہیں۔
سعودی عرب جغرافیائی طور پر بہت بڑے رقبے پر محیط ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہاں کئی فرقوں سے تعلق رکھنے والی اقلیتیں بھی آباد ہیں۔ جہاں ملک کی عظیم اکثریت سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے وہاں مشرقی ریجن میں بارہ امامی شیعہ بھی ہیں، مدینہ منورہ میں ’’نخاولہ‘‘ قوم سے تعلق رکھنے والے شیعہ ہیں اور نجران میں اسماعیلی شیعہ بھی آباد ہیں۔یہ سب صدیوں سے سنی اکثریت کے ساتھ آباد ہیں۔ ان کے شہری حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے، تعمیر وترقی میں انہیں پورا حصہ ملتا ہے۔تعلیم اور ملازمت کے میدان میں انہیں تمام مواقع میسر ہیں۔ سعودی حکومت نے اس اقلیت کی اہمیت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ اس کے برعکس ایران کی مثال ہے جہاں سنی اقلیت اپنے تمام شہری حقوق سے محروم ہے۔
ایران کو کبھی خلیجی ممالک میں آباداہل تشیع سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ وہ صرف اور صرف فتنہ وفساد پھیلانے کیلئے انہیں استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کی تازہ مثال قدیح کا خود کش حملہ ہے جس کا نشانہ شیعہ آبادی ہوئی۔ وہ سعودی عرب کے امن واستحکام کو متزلزل کرنے کیلئے گھٹیا سے گھٹیا طریقہ بھی استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ حملے کا مقصد سعودی عرب میں فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ قطیف کے عقل مندوں کو بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ انہیں ریاست کے خلاف ورغلایا جارہاہے۔
سعودی وزارت داخلہ کی متعدد پریس کانفرنسوں میں اس بات کا اعلان ہوا ہے کہ داعش نوعمر شہریوں کو ورغلانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس مقصد کیلئے وہ سوشل میڈیا کو استعمال کررہا ہے اور اپنے مقاصد میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کی ہے۔افسوس کہ یہ وہ دور ہے جس میں ہر آدمی فیس بک پر اپنا اخبار ، یوٹیوپ پر اپنا چینل اور واٹس اپ پر اپنے افکار ونظریات لاکھوں افراد تک منٹوں میں پہنچاسکتا ہے۔ ان نئے ذرائع میں سب سے زیادہ مہارت بچوں اور نوجوانوں کوحاصل ہے۔اسمارٹ فون پر بچوں اور نوجوانوں کی انگلیاں جتنی تیزی سے چلتی ہیں ، ادھیڑ عمر اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے بچے ان ذرائع سے کن کن افکار ونظریات کو اپنارہے ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس عفریت کو قابو کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گھر سے لے کر ریاست تک ان وسائل اطلاعات پر فلٹر لگایا جائے۔سعودی عرب، خلیجی ممالک اور پاکستان شدت پسند تنظیموں کے نشانے پر ہے۔ یہاں ایک طرف جدید وسائل اطلاعات کی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے تو دوسری طرف فرقہ واریت کی دعوت دینے یا اس پر ابھارنے والی ہر آواز کو وقت پر دبایا جائے۔ علماء، مفکرین اور دانشوروں کے علاوہ تعلیم وتربیت پر مامور افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں رواداری کو پروان چڑھانے اور شدت پسندی کی تمام شکلوں کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے سے معاشروں میں رواداری، باہم برداشت اور تحمل پیدا ہوسکتاہے۔یہ اسلام کی تعلیمات ہی ہیں جنہیں اختیار کرکے شیعہ وسنی اور تمام مسالک اور فرقوں سے وابستہ افراد صدیوں سے امن وسکون سے آبادہیں۔ ملکوں کی معاشرتی ترکیب کو بگاڑنا ایران کا طریقہ کار ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ قدیح خود کش دھماکہ ہو یا حوثی باغیوں کی شرارتیں، داعش کی سفاکیت ہو یا القاعدہ کی دہشت گردی، یہ سب مکڑی کے جالے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ اس حقیقت کاادراک سنی مسلمانوں سے زیادہ خود شیعہ مسلمانوں کو ہے۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

WordPress Themes