ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں گے، عمران خان

Published on July 30, 2015 by    ·(TOTAL VIEWS 360)      No Comments

Konferenz_Pakistan_und_der_Westen_-_Imran_Khan
جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ کھلے دل سے تسلیم کر لیا لیکن جوڈیشل کمیشن نے جو کام ادھورا چھوڑا اسے مکمل کرنا چاہیے تھا ،
احتجاجی دھرنوں میں سابق فوجی جرنیلوں کے کردار کے معاملے کی انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے‘ (ن) لیگ نے پاک افواج کو بدنام کرنے کے لئے احتجاجی دھرنوں میں سابق جرنیلوں کے ملوث ہونے کی بات کی ہے‘
شہبا زشر یف کی جگہ ہوتا تو دھر نوں کے دوران ہی کمیشن بنا دیتا ‘انتخابی عمل کو شفاف بنانے اور رہ جانے والی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ دیا ہے ،
دھاندلی کے ذمہ دار صوبائی الیکشن کمشنرز کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہیں،
ان کو اپنے عہدوں سے استعفے دینے چاہییں ، انتخابی عمل کو شفاف بنا دیا جائے تو دھاندلی ختم ہو جائے گی ،ہم شوق سے نہیں جب کسی ادارے نے ہماری دھاندلی کی شکایات کا نوٹس نہیں لیا تو پھر احتجاجی دھرنا دیا
اسلام آباد(یو این پی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں گے ، جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ کھلے دل سے تسلیم کر لیا لیکن جوڈیشل کمیشن نے جو کام ادھورا چھوڑا اسے مکمل کرنا چاہیے تھا ،احتجاجی دھرنوں میں سابق فوجی جرنیلوں کے کردار کے معاملے کی انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے‘ (ن) لیگ نے پاک افواج کو بدنام کرنے کے لئے احتجاجی دھرنوں میں سابق جرنیلوں کے ملوث ہونے کی بات کی ہے‘شہبا زشر یف کی جگہ ہوتا تو دھر نوں کے دوران ہی کمیشن بنا دیتا ‘انتخابی عمل کو شفاف بنانے اور رہ جانے والی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ دیا ہے ، دھاندلی کے ذمہ دار صوبائی الیکشن کمشنرز کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہیں ان کو اپنے عہدوں سے استعفے دینے چاہییں ، انتخابی عمل کو شفاف بنا دیا جائے تو دھاندلی ختم ہو جائے گی ،ہم شوق سے نہیں جب کسی ادارے نے ہماری دھاندلی کی شکایات کا نوٹس نہیں لیا تو پھر احتجاجی دھرنا دیا ، عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے لئے قائم انکوائری کمیشن کی تشکیل تحریک انصاف کی جیت ہے ، موجودہ حکمران مکمل ناکام ہو چکے ہیں ، ہمیں ڈی سیٹ کرنے کی باتیں کر کے کوئی خوفزدہ نہیں کرسکتا ، پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں مضبوط اور محنتی کارکنوں کو آگے لائیں گے اور تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی ، خیبر پختونخواہ میں جن حلقوں میں دھاندلی کی شکایات تھیں وہاں دوبارہ انتخابات ہوئے ہیں ۔ وہ جمعرات کے روز مقامی ہوٹل میں تحریک انصاف کے نیشنل آرگنائزر جہانگیر ترین اور سینٹرل آرگنائزر شاہ محمود قریشی سمیت دیگر کے ہمراہ سینئر صحافیوں اورکالم نگاروں سے گفتگو کررہے تھے ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ہم نے عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے متعلق تمام شواہد جوڈیشل کمیشن میں دیئے لیکن اس کے باوجود ہم نے اپنے اعلان کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو بھی تسلیم کر لیا ہے اور اب ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں گے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عام انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے اور صرف تحریک انصاف ہی نہیں ، 20سے زائد سیاسی جماعتیں اس دھاندلی کے خلاف جوڈیشنل کمیشن میں گئیں ۔ جوڈیشل کمیشن میں ہم نے عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی اور الیکشن کمیشن کی کوتاہی اور نا اہلیوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور اب رہ جانے والی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو بھی خط لکھ دیا ہے ۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے صوبائی عہدیداروں کو مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ جوڈیشل کمیشن میں بھی ان کی کوتاہیوں اور نا اہلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف جمہوریت پسند ہے اور ہم ملک میں جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت صرف باتیں کرنے کی بجائے مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کرے ۔ اب تک تو ملک سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور دیگر مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ (ن) لیگ کے موجودہ دور حکومت میں بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا بحران ختم نہیں ہو سکے گا ۔ عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف میں کوئی اختلافات نہیں ، سب ملک و قوم کی جنگ لڑ رہے ہیں اور تحریک انصاف اقتدار میں آکر ان کا احتساب کرے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان کہا کہ تحریک انصاف نے احتجاجی دھرنے اور جلسے کسی کے اشارے یا حمایت سے نہیں صرف عوام کی طاقت سے کیے ہیں اور یہ کہنا کہ جنرل پاشا تحریک انصاف کے پیچھے تھے تو وہ بھی جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جنرل پاشا لوگوں کو احتجاجی دھرنے میں لائے اگر وہ ایسا کر سکتے تو پھر پرویز مشرف کے لئے کیوں لوگ نہیں لا سکے ؟ ۔ انہوں نے کہاکہ میں شہباز شریف کی جگہ ہوتا تو احتجاجی دھرنوں میں سابقہ جرنیلوں کے ملوث ہونے کے معاملے کی شفاف انکوائری کے لئے کمیشن بنا دیتا ۔ میرا بھی مطالبہ ہے کہ اس معاملے پر کمیشن بنایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Free WordPress Themes