مذاہب کا عالمی دن

Published on January 17, 2016 by    ·(TOTAL VIEWS 685)      No Comments

akhtar sardar ch
ہر سال جنوری کی تیسری اتوار کو دنیا بھر میں مذاہب کا عالمی دن
منایا جاتا ہے ۔اس سال یہ دن 17جنوری کو منایا جارہا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا میں آباد مختلف مذاہب اور مسلک کے افراد کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا بتایا جاتا ہے۔ہر انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار ہے ۔وہ بھی جو خود کو ملحد کہتے ہیں( لادینی یا ملحدیت ) ۔انسانی تاریخ میں اتنے مذاہب گزرے ہیں کہ ان کی درست تعداد بتانا ممکن نہیں ۔ جن میں سے بے شمار مذاہب اب ناپید ہو چکے ہیں ۔
دنیاکے تمام مذاہب میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ نظریاتی یا علاقائی اختلافات کے باعث فرقے بن جاتے ہیں۔ مذاہب عالم میں فرقوں کی تعداد بے شمار ہو گی ۔تمام مذاہب میں بنیادی طور پر اختلاف پائے جاتے ہیں مگر سب میں ایک بات مشترک ہے کہ ایک اللہ ہی اس کائنات کا مالک وخالق ہے ۔اللہ سبحان و تعالی کا نام ہر مذہب میں الگ ہے ۔
ہمارا موضوع فرقے نہیں مذاہب عالم ہے، ان میں بھی صرف چندمشہور مذاہب کی بنیادی معلومات کے بارے مختصر ذکر کریں گے، میرے خیال میں بلحاظ تعداد درج ذیل قابل ذکر مذاہب ہیں ۔اسلام،عیسائیت، یہودیت،چینی مذاہب (بدھ مت، تاؤ مت اور کنفیوشس مت) ،ہندومت، جین مت ، سکھ مت ، زرتشت ، شن تومت ،بہائی مت ،وغیرہ
اسلام ۔
عالمی مذاہب میں ایک اسلام ہے ،جس کے بانی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جو571عیسوی میں سعودی عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے ۔عہد جدیدمیں اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے (شائد یہ بات کسی حد تک غلط ہے، آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ تعداد اسلام کے ماننے والوں کی ہے)یہ دنیا میں دیگر مذاہب کی نسبت سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ۔ اس مذہب کے ماننے والے دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ مقدس کتاب قرآن ہے ۔ توحید و رسالت دو بنیادی عقیدے ہیں اور اسلام کے پانچ ارکان ہیں ۔کلمہ ،نماز،روزہ ،حج ،زکوۃ ۔ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اہمیت دی گئی ہے ۔ اسلام کے دو بڑے فرقے شیعہ اور سنی ہیں اور ان کی مزید بہت سی اقسام ہیں۔اسلام میں رنگ، نسل اور زبان کی کوئی تفریق نہیں، اس لئے موجودہ دور کا انسان اس مذہب کو قبول کرنے میں کافی دلچسپی رکھتاہے ۔
عیسائیت ۔
مذہب عیسائیت جس کے بانی اللہ کے رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے جو 2016 سال قبل بیت المقدس(فلسطین ) میں پیدا ہوئے ۔اس مذہب کی مقدس کتاب انجیل (بائبل) ہے ۔عیسائیت کے دو بڑے فرقے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ہیں ،جبکہ دیگر بھی بہت سے فرقے بھی ہیں۔اس مذہب کے ماننے والے دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔
یہودیت ۔
اس کے بانی اللہ کے رسول حضرت یعقوب علیہ السلام تھے، جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ اللہ کے دیگر بہت سے پیامبر یہودی قوم کو ہدایتدینے کیلئے آتے رہے ۔اس مذہب کی مقدس کتاب توریت ہے۔ یہودیت کے دوبڑے فرقے آرتھوڈکس اور کنزرویٹو ہیں چند اور فرقے بھی ہیں۔اس مذہب کے ماننے والے بہت کم ہیں۔یہودی اسرائیل کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی موجود ہیں۔
بدھ مت۔
بدھ مت چھٹی صدی قبل مسیح میں ہندوستان میں پیدا ہونے والا مذہب ہے، جس کے بانی مہاتما بدھ تھے ۔یہ راجہ کے بیٹے تھے اور اپنی ابتدائی عمر سے ہی حقیقت کی تلاش میں سرکرداں ہو گئے تھے ۔ ان کا نام سدھارتھ تھا اور گیان ملنے کے بعد بدھ کا لقب ملا اور تعلیمات کا پرچار کیا۔بدھ مت کے آٹھ بنیادی اصول ہیں،جن میں سچا یقین ، سچا مقصد ، سچا بیان ، سچا کام ، سچی زندگی ، سچی محنت ، سچی من کی حالت ، سچا دھیان شامل ہیں۔بدھ مت ایک فلسفیانہ مذہب ہے ۔بدھ مت دنیا کے تین بڑے مذاہب میں سے ایک ہے (اسلام اور عیسائیت کے بعد بلحاظ تعداد بدھ مت ہیں ) ۔ہندوستان کے بعد چین اور جاپان کے لوگ بدھ مت سے زیادہ متاثرہیں۔اب دنیا کے تمام ممالک میں یہ آباد ہیں۔
کنفیوشس مت ۔
کنفیوشس مت چین کا سب سے با اثر مذہب ہے ۔ابتداء میں یہ کوئی باقاعدہ مذہب نہیں تھا ۔اخلاقیات کا ایک ضابطہ تھا ۔کنفیوشس نے کبھی بھی اپنی خود کو اللہ کا نبی یا اوتار ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔کنفیوشس چھٹی صدی قبل مسیح میں پیداہوئے تھے ۔ان کی تحریری تعلیمات کا نام گلدستہ تحریر کہلاتی ہیں۔کنفیوشس کی تعلیمات کے مطابق دنیا میں واحد خدائی قانون سچ ہے۔ اصل سچائی انسان کے دل کے اندر ہوتی ہے ۔ سچ تک رسائی صرف اور صرف خدا کے ذریعے ہو سکتی ہے ۔جس شخص نے کنفیوشس کی وفات کے بعد کنفیوشس مت کا پرچار کیا، اس کا نام کنگ تھااور جب اس نے شہرت حاصل کی تو اسے کنگ گرو کا خطاب دیا گیا ،جسے کنگ قونسو بھی کہا جاتا تھا۔جو لاطینی زبان میں کنفیوشس ہوگیا۔
تاومت ۔
تاومت بھی چین کا مذہب ہے ۔اس کی ہیت بھی مذہب سے زیادہ اخلاقی فلسفہ کی ہے ۔تاومت کے بانی کا اصل نام لی پوہ تانگ تھا،لیکن وہ لاوتزو کے نام سے مشہور ہوئے ،جس کے معنی بوڑھا استاد کے ہیں،کیونکہ چین میں بڑھاپے کو ہی زندگی کا اصل آغاز سمجھا جاتا ہے ۔اس مذہب کی کتاب کا نام تاوتی چنگ ہے، جس کا معنی فطرت کا راستہ ہے ۔
چین کے رہنے والے ایک ہی وقت میں بدھ مت ، تاومت اور کنفیوشس ازم کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں۔
ہندومت۔
ہندومت کا آغاز تقریباً تین ہزارسال قبل مسیح میں ہوا۔یہ اپنے ابتدائی دور میں زیادہ تر جادو ٹونے کی رسوم پر مشتمل تھا۔اس کی مقدس کتاب وید ہے، جو بہت سے پرانوں پر مشتمل ہے ۔رامائن ، گیتا اور مہا بھارت بھی مذہبی کتابیں ہیں۔اس کا کوئی ایک بانی نہیں ہے، بلکہ بہت سے ہیں ،جن میں رام کا بہت مقام ہے ۔ اس مذہب میں انسانی تقسیم پائی جاتی ہے ۔ہندو مت بھارت کا سب سے بڑا مذہب ہے ۔ اس میں ذات پات کا نظا م پایا جاتا ہے ۔سب سے اعلی لوگ برہمن کہلاتے ہیں ۔ ان کے بعد کھتری اور ویش ہیں، جبکہ شودر کو سب سے گھٹیا سمجھا جاتا ہے جو باقی ذاتوں کی غلامی کے لیے پیدا ہوئے ۔
جین مت ۔
جین مت بدھ مت کا ہم عصر مذہب ہے ۔یہ ہندو مت میں پائی جانے والی ذات پات کے نظام کے خلاف ہے ۔مہا ویر اس مذہب کے بانیوں میں اہم مقام رکھتا ہے ۔مہاویر کا والد بھارت کی ریاست بہار میں واقع ایک چھوٹی سی ریاست کا حکمران تھا اور والد کی وفات کے بعد حکمرانی چھوڑ کر گیان کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔(مہاویر اور بدھ مت کی زندگی ملتی جلتی ہے اور تعلیمات بھی )مہاویر کے زمانے سے ہی جین مت میں دو فرقے بن گئے تھے ۔جین مت میں راست عقیدہ ، راست علم اور راست رویہ پر خصوصی زور دیا جاتا ہے ۔جین مت میں سچ بولنے والے کا بہت احترام ہے ۔
سکھ مت ۔
سکھ مت دنیا کے نئے مذاہب میں سے ایک ہے، اس کا آغاز سولہویں صدی میں ہوا۔سکھ مت کے بانی بابا گرونانک جی1469ء میں پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے ،جبکہ تعلیم مسلمان استاد سے حاصل کی۔یہ بتوں کو نہیں پوجتے بلکہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ان کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب ہے ،جس میں زیادہ ترمسلمان صوفی شاعربابا فرید اور دیگر صوفی شعرا ء کی کافیاں شامل ہیں۔ ہندوستان کے پنجاب میں ان کی اکثریت ہے، جبکہ دیگر ممالک میں بھی آباد ہیں۔
زرتشت ۔
زرتشت ایران کا قدیم مذہب ہے، جس کے ماننے والے پارسی کہلاتے ہیں اور کم و بیش دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔زرتشت تین سے چار ہزار سال پرانا مذہب ہے ۔اس کا بانی زرتشت تھا۔اس کی تعلیمات میں ایک خدا کی پرستش کی تلقین ملتی ہے ۔زرتشت مذہب کی کتاب کا نام اوستا ہے ۔
شن تو مت ۔
شن توshintoمت جاپان کا ایک اہم مذہب ہے ۔شن تو چینی زبان کا لفظ ہے ،جس کے معانی خدائی راستہ کے ہے ۔شن تومذہب کا باقاعدہ آغاز تین سو سال قبل مسیح میں ہوا۔اس کی بنیادی تعلیمات کے مطابق انسان خدا کی مرضی سے فرار حاصل نہیں کر سکتا ۔ جاپان کاسرکاری مذہب ہے ۔
بہائی مت۔
دنیا کے نومولود مذاہب میں سے ایک بہائی مت ہے۔دیگر سوڈان میں محمد احمد المہدی (1844ء تا 1885ء) ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی (1853ء تا 1908ء) ۔بہائی مت کا بانی مرزا حسین علی نوری (1817ء تا 1892ء) ہے، یہ ایران میں پیدا ہوا۔اس نے پہلے خود کو باب (علم کا) کی حیثیت میں پیش کرنے کے بعد جب علی محمد شیرازی کے پاس معتقدین کی تعداد کثیر ہوئی تو اس نے اپنے دعویٰ کو امام مہدی تک وسعت دے دی ۔بعد میں مرزا حسن علی کے بڑے فرزند عبد البہاء نے بہائیت کو مشتہر کیا وسعت د ی ۔
۔( day world Religion ) ڈے منانے کی ابتدا بہائی مذہب نے 1950ء میں شروع کی۔جس کا مقصد عالمی سطح پر تہذیبوں کے درمیان تصادم کے امکانات و خدشات کو کم کرنا تھا ۔ان مذاہب کے علاوہ پوری دنیا میں بہت سے مذاہب موجود ہیں۔ جن کی تعداد اور اثرو رسوخ کم ہے ۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Free WordPress Themes