جب پھول انگارے بن جائیں

Published on March 16, 2016 by    ·(TOTAL VIEWS 563)      No Comments

Sultan
ہمارا وطن ایک باغیچے کی مانند ہے اس باغیچے میں اس نے بہت سارے خوشبودار پھول پیدا کیے تاکہ وہ پھول بہتر نشوونما پا کر اس باغیچے کی خوبصورتی میں اضافہ کریں اور نوازائیدہ پھولوں کو اچھی تربیت ملی کھانے اور پہننے کو بھی اچھا ملا مگر جب یہ پھول اپنے جوبن پر آئے تو چاہیے یہ تھا اپنی خوبصورتی کے ساتھ خوشبو سے اس گلشن کو مہکاتے مگر ان پھولوں نے صرف اپنی خوبصورتی ہی دکھائی یہ جا وہ جا اور خوشبو کی جگہ اپنی حوس کی آگ سے اس گلشن کو ہی جھلسا دیا جس کے نتیجے میں یہ گلشن پھولوں کی خوشبو کی بجائے ان کی حوس کی آگ سے جھلس چکا ہے آج والدین اپنے لخت جگر کے ٹکڑوں کو بیچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کوئی جگر کے ٹکڑوں کو دووقت کی روٹی مہیا کرنے کیلئے اپنے اعضائے رئیسا بیچ رہے ہیں اور انتہایہ ہے کہ باپ سے بچے کھانا مانگتے ہیں اور وہ کہتا ہے یہ مشروب پی لو دوبارہ کبھی بھوک نہیں لگے لگی ۔کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ وہ باپ کتنا مجبور ہو گا ،’’خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی کتا بھی دریائے فرات کے کنارے پیاس سے مر گیا تو مجھے روز قیامت جواب دینا پڑے گا ‘‘یہ بھی پھول تھے مگر آج کے پھول انگارے بن گئے ہیں ۔
کیا اس گلشن نے ان پھولوں کو اس لیئے پالا پوسا تھا کہ وہ اسے ہی جھلسا دیں ؟ بلکہ یہ لکھنا بجا ہو گا کہ جھلسانے بعد اب اس گلشن کے نوازائیدہ پھولوں کو پید اکرنیوالے پودوں کو ہی جڑ سے اکھاڑنے میں مکمل تگ و دو کر رہے ہیں کتنے نامی گرامی سیاستدان ایسے ہیں جو خود کو اس گلشن کا حصہ باور کرواتے نہیں تھکتے ہیں مگر ان میں خوشبو نام کی کوئی چیز نہیں ہے مسند اقتدار پر بیٹھنے والے یہ پھول اپنی حوس کی آگ میں اس گلشن کو تباہ برباد کرنے میں مصروف ہیں ہر کسی کی خواہش مجھے زیادہ مل جائے حسین نوخیز کونپلوں کو آزادی کے نام پر اپنا غلام بنانا ان کا مشغلہ ہے ’’سامراج نے کہا تھا کہ شراب و شباب دے دو فتح کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گا‘‘آج ہر طرف لاقانونیت ہے ’’ایک وقت تھا زیور و جواہرات سے لدی عورت اکیلی حج کرنے جاتی تھی کسی کی جرت نہیں تھی اُسے چھیڑے ‘‘اور آج گھر میں بیٹھے کوئی محفوظ نہیں ہے نت نئے قوانین بنا بنا کر اس وطن عزیز کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کا عمل جاری و ساری ہے معاملہ ہو غریبوں کے چولہوں کا تو اپوزیشن صرف مگر مچھ کے آنسو روتی ہے ،جب باری آئے اپنے اللوں تللوں کو تو اپوزیشن معہ حکومت غریبوں کے منہ کا نوالہ چھیننا اپنے حقِ نوابی سمجھتے ہیں یہ گلشن جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے اسے پھولوں نے ہی نوچ ڈالا ہے اور وہ پھول اب انگارے بن گئے ہیں ان پھولوں میں ابدی جھوٹے لیڈر ان ،اینکر پرسنز ،قانون دان ،علماء و ملاں ،لکھاری اور جرنیل اور کیا لکھا جائے قلم شرماتا ہے کہ روز قیامت ہر چیز کو حساب دینا ہے نہ لکھوں تو اُدھر پکڑا جاؤں گا تو کوئی چھڑانے نہیں آئے گا مگر لکھنے پر پکڑا جانااِدھر بھی لازم ہے مگر یقین کامل ہے کہ ساتویں آسمان پر چھڑانے والا تو بیٹھا ہے جن پھولوں کو مسند اقتدار پر بیٹھایا گیا تھا کہ وہ اپنی خوشبو سے گلشن کے چاروں کونوں کو مہکا دیں افسوس کہ انہوں نے اُلٹا اس کو حوس کی آگ سے جھلسا دینا فرض عین سمجھ لیا کراچی اس کی مثال ہے جسکو آپ جھٹلا نہیں سکتے ہیں اپنا گلشن اپنا ہی ہو تا ہے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اغبار سے فنڈنگ لیکر اس کو تباہ کر دیں کالا باغ ڈیم جیسے منصوبوں پر عملدرآمد میں رکاوٹ بن کر عصبیت پھیلائیں ’’ہر دفعہ سیلاب سے آدھا کے پی کے ڈوب جاتا ہے ‘‘ اپنا پانی انڈیاء کو بیچ دیا اپنی عزت کو امریکہ کے سامنے پیش کردیا ۔مختلف ٹاک شوز میں بیٹھ کر غیروں کے ایجنڈے پر لیکچر دیں اب یہ پھول انگارے بن چکے ہیں ۔
ان انگارے نماء پھولوں سے اب جان چھڑانے کا وقت آگیا ہے بیورو کریٹ اس ملک کے اعلیٰ درجے کے پھول ہیں کچھ پھول اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اپنی خوشبو سے اس گلشن کو حقیقت میں مہکا گئے ’’جیسے شہاب نامہ‘‘ ہائے افسوس کہ ان پھولوں کی اکثریت نے اپنی حوس سے جھلسانے کا کام عروج پر کر دیا ہے اس میں سیاستدان ملوث ہیں فضول کی میٹینگز فضول کے تھنک ٹینک صرف اور صرف پالیسی یہ کہ لوٹ مار کر کے مال بناؤ جتنا بڑا منصوبہ اتنی بڑی کمیشن ،ریلوے ،پی آئی اے ،پاکستان اسٹیم مل اور واپڈا دیگر ادارے مکمل نام لکھنے سے مضمون میں طوالت ہو گی پھر کبھی سہی عقلمندوں کیلئے اشارہ کافی ہے ۔اپنے آفس میں ماتحت افسران کو بٹھا کر لاکھوں کی کڑائیاں اور دیگر لوازمات پر پیسے کا ضیاع کرنے کی بجائے انہیں کام کرنے دیں ،ان کے دفاتر میں عوام ان کی منتظر ہو تی ہے، اخلاقیات کو مدنظر رکھیں کیونکہ معروف لکھاری ’’حسن نثار‘‘بارہا کہہ چکے ہیں اس قوم میں اخلاقیات کی کمی ہے ان انگاروں سے جان چھڑانے کا وقت آگیا ہے طریقہ کوئی بھی ہو مگر موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ طریقہ اچھا ہونا چاہیے نیب ہی سہی ؟؟۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Themes