
اسلام آباد(یواین پی)پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب سینٹرشیری رحمان نے سینیٹ میں بجٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ پنجاب کے وزیر اعظم نے پنجاب کے لیے بنایہ ہے ، اس میں باقی صوبوں کہ لیے کچھ بھی نہی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا بجٹ 1990 کی دہائی میں بنتے تھے جب صوبوں کو اختیارات نہیں منتقل کیے گئے تھے۔ ، اس بجٹ میں پاکستان سے منسلک تمام واضح چیلنجز کو نظر اندازکیا گیاہے۔ حکومت نے بجٹ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے پاکستان کی وفاقی وسماجی معاہدے کو بھی نظرانداز کیاہے۔ شیری رحمان نے حکومت پرتنقید کرتے کہا کہ پاکستان کا ایک تہائی حصہ جو غربت کی لکیر کے نیچے ہے اس کو بھی وفاقی حکومت نے درکنار کردیاہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) جیسے بڑی عوامی دولت کی غریبوں میں منتقلی کے پروگرام متاعرف کیے۔ موجودہ حکومت کہ پاس عوام کہ لیے کوئی پروگرام نہیں نہ ہی حکومت نے ٹیکس بیس بڑھانے کے لئے کچھ کیا ہے۔انتخابی مہم کے دوران حکومت نے جو ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمے کا وعدہ کیا تھا اس کے لیے حکومت کے پاس کیا جواب ہے۔ بجلی کی پیداوار میں اضافہ اور ٹرانسمیشن کی اصلاح کے بجائے پیداوار میں کمی ہوئی ہے۔