کھیتوں میں ٹینک چلانے سے غربت ختم نہیں ہو سکتی، وزیراعظم

Published on October 6, 2016 by    ·(TOTAL VIEWS 324)      No Comments

12
 اسلام آباد:(یو این پی) وزیراعظم نواز شریف نے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کے غربت کے خاتمے کے عزم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کھیتوں میں ٹینک چلانے سے غربت ختم نہیں ہو سکتی۔ وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے کہ 7 لاکھ ہندوستانی فوج کی موجودگی کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچلا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے غربت کے خاتمے کے عزم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کھیتوں میں ٹینک چلانے سے غربت ختم نہیں ہوسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیروں کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتا جس کا وعدہ کر رکھا ہے، لیکن اب اقوام متحدہ کو عالمی امن کے محافظ کے طور پر اپنی ساکھ برقرار رکھنا ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر مسلسل آتش فشاں کی طرح سلگ رہا ہے، لیکن چہرے مسخ کرنے اور بینائی محروم کرنے سے آزادی کی تحریک کو کچلا نہیں جاسکتا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے بہادر فرزند کے خون سے روشن ہونے والی شمع نے دنیا کو یہ باور کروایا ہے کہ وہ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہندوستان کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی تاہم اس کو ٹھکرایا گیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بار بار کشمیر کے مسئلے کو اٹھایا، عالمی برادری کو بتایا کہ کشمیریوں کی نئی نسل ہندوستان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے، ایک نئی تحریک نے جنم لیا ہے اور اس تحریک کو بھارت کے مظالم سے روکا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کے حقوق کی فراہمی، آزادانہ استصواب رائے کا حق دینے اور جموں کشمیر سے ہندوستانی فوج کے انخلاء کے نکات اٹھائے گئے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ حکومت نے حالیہ مہینوں میں کشمیر کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کے اقدامات کیے، سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو اس پر بریفنگ دی گئی، اقوام متحدہ کو خطوط لکھے گئے اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اڑی کا واقعہ عین اُس وقت پیش آیا جب میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے جا رہا تھا اور اس حملے کی ابتدائی تحقیق سے قبل پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس الزام سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے عزائم کیا تھے، بغیر کسی ثبوت کے یہی راگ الاپا گیا اور پھر دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 28 ستمبر کو لائن آف کنٹرول پر بلا جواز فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس سے 2 پاکستانی فوجی جاں بحق ہوئے، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال کے بجائے مذاکرات سے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Free WordPress Themes