جے آئی ٹی تحقیقات،بیٹو ں کے بعد وزیر اعظم کی بیٹی بھی پیش،وہ قرض بھی اتار دیا جو واجب بھی نہ تھا،مریم نواز

Published on July 5, 2017 by    ·(TOTAL VIEWS 243)      No Comments

جے آئی ٹی تحقیقات،بیٹو ں کے بعد وزیر اعظم کی بیٹی بھی پیش،وہ قرض بھی اتار دیا جو واجب بھی نہ تھا،مریم نواز
جے آئی ٹی الزام ڈھونڈ نے میں بھی ناکام ہے ، ملک کے سب میگا پراجیکٹس پر ن لیگ اور نواز شریف کی مہر ہے
اس کے باوجود کرپشن کا کوئی الزام نہیں ،شریف خاندان سے کسی منصوبے میں کرپشن،کک بیکس یا کمیشن کا نہیں خاندانی کاروبار سے متعلق پوچھا جا رہا ہے،ذاتی کاروبار کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے اور نہ اس کا جواب دینا ضروری ہے،مقدمات بنانے والوں کی اپنی آف شور کمپنیاں ہیں ،باپ پر دباؤ ڈالنے کیلئے بیٹی کو پانامہ اور ڈان لیکس میں ملوث کیا گیا،آپشن ہمارے پاس بھی بہت تھے
ہم نے استثنیٰ لیا نہ کمر درد کا بہانہ کر کے گاڑی کا رخ ہسپتال کی طرف موڑا،عدالت سے اشتہاری ہو کر ہم نتھیا گلی کے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں چھپ سکتے تھے،اس وقت سے ڈرو جب نواز شریف زخموں کے تمغے سجائے عوام میں جائیں گے
سازشیں نہ رکیں تو نواز شریف چوتھی اور پانچویں بار بھی وزیر اعظم بنیں گے،وہ ہر سازش کے بعد پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آئے ہیں ،عوام ان پر اعتبار کرتے ہیں ،نواز شریف کو سینے میں دفن راز اور سازشوں کو بے نقاب کرنے پر مجبور نہ کیا جائے
نوازشریف کے خلاف سازش کی جاری رہی تو وہ چوتھی بار بھی وزیراعظم بنیں گے اور پانچویں بار بھی وزیراعظم بنیں گے جب جب نوازشریف کے خلاف سازش ہوتی ہے پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آتے ہیں ۔ روک سکتے ہوتو روک لونوازشریف کو ورنہ ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا،روک لوورنہ بجلی کے منصوبے مکمل ہوجائیں گے ،لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گ
روک لوورنہ سڑکوں کے جال بچھیں گے، سی پیک مکمل ہوجائے گاروک لوورنہ وہ 2018کا الیکشن جیت جائے گا
وزیر اعظم کی صاحبزادی کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد میڈیا سے جارحانہ گفتگو
اسلام آباد(یو این پی) وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں کے بعد بیٹی مریم نواز بھی پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے عدالت کی جانب سے قائم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو گئی ہیں اور دو گھنٹے تک سوالوں کے جواب دئیے ہیں جس کے بعد مریم نواز نے کہا کہ ان کا نام سپریم کورٹ کے حکم میں نہیں تھا اس کے باوجود جے آئی ٹی نے بلایا اور میں نے پیش ہو کر وہ قرض میں اتارا ہے جو واجب تک نہ تھا،جے آئی ٹی الزام ڈھونڈ نے میں بھی ناکام ہے ، ملک کے سب میگا پراجیکٹس پر ن لیگ اور نواز شریف کی مہر ہے اس کے باوجود کرپشن کا کوئی الزام نہیں ،شریف خاندان سے کسی منصوبے میں کرپشن،کک بیکس یا کمیشن کا نہیں خاندانی کاروبار سے متعلق پوچھا جا رہا ہے،ذاتی کاروبار کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے اور نہ اس کا جواب دینا ضروری ہے،مقدمات بنانے والوں کی اپنی آف شور کمپنیاں ہیں ،باپ پر دباؤ ڈالنے کیلئے بیٹی کو پانامہ اور ڈان لیکس میں ملوث کیا گیا،آپشن ہمارے پاس بھی بہت تھے ہم نے استثنیٰ لیا نہ کمر درد کا بہانہ کر کے گاڑی کا رخ ہسپتال کی طرف موڑا،عدالت سے اشتہاری ہو کر ہم نتھیا گلی کے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں چھپ سکتے تھے،اس وقت سے ڈرو جب نواز شریف زخموں کے تمغے سجائے عوام میں جائیں گے،سازشیں نہ رکیں تو نواز شریف چوتھی اور پانچویں بار بھی وزیر اعظم بنیں گے،وہ ہر سازش کے بعد پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آئے ہیں ،عوام ان پر اعتبار کرتے ہیں ،نواز شریف کو سینے میں دفن راز اور سازشوں کو بے نقاب کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو پانامی کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا اجلاس واجد ضیاء کی صدارت میں شروع ہو ا ۔یو این پی کے مطابق اس موقع پر مریم نواز شریف نے سخت سکیورٹی میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کرایا اور دو گھنٹے تک سوالوں کے جواب دئیے۔جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کارکنان اور میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب کو دھوپ میں انتظار کرنا پڑاہے مجھے ملک بھر سے بزرگوں ، ماؤں بہنوں کے لاتعداد اظہار یکجہتی کے پیغامات آئے ہیں اور دعائیں گی گئی ہیں مجھے حمایت کا یقین دلایا گیا ہے جس پر سب کا شکر گزار ہوں حمایت جذبہ اور خلوص ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دوگھنٹے تک جے آئی ٹی کے سوالات کا جواب دیئے ہیں ۔ اپنے والد ،چچا،بھائیوں اور شوہر کے بعداس کے باوجود کے سپریم کورٹ کے حکم میں میرا نام نہیں تھا میں پیش ہوئی ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار نے وزیراعظم کے زیر کفالت یاکمپنیوں کی مالک ہیں کے جو بھی الزامات لگائے ہیں وہ کوئی الزام ثابت نہیں کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی بیٹی ہوں اور وزیراعظم کی بیٹی کی حیثیت اور اس انسان کی بیٹی کی حیثیت سے پیش ہوئی ہوں جس نے ہمیشہ آئین اور قانون کی پاسداری کی ہے میں نے وہ قرض اتاردیا ہے جو مجھ پر واجب بھی نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ا پنے بھائیوں کی طرح جے آئی ٹی سے میں نے بھی پوچھا ہے کہ ہم پر الزام کیا ہے میں نے جے آئی ٹی کو کہا کہ میں نے تمام سوالوں کے ایمانداری سے جواب دیئے ہیں اور پھر ان سے کہا کہ مہربانی کرکے بتائیں ہم پر الزام کیا ہے ۔ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ یہ دنیا کی پہلی جے آئی ٹی جو الزام سے پہلے تحقیقات کررہی ہے دنیا میں پہلے الزام لگتا ہے جے آئی ٹی اس کے بعد بنتی ہے یہ پہلی جے آئی ٹی ہے جو پہلے بن گئی ہے اور اب الزام ڈھونڈ رہی ہے کہ الزام کیا لگائیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے اور وزیراعظم نوازشریف کیلئے اس سے فخر کی بات اور کیا ہوگی کہ الزام لگانے والوں کے پاس ان پر الزام کیلئے کچھ نہیں مل رہاجو الزام لگائے گئے وہ ذاتی کاروبار سے متعلق ہیں ۔ ان الزامات کا سیاست سے دور کا تعلق نہیں ۔ یہ الزامات تب کے ہیں جب نوازشریف طالب علم تھے اور دادا مرحوم کے حوالے سے الزامات ہیں ۔ وزیراعظم نوازشریف کیلئے فخر کی بات ہے کہ وہ دو بار وزیراعلی اور تیسری بار وزیراعظم ہیں لیکن ان پر پانچوں ادوار کے حوالے سے الزام لگانے والوں کو کچھ نہیں مل رہا ۔ پاکستان میں موٹروے ہو ، سی پیک ہو یا بجلی ک منصوبے تمام میگاپراجیکٹ نوازشریف نے بنائے ہیں کوئی بھی بڑا منصوبہ ہواس پر مسلم لیگ ن اور نوازشریف کی مہر ہے ۔ کسی منصوبے میں ایک پائی کی کرپشن دور کی بات دشمن الزام بھی نہیں لگاسکتے ۔ اس لیے ن لیگ ایک خاندان اور وزیراعظم کے پاس اس سے زیادہ فخر کی بات کیا ہوسکتی ہے ۔یونی ویشن نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ 60یا 70یا80کی دہائی میں خاندان کے جو بھی کاروبار تھے ۔ اس سے متعلق سوال گھوم پھر رہے ہیں سریکاری یا پبلک کے ایک پیسے کے حوالے سے کوئی سوال نہیں ہے ۔پبلک یا سرکارکا ایک پیسہ کھانے کا الزام ہوتواس کو جواب دینا بنتا ہے ۔ ذاتی یا خاندانی کاروبار کے معاملات پر نہ سوال پوچھنا بنتا ہے نہ جواب دینا بنتا ہے ۔ ایک پیسے کی کرپشن اور ایک پیسے کی بلیک ،کمیشن ،منی لانڈرنگ ہے تو سامنے لانی چاہیے ۔ سامنے اس لیے نہیں آسکی کہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ ہمارے ذمے عوام کا کوئی پیسہ ، پبلک منی واجب الادا نہیں ہے جن پر عوام کے پیسے کے خرد برد کے مقدمات ہیں ۔ عوامی لین دین کے ہیں اور انہوں نے عدالتوں سے حکم امتناعی لے رکھے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خاندان81سال سے کاروبار ہے وہ اپنے اثاثوں کو جسٹی فائی کرسکتی ہے ہم اپنی جائیداد کو ثابت کرسکتے ہیں کر رہے ہیں اور جواب دے رہے ہیں لیکن کیا اس بات کا جواب ہے کہ جن لوگوں کے پاس دوسری کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے رکھنے کے سوا کوئی کاروبار یا روزگار نہیں نہیں ہے یومانگ مانگ کر گزارہ کرتے ہیں ۔ کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے وہ ارب پتی کیسے بن گئے ہیں ان سے سوال کیوں نہیں پوچھا جارہا ۔ اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ ہمیں رلائے گاتو وہ یہ سن لے کہ جھکانے یا رلانے کی طاقت صرف اللہ کے پاس ہے ۔ اللہ تعالی نے کسی انسان کو یہ طاقت نہیں دی کہ وہ اسے جھکائے یا رلائے یہ کسی انسان کی حیثیت یا اوقات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکمران خاندان سے ہیں حکمرانوں کا احتساب اللہ کے دربار میں بہت کڑا ہوتا ہے ۔ ہم جواب دے رہے ہیں دے چکے ہیں بار بار دیا ہے ۔ یہ پانچواں احتساب ہے اور ہر بار ہمارے خاندان کاروبار کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ پانچ ماہ سپریم کورٹ میں گئیں جبکہ 70جے آئی ٹی کو ہوگئے ہیں یہ ایک طرح سے ہمارا احتساب ہورہا ہے حکمران خاندان ہونے کے ناطے جو صاحب اللہ کو دینا ہے اس کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا ہے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نسان کی دنیا اور آخرت سے خوف آتا ہے جس نے اپنے اور جھوٹ ، جھوٹے الزامات ،بہتان ، 20کروڑ عوام کے سامنے لگائے خود پر بوجھ ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کوئی پہلی لیکس نہیں ہے جس میں مجھے ملوث کیا گیا ہے ۔ ایک ڈان لیکس بھی آئی تھی اس میں بھی مجھ پر الزام لگایاگیاوجہ صرف یہ ہے کہ باپ کو بیٹی کا نام استعمال کرکے دباؤ میں لایا جائے ۔ سب جانتے ہیں اسلامی اور مشرقی روایات میں بیٹی والدین اور خاص کر والد کے دل کا نرم ترین اور حساس ترین حصہ ہوتا ہے ۔ بیٹی فاطمہ الزھرہ جیسی ہوتی ہے علم اٹھا کر میدان میں آجائے تو وہ بی بی زینب کی طرح ہوتی ہے ۔ نوازشریف کی بیٹی کو اس کی کمزوری سمجھنے والونوازشریف کی بیٹی اس کی طاقت بنے گی ۔ کسی کا یہ خیال ہے بیٹیوں کو ملوث کرکے نوازشریف کو کسی امتحان سے دوچار کریں گے تو وہ سن لیں کہ میں نوازشریف کی بیٹی ہوں اس شخص کی بیٹی ہوں جس نے حق کیلئے کھڑا ہونا سکھایا اس شخص کی بیٹی ہوں جس نے مجھے تربیت دی اور ظلم کے آگے سر نہیں جھکایا ۔ جن لوگوں کو بہنوں کی قدر نہیں ہے وہ مجھے سمجھ نہیں سکتے ۔ جن کو بیٹیوں کی تکلیف کا پتہ نہیں خاندان کی اقدار کا پتہ نہیں وہ یہ باتیں کبھی نہیں سمجھ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ آج میں پاکستان کی اس بیٹی سے مخاطب ہوں جو اپنے والد سے محبت کرتی ہے ہر اس والد سے مخاطب ہوں جو اپنی بیٹی سے محبت کرتا ہے کہ اگر نوازشریف کی بیٹی کو آپ اس لیے نشانہ بنائیں گے کہ وہ وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی ہے تو وہ اس لیے لڑے گی کہ وہ نوازشریف کی بیٹی ہے کسی کو زعم ہے کہ وہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا تو اس کو نکال دے ۔ ہمارے پاس بہت آپشن تھے تھے ہم بھی تکنیکی معاملات ، استثنیٰ کا سہارا لے سکتے تھے ۔ ہم بھی اقتدار کے ایوانوں میں چھپ سکتے تھے ،کمردرد کا بہانہ بنا کر گاڑی کو ہسپتال کی طرف دوڑا سکتے تھے ہم بھی عدالتوں سے اشتہاری ہوکر نتھیا گلی کے سرکاری ریسٹ ہاؤ س میں چھپ سکتے تھے مگر ہم نے حساب دیا ہے اور دے رہے ہیں ۔ ہم نے تین نسلوں کا حساب دیا اور بار بار دیا ہے ۔ یاد رکھوآئینی اور قانون کی حفاظت اور پاسداری کے بدلے میں نوازشریف نے جو وار اپنے دل پر لیئے ہیں جس احتساب کی بٹھی میں سے وہ گزر کر آئے ہیں جس طرح مردانہ وار شیر دل انسان کی طرح احتساب کا بار بار سامنا کیا ، بہیمانہ احتساب کا سامنا کیا ہے وہ یہ احتساب اور زخم اپنے سینے پر تمغوں کی طرح سجا کر 2018کے الیکشن میں عوام کے پاس جائیں گے ۔ اس دن سے خوف کھاؤجب نوازشریف اپنی دہائی عوام کے پاس لے کر جائیں گے ۔ اس نہج پر مت جاؤکہ جو راز ان کے سینے میں دفن ہیں جو سازش ان کے خلاف ہورہی ہیں وہ عوام کو بتانے پر مجبور ہوجائیں ۔ نوازشریف کے سازشیں اس لیے ہورہی ہیں کہ سازشیں کرنے والوں کو پتہ ہے کہ وہ محب وطن انسان ہیں ،سازشیں جھیل جائیں گے وطن کی خاطر زبان نہیں کھولے گاچپ سادھے گا۔ انھوں نے کہا کہ میں سیاسی مخالفین اور ان لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ نوازشریف کی طاقت عوام ہیں ۔ سیاست دان بہت ہیں نوازشریف واحد لیڈر ہے جس پر قوم اعتبار کرتی ہے لوگوں کو پتہ ہے نہ وہ جھکے گااور نہ ملک کو جھکنے دے گانوازشریف آئین و قانون اورسویلین بالادستی کیلئے کھڑے ہیں کھڑے رہیں گے ان کے ان کے ہمراہ کسی لیڈر میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ کسی بھی غیر قانونی غیر آئینی قدم کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوجائے ۔ میرا یہ سوال بھی ہے کہ پانامالیکس میں 400،500اور خاندانوں کے نام بھی ہیں اس سے مضحکہ خیز بات اور کیا ہوگی کہ جن لوگوں کی اپنی آف شور کمپنیوں کے مقدمات کررکھے ہیں ان کی اپنی آف شور کمپنیاں ہیں ۔ ان لوگوں کی کمپنیاں حلال باقی لوگوں کو حرام ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پانامالیکس کوئی آسمانی صحیفے نہیں ہے ۔ہر کو حساب دینا پڑے گا۔ وزیراعظم کو پیدائش سے پہلے کا حساب لیا جارہا ہے شہبازشریف ، حسین ،حسن نواز، مریم نوازاور اب ہمارے بچے بھی زیر عتاب ہیں ۔ ایک خاندان کو کتنا احتساب ہوگا۔ 6ماہ سپریم کورٹ میں کچھ نہیں نکلا ۔ 70دن کی جے آئی ٹی ہے اور آج مجھے احساس ہوا ہے کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے ۔ یہ الزام ڈھونڈرہے ہیں کہ کیا لگائیں ۔ ہم نے منی ٹریل بہت پہلے دے دی تھی ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے خلاف سازش کرے گاو وہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آئے گا۔ نوازشریف کے خلاف سازش کی جاری رہی تو وہ چوتھی بار بھی وزیراعظم بنیں گے اور پانچویں بار بھی وزیراعظم بنیں گے جب جب نوازشریف کے خلاف سازش ہوتی ہے پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آتے ہیں ۔ روک سکتے ہوتو روک لونوازشریف کو ورنہ ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا،روک لوورنہ بجلی کے منصوبے مکمل ہوجائیں گے ،لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی ،روک لوورنہ سڑکوں کے جال بچھیں گے، سی پیک مکمل ہوجائے گاروک لوورنہ وہ 2018کا الیکشن جیت جائے گا۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

WordPress Themes