حکومت کی ایک بارپھرکی مذہبی جماعتوں سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل ،آپریشن کاعندیہ بھی دیدیا

Published on November 19, 2017 by    ·(TOTAL VIEWS 415)      No Comments


اسلام آباد(یوا ین پی) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے مذہبی جماعتوں سے فیصل آبادانٹرچینج پرجاری دھرنا پرامن طریقے سے ختم کرنے کی اپیل دہراتے ہوئے کہاہے کہ دھرنے والوں سے وزیرقانون زاہدحامد کے استعفے کے سواء باقی معاملات پراتفاق ہوگیا ہے ،استعفے کامطالبہ پورانہیں کیاجاسکتا،آج اگرکچھ لوگوں کے کہنے پرایک وزیرمستعفی ہوجائے توایک نئے رحجان کادروازہ کھل جائیگااور کل کوئی اورآکربیٹھ جائے گااوروزیراعظم یاکسی اوروزیرسے استعفے کامطالبہ کردے گا، حکومت کی ہرممکن کوشش ہے کہ کشیدگی نہ ہولیکن اگر ہٹ دھرمی ، ضد اور انا پر اس مسئلے کو طول دیا گیا تو پھر کسی بھی وقت آپریشن کیا جاسکتا ہے، دھرنے والے سوشل میڈیا کے زریعے پروپیگنڈا کرکے عوام کے جذبات کو بھڑکا رہے ہیں، لوگوں کو مشتعل کرنا مناسب نہیں۔اتوارکویہاں پیرامین الحسنات کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ دھرنے والے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کے جذبات بھڑکا رہے ہیں کہ کہیں ختم نبوت کے معاملے پر کسی قسم کی نرمی کی گئی ہے اور اس طرح کا پروپیگنڈا حقائق کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی حکومت ختم نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر سمجھوتا نہیں کر سکتی، پاکستان میں ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور پارلیمنٹ اور عوام ختم نبوت کے محافظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مشتعل کرنا مناسب نہیں ہے، دھرنے سے جو امیج جارہا ہے اسے پاکستان کے دشمن استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے سے تاثر جارہا ہے کہ ہماری قوم ختم نبوت کے معاملے پر منقسم ہے، حکومت نے ختم نبوت کے حوالے سے کوئی سقم نہیں چھوڑا، انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ کہ دھرنے میں موجود شرکا یا ان کے علما میں سے کوئی بھی یہ بتائے کہ آئین میں اب کیا سقم رہ گیا ہے؟ ۔ احسن اقبال نے کہا کہ ختم نبوت کے حوالے سے آئین میں 2002 سے جو سقم تھا اسے بھی دور کردیا گیا ہے، اس لیے اب دھرنے کا کوئی جواز نہیں رہا، ہم ختم نبوت کے حوالے سے مظاہرین کے جذبے کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صبرو تحمل اور ضبط کا سہارا لیا ہے، ہم نے دھرنے والوں سے ہر سطح پر مذاکرات کیے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا ہم نہیں چاہتے کہ معاملے پر کوئی کشیدگی پیدا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے والوں سے اپیل ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد احتجاج ختم کردیں کیونکہ دھرنے سے بیرون ملک پاکستان کا منفی تاثر جارہا ہے، دھرنے سے تاثر جارہا ہے کہ قوم ختم نبوت پر تقسیم ہے تاہم ختم نبوت پر کوئی تقسیم نہیں سب متفق ہیں۔ دھرنے والے سوشل میڈیا کے زریعے پروپیگنڈا کررہے ہیں، عوام کے جذبات کو بھڑکارہے ہیں جبکہ لوگوں کو مشتعل کرنا مناسب نہیں ، دھرنے کے قائدین اشتعال انگیز بیانات سے اجتناب کریں، تنازع کو ختم کرنے کے لیے ہم نہیں چاہتے کہ کوئی کشیدگی ہو تاہم لوگوں اورعدالت کا ہم پر دباؤ بڑھ رہا ہے جب کہ حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ اس معاملے کو جلدی ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ ہر قیمت پر وزیر قانون کا استعفیٰ چاہیے اور اسی ایک نکات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے، ہم نے کمیٹی بنائی ہے جو ذمہ داران کا جائزہ لے گی تاہم ثبوت کے بغیر وزیر قانون زاحد حامد کو نہیں ہٹایا جاسکتا، میں اپیل کرتا ہوں کہ ملک کے مفاد میں دھرنے والے ہٹ دھرمی چھوڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صبر کا پیمانا ختم ہوچکا ہے، پاکستان کے سیکورٹی کے ادارے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دھرنے والوں کے خلاف آپریشن کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے تاہم یہ ہمارا آخری آپشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر حد تک جائیں گے جس سے اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرلیں لیکن مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ، ضد اور انا پر اس مسئلے کو طول دیا گیا تو پھر پاکستان اس صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ساکھ متاثر ہورہی ہے اور جو کشیدگی پھیلنے کا اندیشہ ہے اس کیلئے اگر ناگزیر ہوا تو سیکورٹی ادارے اس جگہ کو خالی کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جو بھی انتظامی کارروائی کا اختیار ہے وہ کریں گے تاہم ہم نے انہیں روکا ہوا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد میں دھرنے کی وجہ سے آٹھ لاکھ سے زائد افراد محصور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے دھرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے والے کیوں عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے ملک بھر کے علما سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کو کشیدگی کی جانب دھکیلنے کی کوششوں سے بچائیں۔ احسن اقبال نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ کوئی سیاسی جماعت دھرنے کو آئندہ انتخابات کے لیے اپنا لانچنگ پیڈ بنانا چاہتی ہے تو وہ کھل کر سامنے آئے۔ اس موقع پر پیرامین الحسنات نے بھی دھرنے کے شرکا ء سے اپیل کی کہ وہ دھرناختم کردیں ۔ واضح رہے کہ سنی تحریک اور تحریک لبیک پاکستان یا تحریک لبیک یارسول اللہ پاکستان کے سینکڑوں رہنماؤں، کارکنوں اور حامیوں نے اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر دوہفتے سے دھرنا دے رکھا ہے۔ دھرنے میں شامل مذہبی جماعتوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ حال ہی میں ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے میں کی جانے والی تبدیلی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں عہدوں سے ہٹائیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے دوروز قبل ضلعی انتظامیہ کو فیض آباد انٹر چینج پر موجود مذہبی جماعتوں کے مظاہرین کو ہٹانے کا حکم جاری کردیا تھا۔ عدالت نے انتظامیہ کو 24 گھنٹوں کے اندر ہی دھرنے کو ختم کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم عدالت کی جانب سے دی گئی مہلت کا وقت ختم ہونے کے بعد فیض آباد انٹرچینج کی صورت حال میں کافی تنا پیدا ہوا تاہم وزیرداخلہ احسن اقبال کے حکم پر آپریشن کو 24 گھنٹوں کے لیے مخر کردیا گیا تھا۔احسن اقبال نے آپریشن کو موخرکرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحفظ ختم نبوت قانون پاس ہونا پارلیمنٹ کا تاریخی کارنامہ ہے اور قیامت تک کوئی اس میں تبدیلی نہیں لا سکے گا اس لیے اب دھرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ یاد رہے کہ مظاہرین کی جانب سے پتھرا ؤاور تشدد کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار زخمی ہوگیا تھا جس کا مقدمہ دھرنے میں موجود قائدین کے خلاف درج کیا گیا جس کے بعد ان پر درج مقدمات کی تعداد 17 ہوگئی۔ قابل ذکرہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں 50 لاکھ لوگ مقیم ہیں جن میں سے تقریبا 5 لاکھ کے قریب افراد روزانہ جڑواں شہروں کے 16 داخلی اور خارجی راستوں کو استعمال کرتے ہیں۔ راولپنڈی کے مقامیوں کی بڑی تعداد روزانہ مختلف وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کا سفر کرتی ہے، کچھ لوگ تعلیم جبکہ کچھ لوگ روزگار کے لیے وفاقی دارالحکومت پہنچتے ہیں، اس ضمن میں انہیں اسلام آباد ہائی وے کا روٹ استعمال کرنا ہوتا ہے۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Premium WordPress Themes