بچپن کی کہانی تھی

Published on April 21, 2018 by    ·(TOTAL VIEWS 752)      No Comments


بچپن کی کہانی تھی
ہم نے جو سنائی تھی
روتی ہوئی پلکوں سے
بہتے ہوئے اشکوں سے
تم بھول گئے جاناں
تم بھوول گئے جاناں
معصوم سا اک چہرہ
وحشت کا کڑا پہرہ
ہر ظلم سہا ہم نے
کچھ بھی نہ کہا ہم نے
تم بھول گئے جاناں
تم بھول گئے جاناں
اب حال ہو ایسا
کچھ بھی نہ رہا ویسا
ہے یار خدا اپنا
دلدار خدا اپنا
اب فکر نہیں کوئی
تھا اہل زمیں کوئی
صد شکر ٹلی آفت
دل میں ہے بسی چاہت
بچپن کی کہانی کو
اس غم کی نشانی کو
ہم بھول گئے جاناں
ہم بھول گئے جاناں.
محمد اشفاق مشفق

Readers Comments (0)




WordPress主题

Premium WordPress Themes