پالک جسم کا وزن، خون میں شوگر کی مقدار کم کرنے میں مفید ہے طبی ماہرین

Published on June 29, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 45)      No Comments

فیصل آباد (یو این پی)پالک پتوں والی سبزیوں میں سب سے مقبول سبزی ہے۔ اس کے پتوں کو پکا کر کھایا جاتا ہے۔ پالک کو دوسری سبزیوں کے ساتھ ملا کر بھی استعمال کیا جاتاہے۔ گوشت، سموسے، پکوڑے اور دوسرے تلے ہوئے کھانوں میں سارا سال اس کا استعمال جاری رہتا ہے۔ غذائی اعتبار سے پالک کے پتوں میں نشاستہ، چکنائی، لحمیات، حیاتین الف، ب، ج، کیلشیم اور آئرن پایا جاتا ہے۔طبی اعتبار سے پالک جسم کا وزن، خون میں شوگر کی مقدار کم کرنے، گلے، چھاتی کی سوزش اور درد کو دور کرنے اور کینسر جیسے موذی مرض سے بچاتی ہے۔ اکثر ڈاکٹر اور حکیم خون کی کمی والے مریضوں کو پالک استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ پالک کی کاشت کے لئے معتدل سے سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ پتوں کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے سرد مرطوب آب و ہوا چاہئے۔ یہ سرد موسم کی سبزی ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ درجہ حرارت(30تا35ڈگری سینٹی گریڈ) برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ تاہم سردیوں میں اس کی بڑھوتری نسبتاً زیادہ ہوتی ہے اور کم وقفہ سے فی کٹائی سے زیادہ پیداوارحاصل ہوتی ہے۔ بارانی علاقوں میں مون سون سیزن کے بعد وتر حالت میںاس کی کاشت کی جاتی ہے۔ پنجاب کے آب پاش علاقوں میںجولائی اگست میں کاشت کی ہوئی فصل سات کٹائیاں دینے کے ساتھ ساتھ زیادہ پیداوار دیتی ہے۔ جبکہ وسط نومبر سے دسمبر تک کاشت ہونے والی فصل صرف ایک کٹائی دیتی ہے کیونکہ بعد میں اس کے پھول نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تا ہم پالک کو کھاد او رپانی کے مناسب استعمال سے سارا سال کاشت کیا جا سکتا ہے۔©”دیسی پالک” کے نام سے ادارہ تحقیقات سبزیات نے 1992 میں پالک کی قسم عام کاشت کے لئے منظور کروائی ہے۔ اس قسم کے پتے موٹے، چوڑے، نرم اور رسیلے ہوتے ہیں۔ پتوں کی رنگت گہری سبز اور پیداوار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ نیز یہ قسم بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بھی رکھتی ہے۔ “کنڈیاری پالک” اس کے پتے کٹے ہوئے اور بیج کانٹے والے ہوتے ہیں۔ یہ قسم گرم موسم میں کامیاب نہیں رہتی۔ اس کے پتے نرم اور ذائقہ میں اچھے ہوتے ہیں۔ پیداوار قدرے کم ہوتی ہے۔پالک کا 15تا20کلو گرام بیج فی ایکڑ کے حساب سے بذریعہ ڈرل کاشت کریں۔پالک کےلئے زرخیز میرا زمین جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو کا انتخاب کرنا چاہئے۔پالک قدرے کلراٹھی زمین کو بھی برداشت کر لیتی ہے لیکن زیادہ کلراٹھی زمین میں اس کی کاشت ممکن نہیں۔ کاشت سے ایک ماہ قبل زمین کو ہموار کرنے کے بعد گوبر کی گلی سڑی کھاد 12 تا 15 ٹن فی ایکڑ کے حساب سے ڈال کر دو دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر زمین میں ملا دیں اور کھیت کو پانی لگا دیں۔ وتر آنے پر دو دفعہ ہل اور سہاگہ چلاکر دبا دیں تاکہ جڑی بوٹیوں کے بیج اگ آئیں اور گوبر کی کھاد مزید گل سڑ جائے۔ پالک کی کاشت کے لئے کھیت کا ہموار ہونا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ پٹڑیوں پر پانی چڑھ جانے کی صورت میں یا بیج تک مناسب پانی نہ پہنچنے کی صورت میں اگاﺅ متاثر ہوگا۔ کھیت کو دس دس مرلہ کی کیاریوں میں تقسیم کر لیں اور 75 سینٹی میٹر کے فاصلے پر پٹڑیاں بنا لیں۔ ان پٹڑیوں کے دونوں کناروں پر لکڑی سے 2 تا 3 سینٹی میٹر گہری لکیریں اس طرح کھینچیں کہ باہر کا کنارہ کھڑا رہے تاکہ پانی بیج تک نہ پہنچ سکے۔ ان لکیروں میں بیج کیرا کریں۔ بیج بونے کے بعد پٹڑی کے درمیان سے ہاتھ کی مدد سے مٹی لے کر بیج کو اچھے طریقے سے ڈھانپ دیں۔ کھیت کے ارد گرد گھوم پھر کر اچھی طرح سے اطمینان کر لیں کہ کہیں چیونٹیوں کے گھر موجود تو نہیں۔ اگر نظر آئیں تو فوراً ایڈ پیکس یا کوپیکس پاوڈر کا چھڑکاﺅ کریں۔ ایسا نہ کرنے سے کیڑے پالک کا بیج نکال کر ایک جگہ اکٹھا کر دیں گے جس کی وجہ سے اگاﺅ بری طرح سے متاثر ہوگا۔کاشت کے وقت نائٹروجن 23 کلو گرام، فاسفورس 27 کلوگرام (3بوری سنگل سپر فاسفیٹ+ 1بوری یوریا یا سوا بوری ڈی اے پی+ ½بوری یوریا) استعمال کریں۔دو کٹائیوں کے بعد ایک بوری یوریا (23کلو گرام نائٹروجن)فی ایکڑ ڈالنے سے بعد والی کٹائیاں جلدی تیار ہو جاتی ہیں۔ پتے بڑے ہونے کی وجہ سے زیادہ پیداوار حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ منڈی میں بہتر قیمت مل جاتی ہے۔پہلی آبپاشی بوائی کے فوراً بعد کریں۔ اس طرح پٹڑیوں پر کاشت کی ہوئی فصل کے لئے پانی کا وقفہ 8 تا 10 یوم رکھیں جبکہ ڈرل سے کاشت کی ہوئی فصل کےلئے پانی کا وقفہ 12 تا 14 یوم رکھیں۔جب پودے تین سے چار پتے نکال لیں تو گچھے اکھاڑ دیں۔ چھدرائی کرنے میں ہرگز دیر نہ کریں۔ کیونکہ دیر سے اکھاڑنے پر بچ جانے والے پودے بھی متاثر ہوں گے جس سے پیداوار بری طرح متاثر ہوگی۔ جبکہ ایک جگہ پر زیادہ تعداد میں اگے ہوئے پودوں کی بڑھوتری بھی متاثر ہوگی جس سے کٹائی دیر سے ہونے کے ساتھ پتے چھوٹے ہونے کی وجہ سے پیداوار بھی کم ہو گی۔بوائی کرنے کے ایک ماہ بعد گوڈی کرنے سے جڑی بوٹیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ہر کٹائی کے بعد گوڈی کرنے سے جڑی بوٹیوں سے پاک پتے حاصل ہوں گے جن کی مارکیٹ میں زیادہ قیمت ملے گی۔سیاہ دھبے اور پچھیتا جھلساﺅ پالک کی اہم بیماریاں جبکہ ضرر رساں کیڑوں میں سست تیلا ، امریکن سنڈی فصل کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔پالک کی کٹائی کے وقت پتوں کو کاٹ کر چھوٹی چھوٹی گچھیاںبنالیں ۔ اُن گچھیوں کو سایہ دار جگہ پر گیلے ٹاٹ کے نیچے رکھیں تاکہ منڈی پہنچنے تک پتوں کا رنگ اور تازگی برقرار رہے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress主题