Latest News
شہنشاہ غزل استاد مہدی حسن کا99واں یوم پیدائش 18جولائی کو منایا جائے گا کدوشریف غذائیت کے اعتبار سے یہ توانائی بخش سبزی چہرے کی خو بصورتی کیسے پائیں پیٹ میں گیس کی وجو ہا ت اور ان کا علا ج چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کا پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ تجارتی جنگوں میں کسی کی فتح نہیں ہوتی، چینی وزیر اعظم ایران امریکا ٹیکنیکل مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ ہوں گے، پاکستان بھی شریک ہوگا، دفتر خارجہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس میں اہم پیش رفت کتاب “شی جن پھنگ کی پارٹی بلڈنگ سے متعلق منتخب تحریریں ” کی جلد اول اور جلد دوم کی اشاعت جاپان کی “نئی قسم کی عسکریت پسندی” علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، چینی وزارت خارجہ شہنشاہ غزل استاد مہدی حسن کا99واں یوم پیدائش 18جولائی کو منایا جائے گا کدوشریف غذائیت کے اعتبار سے یہ توانائی بخش سبزی چہرے کی خو بصورتی کیسے پائیں پیٹ میں گیس کی وجو ہا ت اور ان کا علا ج چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کا پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ تجارتی جنگوں میں کسی کی فتح نہیں ہوتی، چینی وزیر اعظم ایران امریکا ٹیکنیکل مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ ہوں گے، پاکستان بھی شریک ہوگا، دفتر خارجہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس میں اہم پیش رفت کتاب “شی جن پھنگ کی پارٹی بلڈنگ سے متعلق منتخب تحریریں ” کی جلد اول اور جلد دوم کی اشاعت جاپان کی “نئی قسم کی عسکریت پسندی” علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، چینی وزارت خارجہ

ہماری تاریخ جمہوری اور فوجی ڈکٹیٹروں اور آمروں سے بھری پڑی ہے ڈاکٹر احسان باری

bari
بہاولنگر( یواین پی) قائد اللہ اکبر تحریک ڈاکٹر احسان باری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ ساٹھ سالوں سے ہماری تاریخ غلام محمد ، سکندر مرزا، ایوب، یحییٰ ، ضیاء الحق، مشرف جیسے جمہوری اور فوجی ڈکٹیٹروں اور آمروں سے بھری پڑی ہے حتیٰ کہ منتخب شدہ بھٹو اور نوازشریف خاندان بھی اپنے ذاتی عزائم ، خواہشات کی غلامی اور فطری مطلق العنانیت کی وجہ سے غربت، مہنگائی اور بے روزگاری ختم نہ کرسکے ۔اس طرح سے پٹرول ، بجلی، گیس ، چینی ، آٹا اور سیلابی تباہیوں جیسے بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ پاکستان کو نااہل حکمرانوں اور ان کے وزراء نے بحرانوں کی شور زدہ دلدل زمین بنا ڈالا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے مغربی سرپرست اور یہود و نصاریٰ اونٹ کے منہ میں زیراسے بھی کم سود در سود قرضے اور امدادوں کے ذریعے ہمارے ساتھ تابعدار غلاموں سے بھی بدترین سلوک کررہے ہیں اور ہم مجبوراً جدھر وہ ہانکیں اُدھر ہی مڑ جانے کو تیار رہتے ہیں ۔ کرپٹ بیوروکریٹوں کی ترقیاں بھی اگر مغربی آقاؤں کے تابع ہونگی تو جب وہ چاہیں گے کوئی بھی بحران کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ بالخصوص جب ان کے ذاتی مہرے کمزور ہوجائیں یا عوامی مینڈیٹ سے محروم ہوتے نظر آئیں ۔ چونکہ ہمارے بیوروکریٹوں کی لگامیں ان کے ہاتھ میں ہوتی ہیں تو ان کیلئے اپنے پالتو بیوروکریٹوں کے ذریعے بحران پیدا کرڈالنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے ۔ ذخیرہ اندوزی کروا کر کسی بھی چیز کی مانگ کو بڑھا ڈالنا اور قیمتوں کااتار چڑھاؤ کرڈالناسرمایہ دارانہ نظام کے کل پرزوں کے کنٹرول میں ہوتا ہے ۔اناڑی اور نااہل وزیر و مشیر ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور بحران در بحران امڈے چلے آتے ہیں ۔آخر میں ڈاکٹر احسان نے بتایا اصلاح احوال کیلئے موجودہ حکمران کوئی تگ و دو کوشش کرتے نظر نہیں آرہے اور وقت تیزی سے ان کے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے ۔اب بھی جمہوری اقدار کے تحفظ کیلئے پارلیمانی جمہوریت کی علمبردار جماعتوں کو ملا کر ملکی مسائل کا حل نکالنا چاہئے اور وسائل کو مجتمع کرکے غربت ، مہنگائی ، بے روزگار ی ختم کرکے محنت کشوں اور مزدوروں کی زندگیوں سے تاریکیوں کو ختم کرنے کے اقدامات کرنا ہونگے وگرنہ 1977ء کی طرح کہ بھٹو اور قومی اتحاد کے رہنماؤں کے درمیان معاہدہ طے پاجانے کے باوجود جنرل ضیاء آدھمکے تھے کہ اس وقت حالات نو ریٹرن کی طرف پہنچ چکے تھے ۔ موجودہ حکمرانوں کے غریب کش رویوں کی وجہ سے ہی تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق سندھ اور بالخصوص کراچی سے مارشل لاء لگائے جانے کے غیر آئینی مطالبات سراٹھا رہے ہیں

0 Comments

Please solve this simple math problem to verify you are human.

Post Column