نئے تعلیمی کمپلیکس کے لئے277 بلین روپے مختص ہیں سعید غنی

Published on June 21, 2021 by    ·(TOTAL VIEWS 222)      No Comments

محراب پور (یواین پی)سندھ کے وزیرتعلیم سعید غنی نے جی سی ٹی کے صوبے کے تعلیم کے شعبے میں پچھلے 27سال سے جاری سرگرمیوں کی تعریف کی، انھوں نے کہا ہے سندھ حکومت کو یقینا جی سی ٹی جیسے مستند غیر سرکاری اداروں کا تعان چاہیے، تاکہ صوبے میں ناخواندگی کے سنگین مسئلے سے نمٹا جاسکے تعلیم کا شعبہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے شدید ترین متاثر ہوا ہے اور حکومت کو نجی شعبے اور غیر سرکاری شعبے کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے، تاکہ طالبعلموں کے مفاد میں تعلیمی سرگرمیوں کو مکمل طور پر بحال کیا جاسکے۔ سعید غنی نے کہا کہ ان کی آج یہاں موجودگی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ وہ محروم طبقات کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے لیے جی سی ٹی جیسے فلاحی اداروں سے تعاون حاصل کرنے میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں حال ہی میں پیش کیے گئے سندھ حکومت کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ رقم 277بلین روپے مختص کی گئی ہے جو کہ حکومت کی آنے والی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے محکمہ محنت کو بھی جی سی ٹی جیسے فلاحی اداروں کا تعان چاہیے تاکہ مزدورں کے بچوں کو بھی تعلیم یافتہ بنایا جاسکے اس موقع پر جی سی ٹی کے سربراہ زاہد سعید نے کہا کہ جی سی ٹی نے سندھ کے پسماندہ ترین علاقوں میں 150فلاحی اسکول قائم کیے ہوئے ہیں جہاں غریب طبقات کے 29000سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں جی سی ٹی کے اس سے پہلے محراب پور میں 10اسکول ہیں جہاں 2500کے قریب طالب علم زیرتعلیم ہیں نیا تعلیمی کمپلیکس پریپ سے بارہویں جماعت تک ڈھائی ہزار مزید بچوں کو تعلیم دے گا۔ اس کی تعمیر تقریبا ایک سال میں مکمل ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ محراب پور میں موجود سی سی ٹی کا فلاحی تعلیمی نیٹ ورک شہر کے ہزاروں نوجوانوں کو بالواسطہ اور بلا واسطہ روزگار کی فراہمی کا باعث ہے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Free WordPress Theme