فیصل آباد (یو این پی)حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حیات طیبہ تمام عورتوں کے لئے مشعل راہ ہے۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا نبی پاک ﷺ کے اسوہ حسنہ کی مکمل تصویر تھیں۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا کی مبارک زندگی کے جس پہلو کو بھی دیکھا جائے وہ عورتوں کے لئے تابندہ و حسین ہے۔آج کی خواتین آپ رضی اللہ تعالی عنہا کے نقش قدم پر چل کر اپنی زندگیوں میں انقلاب لا سکتی ہیں۔ان خیالا ت کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے ڈویژنل صدر وممبر ضلعی امن کمیٹی پروفیسر پیر محمد آصف رضاقادری نے ”کیک کٹنگ تقریب“ سے بھائیوالا روڈ پرخطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا عفت، پاکیزگی،پاک دامنی،شرم و حیا،صبر و رضا،قناعت و سخاوت،تحمل و بردباری،اطاعت و فرمانبرداری جیسی اعلیٰ صفات کی عملی تصویر تھیں۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا جود و سخا کی پیکر تھیں۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا پردہ کی نہایت ہی پابند تھیں اور حد درجہ حیادار تھیں۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور عورتوں میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونگی۔آپ رضی اللہ تعالی عنہاچال ڈھال،سیرت و کردار میں نبی پاک ﷺ سے بہت زیادہ مشابہ تھیں۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا کا بچپن پر آشوب حالات میں گزرا۔کیونکہ وہ دن سرکار ﷺ کی تبلیغ اسلام کے حوالے سے انتہائی کٹھن اور مشکل تھے۔بیماری میں بھی ٹھنڈے پانی سے وضو کرتیں اور چکی پیستی رہتیں۔آپ کو عبادت الہٰی سے بے انتہا شغف تھااور خوف ِ الہٰی سے لرزاں رہتی تھیں۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا نبی پاک ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا ہی کے ذریعے حضور ﷺ کی اولاد پاک کا سلسلہ اس کائنات میں پھیلا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہا جنتی عورتوں کی سردار،حضرت امام حسن و حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہم کی والدہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا ساری عمر شوہر کے سامنے شکایت تک نہ زبان پر لائیں اور نہ ان سے کسی چیز کی فرمائش کی۔حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ عورت کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ نہ وہ کسی غیر مرد کو دیکھے اور نہ ہی کوئی غیر مرد اس کو دیکھے۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا کی شرم و حیا کی انتہا یہ تھی کہ عورتوں کا جنازہ بغیر پردہ کے نکالنا پسند نہ تھا۔ اسی بناء پر آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنی وفات سے قبل یہ وصیت فرمائی کہ میرا جنازہ رات کے وقت اُٹھایا جائے۔آپ رضی اللہ تعالی عنہا حضورﷺ کے وصال پاک کے چھ ماہ تک اس دارفانی میں جلوہ گر رہیں اور اسی سال 3رمضان المبارک کو اس جہانی فانی سے رخصت ہو کر عالم بقاء کی طرف روانہ ہوئیں۔تقریب کے آخر میں ملکی ترقی سلامتی واستحکام اور ملکی معاشی مشکلات کے جلد حل کیلئے خصوصی دعاکی گئی۔ اس موقع پر ڈویژنل جنرل سیکرٹری حافظ محمد یاسر قادری المدنی، ملک علی، ارشد جٹ، علی حسین پنسوتا، مولانا آصف ندیم چشتی، حافظ احمد رضاچشتی ودیگر بھی موجود تھے۔