حکومت کے اعلی عہدیداران سے مطالبہ ہے پی ٹی وی کے سنگین معاملات پر سے پردہ اٹھانے کیلئے تمام مراکز پر ایک جی آئی ٹی بننی چاہیے

Published on April 16, 2015 by    ·(TOTAL VIEWS 433)      No Comments

index
مارکیٹنگ والے پہلے ہی اپنے کمیشن اور دیگر معاملات یمیں اپنے پیسے کھرے کر لیتے ہیں
پاکستان ٹیلی وژن نیشنل نیٹ ورک سے نشر ہونے والے اسپیشل پروگرامز اور رمضان المبارک کی ٹرانسمیشن
جولائی 2014 ء میں مدعو کیے گئے مہمانوں کے تاحال چیک جاری نہیں ہو سکے، نامورشخصیات پریشان
پی ٹی وی کے پاس بجٹ ہی نہیں، اعلی عہدیدار
اسلام آباد(یواین پی) پی ٹی وی نیشنل، کراچی مرکز سے جولائی 2014 ء میں ہونے والے اسپیشل پروگرامز اور رمضان المبارک میں مدعو کیے گئے مہمانوں کے چیک آج تک جاری نہیں ہو سکے پی ٹی وی کراچی مرکز کر مختلف پروگرامز میں جاری کیے جانے والے چیکس کے سلسلے میں فنکار سمیت، میوزیشنز و مشہور شخصیات پی ٹی وی کی جانب سے چیکس نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہیں اور انہوں نے آئندہ پی ٹی وی کے کسی پروگرام، شوز، ٹرانسمیشن میں شرکت نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے،2014 ء سے کراچی مرکز پر پی ٹی وی نیشنل کی جانب سے لائیو اور ریکارڈ پروگرامز میں شرکت کرنے والے فنکار ومہمان سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں، ان کے مطابق کراچی مرکز وہ واحد مرکز ہے جہاں سے کمرشل بنیادوں پر پروگرامز کی تیاری و مارکیٹنگ کا کام خوش اسلوبی سے کیا جاتا ہے اور پروگرامز کے دوران چلنے والے اشتہارت اس کی گواہی دیتے ہیں کہ تقریبا ہر پانچ منٹ کے بعد کوئی نہ کوئی کمرشل اسکرین پر چلتا نظرآرہا ہوتا ہے، اس سلسلے میں خاص طور سے نئے آنے والے اور کچھ سینئر سیمت دیگر لوگوں کے چیکس کو دینے میں مسلسل کوتاہی کی جارہی تھی، جس کی اطلاع گزشتہ برس سے فنکاروں کے ذریعے سنتے اور پاکستان کے اخبارات میں پڑھتے چلے آئے ہیں، اس سلسلے میں متعلقہ شعبے سے اس معاملے پر فون پر بات کرنی چاہی تو صگحب مصروف ہیں سننے کو ملا مگر جب ایک فنکار کے نام پر بات کی اور اپنا مدعا بیان کیا تو ان صاحب نے بات کی اور انہبں نے صرف یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ متعلقہ پروڈیوسر سیٹ پر نہیں ہیں، جیسے ہی ملیں گے آپ کا پیغام دے دیں گے ، ایک فنکار سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو انہوں نے بتایاکہ ان کی نظرمیں کراچی مرکز وہ واحد مرکز ہے جو تمام سینٹرز کو پال رہا ہے اور اسی سینٹر کے ساتھ سوتیلے پن کا سلوک کیا جاتا ہے، ماضی میں جتنے سینئر جی ایم گزرے ہیں، ان کے زمانے میں یہ حال نہیں ہوتا تھا، ایک فنکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میرے خیال میں تمام سینٹرز کی تنخواہوں سمیت دیگر معاملات کو بھی کراچی مرکز یقیناًہینڈل کرتا ہوگا اور دیکھا جائے تواشتہارات کی مد میں کروڑوں روپے بھی مختلف اشتہاری اداروں سے اشتہارات کی مد میں وصول کر کے ٹیلنٹ کی فیس اور دیگر خرچوں کا بوجھ گزشتہ کئی سالوں سے اٹھائے ہوئے ہے، جب کہ فنکار و معزز مہمان، جو کہ مختلف شوز، پروگرامز میں بطور شخصیت کے مدرو کیے جاتے ہیں اور ان سے کانٹریکٹ سائن کروایا جاتا ہے، مگر جب وہ اپنے آنے کی فیس کے سلسلے میں متعلقہ پروڈیوسر اور اعلی عہدیداران سے رابطہ کرتے ہیں تو انہیں یہ کہہ کر لوٹا دیا جاتا ہے کہ پی ٹی وی کے پاس ابھی بجٹ نہیں، اس سلسلے میں جب اعلی عہدیدار تک رسائی ہوتی ہے تو وہ دلاسہ دے کر انہیں ٹی وی سے روانہ کر دیتے ہیں، اس سلسلے میں کئی فنکاروں سیمت مشہور شخصیات نے ٹیلی وژن پر مزید پروگرامز میں کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا ذمہ دار وہ جی ایم پی ٹی وی اور فنانس مینجر کوٹھہرا رہے ہیں،یاد رہے ایم ڈی پی ٹی وی نے گزشتہ دنوں لاہور پریس کلب میں پرہجوم میڈیا کوبتایا کہ ورلڈ کپ کے سلسلے میں کروڑوں روپے کا فائدہ پی ٹی وی کو ہوا، سوچ طلب بات یہ ہے کہ جب فائدہ ہوا تو پھر وہ پیسہ کہاں گیا؟ اور کیوں نہیں فنکاروں سمیت دیگر لوگوں تک پہنچا مگر شاید ایم ڈی پی ٹی وی یہ بتانا بھول گئے کہ مارکیٹنگ والوں نے پہلے ہی اپنے کمیشن اور دیگر معاملات میں اپنے پیسے کھرے کر لیے اور جو بچے وہ پی ٹی وی کی گللک میں ڈال دیے، یہی نہیں بلکہ پی ٹی وی کے کافی ورکرزکئی سالوں سے پی ٹی وی میں کام کرنے کے علاوہ باہر کا کام بھی کرتے چلے آ رہے ہیں اور اور اس سلسلے میں ہیڈکوارٹر تک یہ خبر بھی پہلے سے پہنچی ہوئی ہے مگر اس سلسلے میں کوئی بھی بڑا افسر کارروائی کرنے سے قاصر ہے، کئی انجینئرز اور دیگراسٹاف نے اپنی اپنی کمپنیاں کئی سالوں سے کھول رکھی ہیں اور وہاں سے وہ اپنے کام کو چلا رہے ہیں اور ساتھ میں پی ٹی وی سے لاکھوں روپے کی تنخواییں بھی وصول کر رہے ہیں،پی ٹی وی نیشنل اور پی ٹی وی ہوم کے تمام فنکار ان دنوں پریشان ہیں اور حکومت کے اعلی عہدیداران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں بھی پی ٹی وی کے تمام مراکز پر ایک جی آئی ٹی بننی چاہیے کہ جس میں ایسے چہروں کو سامنے لایا جائے کہ کس کس نے کیا کھیل کھیلا ہے اورکیوں فراڈ کا بازر گرم کیا ہوا ہے اس سلسلے میں اوپر سے لے کر نیچے تک ان لوگوں کو قرار واقعی سزا ہونی چاہیے کہ جن لوگوں نے یہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے نا جائز پیسہ اپنی اپنی جیبوں میں بھرلیا ہے۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Free WordPress Theme