میڈیا ورکرز کے مسائل

Published on February 26, 2019 by    ·(TOTAL VIEWS 291)      No Comments

تحریر۔۔ چودھری عبدالقیوم
گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک بڑی تکلیف دہ پوسٹ دیکھی گئی جس کیمطابق ایک نجی ٹی وی چینل کے مالک نے تنخواہ مانگنے پر اپنے ایک ورکر کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ میڈیا کسی بھی معاشرے اور ریاست کا اہم حصہ ہوتا ہے جو ملک اور معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے علاوہ مسائل حل کرنے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے لیکن یہ بھی افسوس کن تلخ حقیقت ہے کہ ملک اور معاشرے کے مسائل کی نشاندہی کرنے والا پاکستان کا میڈیا حالیہ دنوں میں بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔ جب سے پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے بہت سی نئی باتیں دیکھنے میں آرہی ہیں ایک تو طاقتور لوگوں کی کرپشن کیخلاف عدالتوں،اور احتساب کے اداروں میں کاروائیاں جاری ہیں یہ علیحدہ بات ہے کہ احتساب کے اس عمل میں حکومت کو بہت زیادہ مشکلات،روکاوٹوں اور اپوزیشن کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک کرپشن کیخلاف احتساب کے مثبت نتائج سامنے نظر نہیں آرہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی کی حکومت کے کئی اقدامات سے میڈیا کوبھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ہزاروں میڈیا ورکرز یا تونوکریوں سے فارغ ہو گئے ہیں یا انھیں تنخوائیں نہیں مل رہی ہیں حکومت نے میڈیا کے متعلق کئی مثبت اقدامات بھی کیے گئے ہیں میڈیا پر قابض کئی طاقتور عناصر کی بلیک میلنگ کا خاتمہ کرنے کے لیے اخبارات کی چھانٹی کی گئی ہے ایسے چند طاقتور عناصر نے ملی بھگت سے میڈیا پر اجارہ داری قائم کررکھی تھی جس کا ملک کے اکثر اخبارات اور چینلز کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا تھ تو یہ لوگ قومی خزانے کو بھی لوٹ رہے تھے خاص طور پر ایک طاقتور گروہ ڈمی ا خبارات کے ذریعے اشتہارات کے نام پر قومی خزانے کو روزانہ کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگاتا تھاان اخبارات کی تعداد سینکڑوں میں ہے جو مارکیٹ میں سرکولیٹ نہیں کیے جاتے تھے اور نہ ہی ایسے ڈمی اخبارات عوامی حلقوں میں متعارف تھے ان کی چند کاپیاں اشتہارات کے حصول کے لیے چھاپی جاتی تھیں جو کاروائی کے لیے اشتہارات جاری کرنے والے اداروں کو ہی مہیا کیے جاتے تھے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے ڈمی اخبارات کو ملی بھگت سے باقاعدہ طور پر شائع ہونے والے معروف اخبارات سے بھی زیادہ اشتہارات جاری ہوتے تھے اس طرح ریگولر شائع ہونے والے اکثر چھوٹے بڑے اخبارات کیساتھ زیادتی کی جاتی تھی حکومت نے ایسے ڈمی اخبارات جن کی تعداد تین سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے کو اشتہارات کے لیے بنائی گئی میڈیا لسٹ سے خارج کردیا ہے یہ ایک اچھا اقدام ہے اس سے ایک طرف تو قومی خزانے کو اربوں روپے سالانہ کا فائدہ ہوگا تو دوسری طرف اس کاروائی سے باقاعدہ طور پر شائع ہونے والے اخبارات کی حوصلہ افزائی ہوگی اور انھیں حکومت کیطرف سے اپنی سرکولیشن کی بنیاد پر زیادہ اشتہارات ملنے کی توقع ہے حکومت نے میڈیا کے حوالے ایک اور اہم قدم یہ اٹھایا ہے کے نجی ٹی وی چینلز پر چلنے والے اشتہارات کے نرخوں پر نئے سرے سے نظرثانی کرکے ان کی حقیقی ریٹنگ کے حساب سے نرخ مقرر کیے ہیں پہلے چند بڑے چینلز کے مالکان ملی بھگت سے زیادہ ریٹنگ کی بنیاد پر نہ صرف اپنے حصے سے زیادہ اشتہارات حاصل کر لیتے تھے بلکہ انھوں نے اپنی ریٹنگ سے کہیں زیادہ مہنگے نرخ قائم کررکھے تھے اس طرح چھوٹے ٹی وی چینلز کی حق تلفی ہوتی تھی اب ایک طرف حکومت نے اخبارات کیساتھ ٹی وی چینلز پر چلنے والے اشتہارات کے نرخ ان کی ریٹنگ کی مطابق مقرر کردئیے ہیں تواشتہارات بھی کم کردئیے ہیں حکومت کے ان اقدامات کے نتیجے میں یقینی طور پر قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا جس کا فائدہ حکومت کو ملے گا دوسرے طرف حکومت کے اس اقدام سے اخبارات اور ٹی وی چینلز اشتہارات کی آمدن میں نمایاں کمی واقع ہو ئی ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان میڈیا ورکرز کو ہو رہا ہے کئی بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز نے اپنے دفاتر میں ورکرز کی چھانٹی کرتے ہوئے انھیں نوکریوں سے نکا دیا ہے جبکہ کئی اداروں میں ورکرز کو کئی ماہ سے تنخوائیں نہیں مل رہی ہیں جس کیخلاف صحافتی تنظیموں کی طرف سے ورکرز کو فارغ کرنے والے میڈیا مالکان کیخلاف احتجاج بھی کیا جارہا ہے۔ اس صورتحال سے میڈیا ورکرز پریشان ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا مالکان اور حکومت میڈیا ورکرز کے مسائل کرنے پر توجہ دیں اور انھیں روزگار کا تحفظ دیا جائے تاکہ یہ لوگ اپنے فرائض یکسوئی سے سرانجام دے سکیں۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress主题