یوم فلسطین آئے گا گزر جائے گا

Published on August 17, 2014 by    ·(TOTAL VIEWS 820)      No Comments

akh log
آج 17اگست یوم فلسطین ہے 38 دنوں سے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت جاری ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی جن میں بچوں اور خواتین کی بھاری تعداد شامل ہے شہید اور زخمی ہو چکے ہیں آج کل پاکستانی میڈیا انقلاب و آزادی مارچ میں غزہ میں جاری جارحیت کو بھول گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنی اس جارحیت میں بہت سی حاملہ عورتوں ،نومولود بچوں جن کی تعداد 300 سے زائد ہے ،خاندان کے خاندانوں ایک ایک خاندان کے چھ چھ افراد ،گھروں کے گھروں ،کو تباہ کر دیا ۔جنگی جنوں میں مبتلا اسرائیل بزرگوں ،بچوں ،عورتوں کو بھی شہید کر رہا ہے دوسری طرف اس دوران عالم اسلام کے 68 ممالک نے راکھ کا ڈھیر ہونے کا ثبوت دیا ۔26 اسلامی ممالک تو فلسطین (غزہ )کے پڑوسی ہی ہیں ۔حیرت ،بے شرمی ،بے غیرتی کی بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک پر قابض ،امریکی و اسرائیلی پھٹو احتجاج ،ڈپلومیسی بیان ،گو مگو کی کفیت کا شکار رہے ۔امریکہ کی لونڈی اقوام متحدہ نے بے شک دبے لفظوں فلسطین میں قتل عام کی مذمت کی لیکن حقیت سے آنکھیں چراتے ہوئے ا سے اسرائیل اور ،حماس کے دوران جنگ قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ اس جنگ کی ابتدا حماس کی طرف سے ہوئی ۔زبانی جمع خرچ پر ٹال مٹول کی اس پالیسی پر اقوام متحدہ نے خود کو ایک بار پھر امریکہ کی غلام ثابت کر دیا ۔اس ڈیڑھ ماہ میں انسانی حقوق ،خواتین کے حقوق ،بچوں کے حقوق ،ماوں کے حقوق کی تنظیمیں،ادارے ،این جی اوز،نہ جانے کہاں غائب ہو گے ہیں ان کی طرف سے کوئی موثر آواز نہ اٹھائی گی اسی طرح جہاد ،جہاد کا ورد کرنے والے بھی اس معاملے بے حسی کے ساتھ الگ رہے ۔ اور اس بات کو تقویت بخشی کہ یہ سب انہی کے زیر سایہ کام کر تے ہیں جن کے زیر سایہ اسرائیل فلسطین میں آگ و خون کا بازار گرم کیے ہوئے ہے ۔ہم تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہ خاموشی توڑ کر فلسطین پر ہونے والے مظالم بند کر وانے میں اپنا بھر پور کر دار ادا کریں ۔ورنہ داستان نہ ہو گی داستانوں میں۔ اس میں عوام بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے اس پر بات کرنے سے پہلے اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب مسلمان ممالک اسرائیل سے جنگ نہیں کر سکتے اس کی کئی وجوہات ہیں ۔مسلم ممالک کمزور ہیں یہ بھی سچ ہے امریکہ اس کی پشت پر ہے یہ بھی بات ہے اور یہ بھی کہ ہمارے حکمران اپنی عوام سے برسرپیکار ہیں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جہادی گروپ بھی آپس میں جہاد میں مصروف ہیں اس لیے جنگ تو ممکن نہیں ہونی بھی نہیں چاہیے کیو نکہ امریکہ و اسرائیل کی پالیسی یہی ہے کہ مسلمان ممالک یہ غلطی کریں اور وہ ان کی رہی سہی طاقت بھی کچل دیں۔ امریکہ و برطانیہ کی پشت پناہی کی بدولت اسرائیل نے فلسطین کے مسلمانوں کے قتل عام کا منصوبہ بنایا جس کے تحت گریٹر اسرائیل کا خواب پورا کرنا مقصد ہے ۔ اصل میں اب جہاں اسرائیل ہے یہ جگہ فلسطین کی ہے 1947 1948- کو اقوام متحدہ نے اسرائیل کی بنیاد رکھی ۔ 60فیصد معیشت یہودیوں کے پاس ہے اور تقریبا 90 فیصد میڈیا کے بالواسطہ یہودی مالک ہیں ۔میڈیا ان کا غلام ہے وہ چاہیں تو جس کو مرضی دہشت گرد بنا دیں ۔ دوسرا کام جو مسلم ممالک کر سکتے تھے وہ تھا تیل کا ہتھیار مگر جناب ذولفقار بھٹو اور شاہ فیصل نے ماضی میں جب یہ ہتھیار استعمال کیا تھا تو یہودی لابی (امریکہ)نے تب سے اب تک اس پر کام کیا اب موجودہ صورت حال میں سعودی عرب ،عراق،اردن،کویت،و دیگر مسلمان ممالک جو تیل کی دولت سے مال مال ہیں ان پر امریکہ کا ہی قبضہ ہے یا وہ اس کے حماتیوں کے قبضے میں ہے اس لیے یہ ہتھیار اب استعمال نہیں ہو سکتا۔یہ ایک حقیقت ہے اب صرف ایک کام ہے وہ ہے معاشی بائیکاٹ یہ عوام کر سکتی ہے اس کے لیے عوام تیار بھی ہے مگر اس کو منظم طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے جس کے آثار نہیں ہیں اس یوم فلسطین پر افر ہم سب متحد ہو کر صرف ایک کام کر لیں کہ اسرائیلی اور اس کے سرپرست ممالک کی اشیاء کا مکمل بائیکاٹ کر دیں تو بھی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں جب آپ اس پر غور کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ ہم سے یہ کام بھی نہیں ہو گا یوم فلسطین آئے گا تقریریں ہوں گئیں اور گزر جائے گا حسب سابقہ ہم اس دن کو منا کر گزر جائیں گے ۔ شرم کا مقام ہے ،ڈوب مرنے کا مقام ہے جو قوم اس قدر بے حس ،اندھی ،بہری ،گونگی ہو اللہ پاک اس کو ذلیل کر دیتا ہے ۔ یوم فلسطین پر بھی عالمی ضمیر بیدار ہونے کا امکان نہیں ہے۔نہ ہی او آئی سی کا ۔ بلکہ اس نے تو ساری ذمہ داری ہیں حماس پر ڈال دی ہے ،ڈیڑھ ماہ ہونے کو ہے اس یک طرفہ جنگ (حملے) میں اب تک2 ہزار سے زائد شہید اور لاکھوں زخمی ہو چکے ہیں حقیقت میں شہدا کی تعداد کہیں زیادہ ہے جو بتائی جاتی ہے جن میں بچے ،بوڑھے ،نوجوان ،عورتیں شامل ہیں جن میں سے کوئی دہشت گرد نہیں ہے۔پہلے جب کھبی ایسا ہوا تو غزہ کے مسلمان مصر کی طرف ہجرت کر جاتے وہاں سے ادویات ،خوراک کا کچھ بندبست ہو جاتا مگر اس دفعہ مصر ن امریکہ و اسرائیل کے کہنے پراپنی سرحد بھی بند کر دی ہے ،صرف موت ان کا مقدر بن گی ہے ۔غزہ میں خوراک کی شدید کمی ہو چکی ہے تن پر کپڑا نہیں ہے ،ادویات نہیں ہیں 20 لاکھ فلسطینی غزہ کی اس جیل میں ہیں۔جو اپنے بھائیوں کی مدد کے منتظر ہیں ۔

Readers Comments (0)




Weboy

WordPress主题