اکیس ویں صدی میں سزائے موت کی کوئی جگہ نہیں ہے،بان کی مون

Published on May 1, 2015 by    ·(TOTAL VIEWS 463)      No Comments

4
انڈونیشیا،منشیات سمگلنگ کے جرم میں غیرملکیوں کو سزائے موت پر افسوس ہے
کوالالمپور(یو این پی)اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے انڈونیشیا میں منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں دو آسٹریلوی شہریوں سمیت آٹھ افراد کو سزائے موت دیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ۔گزشتہ روز نیویارک سے جاری اپنے ایک بیان میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ 21 ویں صدی میں سزائے موت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔بان کی مون نے انڈونیشیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دیگر تمام قیدیوں کی سزائے موت کے فیصلے کو بدل دے۔واضح رہے کہ انڈونیشیا میں بدھ کو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں دو آسٹریلوی شہریوں سمیت آٹھ افراد کو موت کی سزا دے دی گئی تھی جس پر احتجاج کرتے ہوئے آسٹریلیا نے انڈونیشیا سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔انڈونیشیا کے اٹارنی جنرل کا ان سزاوں کے بارے میں کہنا تھا کہ پھانسی دینا کوئی خوشگوار عمل نہیں ہے اور نہ ہی مذاق ہے تاہم ہمیں اپنی قوم کو منشیات کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسا کرنا پڑتا ہے۔انڈونیشیا میں بدھ کو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں موت کی سزا پانے والے آٹھ افراد میں سے دو آسٹریلوی شہری اینڈریو چن اور میؤن سکوماران شامل تھے۔منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں موت کی سزا پانے والوں میں برازیل کا ایک شہری روڈریگو گولارٹر بھی شامل تھے۔انڈونیشیا میں انسداد منشیات کے قومی ادارے کے مطابق منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہر روز 33 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نشہ آور ادویات کی سمگلنگ کے خلاف سخت ترین قوانین موجود ہیں اور یہاں موت کی سزا پر عملدرآمد کی چار سالہ پابندی کو 2013 میں ختم کر دیا گیا تھا۔

Readers Comments (0)




Weboy

Weboy