کرپشن کی رام کہانی 

Published on December 15, 2017 by    ·(TOTAL VIEWS 429)      No Comments

راجہ طاہر محمود 
آج میں حسب روایت اپنے آفس کے کاموں میں مشغول تھا کہ مجھے ایک ٹیکسٹ پیغام ملا جیسے ہی میں نے اپنا سیل چیک کیا تو میری ہنسی نکل گئی اس کی وجہ یہ نہیں کہ تھی کہ وہ کوئی ہنسی مزاح والا پیغام بلکہ اس کی وہ ایک سنجیدہ قسم کا پیغام تھا جس میں لکھا تھا کہ ’’سے نو ٹو کرپشن ‘‘یہ پیغام مجھے اس ادارے کی طرف سے ملا تھا جس کا کام پورے پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے اب ہنسی نکلنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ پچھلے دنوں کسی میٹنگ میں اسی کرپشن کا ذکر ہوا تو ایک صاحب کی طرف سے معانی خیز الفاظ میں کہا گیا کہ جناب نیب نے پورے پاکستان میں لوگوں کو ’’سے نو ٹو کرپشن ‘‘ کا پیغام ان کے موبائیلوں بھیج بھیج کر کرپشن کا مکمل خاتمہ کر دیاہے جناب اگر ایسے خالی خولی پیغام دے دے کر کرپشن ختم ہو سکتی تو کب کی ہو چکی ہوتی پاکستان کے عوام آج خوشحال ہوتے لیکن ہم ایسی قوم ہیں جو اور کسی کام میں ترقی کریں نہ کریں اس کرپشن میں ہم گردن تک دھنسے ہوئے ہیں قومی احتساب بیورو پر اس کی ساری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس نے ماضی میں بہت سے مواقع پر سیاسی نظریہ ضرورت کو پروان چڑھایا لیکن اب نئے چئیرمین کے آنے کے بعد لوگ پر امید ہیں بہتری کے اور ہونی بھی چاہیے نئے آنے والے چئیرمین کی ایمانداری کی کئی مثالیں ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں آنے والا الیکشن صرف ایک ایشو پر لڑا جائے گا اور وہ ایشو ہو گا کرپشن ،کرپشن ہے کیا ؟ یہ سوال اہم ہے کرپشن ایک ایسی دھیمک ہے جو معاشروں کو کھا جاتی ہے بدنصیبی ہے بیچارے غریب ممالک کی، کے جن کے عوام دہرے عذاب سے گزرتے ہیں ایک تو انکے حکمران ان کا خون نچوڑتے ہیں اور دوسرے ان کے پیسے کو ایسے لوٹتے ہیں کہ جیسے ان کا یہ حق ہوپھر انھیں پیسوں کو استعمال کر کے ملکی اداروں کو خریدتے ہیں اور بعد ازاں انھیں کی مدد سے پھر سے اقتدار میں آکر اپنے کالے کرتوتوں کو سفید بنا کر پھر سے زندہ باد ہو جاتے ہیں مگر حقیقت میں وہ لوگ زندہ باد نہیں بلکہ مردہ باد ہی رہتے ہیں پانامہ لیکس کے انکشافات کے وجہ سے دنیا بھر میں کئی کرپٹ حکمرانوں کے چہرے بے نقاب ہوئے ایسے میں پاکستان کی عوام بھی انھیں دکھی قوموں میں شامل ہے جس کے وزیر اعظم اور ان کے خاندان پر بھی الزامات ہیں مگر ہمارے وزیرا عظم زراو کھری ٹائپ کہ ہیں کہ وہ کسی بات پر وضاحت دینے کے بجائے وضاحت طلب کرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالاپانامہ لیکس کی افشا ہونے والی ہزاروں دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ دولت چھپانے کے لیے کس طرح سے ’ٹیکس ہیون‘ کا استعمال کیا جاتا ہے مالی رازداری کرنے والے سرفہرست دس ممالک میں سوئٹزرلینڈ، ہانگ کانگ، امریکہ، سنگا پور، لگزمبرگ، لبنان، جرمنی، بحرین، متحدہ عرب امارات شامل ہیں دیکھا جائے تو دنیا کے امیر ترین ممالک وہ سانپ ہیں جو غریب ملکوں کی دولت کو چوس رہے ہیں اور ان غریب ملکوں کے امیر حکمران دولت لوٹ لوٹ کر وہاں انبار لگا رہیں اور ان انباروں سے ان امیر ملکوں کی معیشتیں مضبوط سے مضبوط تر اوران غریب ملکوں کے بچے تک مقروض ہو چکے ہیں پاکستان میں ہر پیدا ہوانے والا بچہ مقروض ہے اس کے ذمے جو قرض ہے وہ ہر سال اسی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے اس کی وجہ بھی کرپشن ہے جو بڑھتی ہی جا رہی ہے آج حکومتی جماعت کے لیڈران کو پاکستانی عوام کے سوالوں کا جواب دینا ہو گا کہ کہ ان کے پاس دولت کے انبار کہاں سے آئے اور وہ جو حلال دولت کی بات کرتے ہیں تو اس کا ریکارڈپیش کرنے سے کیوں قاصر ہیں اب تمام جماعتیں اس ایشو پر حکومت کے خلاف ہیں عوام کرپشن کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے کرپشن اور حکمرانی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ جو حکمران ملکی دولت لوٹتا ہے پھر اگر اس پر ہاتھ پڑ جائے تو جمہوریت کے کھاتے میں ڈال کر خود کو جمہوریت کی آڑ میں معصوم بنا کر پیش کرتا ہے پانامہ لیکس پر سیاسی جماعتوں کے موقف سے انکار نہیں کیا جا سکتا جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جمہوریت برقرار رہنی چاہیے اور کرپشن ختم ہونی چاہیے اس سے کسی کو انکار نہیں ہے پوری قوم کرپشن کا خاتمہ چاہتی ہے لیکن یہ نہیں چاہتی کہ کرپشن کے خاتمے کی آڑکسی بھی بیگناہ کے خلاف کاروائی کی جائے حکومت نے جس ادارے کو کرپشن ختم کرنے پر لگایا ہو اہے اسے اتنا بااختیار بنایا جائے کہ وہ خود سے فیصلے لے سکے اس کے لئے اگر کسی بڑے سے بڑے آدمی پر ہاتھ بھی ڈالا جائے تو کوئی شور شرابہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اسی پالیسی کی وجہ سے ماضی میں بھی کئی بار کرپشن کے خاتمے کے لئے چلائی جانے والی مہم متاثر ہوتی رہی ہے اور اس ملک کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ جب بھی کسی باثر شخص پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے مجبورا وہ مہم روک دینی پرتی ہے یا پھر ملتوی کر دی جاتی ہے وہ مجبوری کیا ہوتی ہے یہ بات عوام سے ہضم نہیں ہو تی ۔مگر ہم لوگ شاید اس بات کے عادی ہوچکے ہیں کہ جب سانپ نکل جاتا ہے تو لکیر پیٹنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی وجہ سے باقی دنیا اگے کی طرف اور ہم پیچھے جا رہے ہیں ۔آج کے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اگر ہم نے ترقی کرنی ہے اگر ہم نے دنیا سے بھیک نہیں مانگنی بلکہ اپنے وسائل میں رہ کر کامیاب ہونا ہے تو سب سے پہلے کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ وہ کرپشن جس نے ہماری ترقی کو روک رکھا ہے جس نے ہماری آنے والی نسلوں کو مقروض بنایاہوا ہے اس کوختم کیا جا سکے ہر پاکستانی کو پتا ہو کہ وہ جو ٹیکس دے رہا ہے وہ ملکی ترقی پر خرچ ہو رہا ہے نہ کہ کسی کی جیب میں جا رہاہے کیونکہ کرپشن ملکی ترقی کی سب سے بڑی دشمن ہے اور اس کے خاتمے سے ہی ملکی ترقی ممکن ہو سکتی ہے اس حوالے سے نئے آنے والے چئیرمین نیب کی طرف عوام کی نظریں ہیں اور آتے ہی انھوں نے میگا کرپشن سکنڈلز پر پیش رفت کی نویدسنائی ہے اس سے عوام کافی مطمئن ہیں مگر عوام اور پاکستان کی جیت تب ہی ممکن ہو گی جب اس ناسور کا پاک سرزمین سے خاتمہ ہو گا۔ 

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Weboy