خدمت میں عبادت اور سکون ہے

Published on March 23, 2014 by    ·(TOTAL VIEWS 581)      No Comments

\"Umar
ہمیشہ خدمت انسانیت کے لیے مذہبی جماعتیں ہی کیوں عملی طور پر کام کرتی نظر آتی ہیں اورانتہائی کم وسائل ہونے کے باوجودسب سے زیادہ رفاہی کام کرتی نظر آتی ہیں حکومتی نمائندے تو پیدا ہی عوام کے مسائل میں اضافہ کرنے کے لیے ہوتے ہیں اگر غلطی سے متاثرہ علاقے کا دورہ کر بھی لیں تو کڑوروں روپے کا دورہ تو ہو جاتا ہے اور مقامی انتظامیہ بھی سب اصلیت جانتی ہوتی ہے اس لیے چند گھنٹوں کے لیے متاثرین کے لیے کیمپ یا بستی قائم کر دینا اب تو ایک رویت ہی بن گیا ہے۔2005کازلزلہ ہو یا بلوچستان میں آنے والا زلزلہ سب سے پہلے متاثرہ علاقوں میں ر یلیف کا سامان اور اپنے رضا کاروں کے ہمراہ پہنچنے والے پاک فوج کے جوان او ر جماعت اسلامی کا رفاہی ادارہ الخدمت فاونڈیشن اور جماعت الدعوہ کا رفاہی ادارہفلاح انسانیت فاونڈیشن کے رضا کار تھے ۔اس کے علاوہ بھی مختلف این جی اووز نے بھر پور انداز میں اپنا اپنا حصہ ڈالا اس کے علاوہ برادر اسلامی ممالک کی طرف سے بھی متاثرین کی بھرپور مدد کی گئی۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ ٹنوں کے حساب سے پڑا سامان بعد میں حکومت کو صرف اس لیے پھینکنا پڑا کہ اس کی تقسیم میں بہت دیر ہو چکی تھی۔ لوگ الخدمت فاونڈیشن اورفلاح انسانیت فاونڈیشن پر اعتماد کرتے ہیں کیونکہ دونوں کے رضاکار اپنی خدمات بالکل فری میں سرانجام دیتے ہیں زلزلہ متاثرین کے مدد کے لیے سب سے بڑھ کر 2010میں جنوبی پنجاب کے اضلاع سیلاب سے شدید متاثر ہوئے۔اس موقع پر ایک این جی او کے ہمراہ جنوبی پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں جانا ہوا کیونکہ چند دوستوں کی خواہیش تھی کہ متاثرین کی خود اپنے ہاتھوں مدد کی جائے اور ان کے حالات جانے جائیں۔ہم نے پہلے دن مقامی دوستوں کی مدد سے ایک گاوں کو منتخب کیا جو ضلع مظفرگڑھ کے علاقے قریشی چوک سے تھوڑا دورتھا ۔ہم وہاں پہنچے تو گاوں کے ساتھ ہی ایک بستی موجود تھی جس کا نام و نشان تک مٹ گیا تھا۔ہم نے گاوں کے متاثرہ ترین افراد کی لسٹ بنائی تاکہ ان کو فوری مدد پہنچائی جا سکے ہم نے وہاں موجود افراد سے پوچھا کہ آج سیلاب کو 15دن گزر چکے ہیں تو ٓپ کے مقامی ایم این اے یا ایم پی اے نے کتنی دفعہ چکر لگایا تو انہوٍں نے بتایا ہم نے تو الیکشن سے اب تک ان کی شکل ہی نہیں دیکھی ایک دوست عثمان حیدر نے سوال کیا کہ پی پی والے آپ کے حلقے سے جیتے ہیں اور آپ کا حال تک نہیں پوچھا تو آپ آئندہ ان کو ووٹ دیں گے ۔تو آپ ان کے جواب سے حیران ہونگے کہ وہ کہنے لگے ہمیں کوئی پوچھے یا نہ پوچھے ہم ووٹ پی پی کو ہی دینگے ۔معلوم نہیں پی پی سے یہ ان کی محبت تھی یا کیا؟خیر ہم اپنے کام ختم کرکے جب اگلے گاوں کی طرف بڑھے تو راستے میں پاک فوج کے جوان ایک پُل کا انتظام سنبھالے موجود تھے ۔میں ایک فوجی جوان جو ایک کیمپ کی حفاظت پر موجود تھاسے معلومات کے لیے گفتگو کرنی چاہی تواس نے سوری کہا میں نے کہا جناب آپ سے معلومات مانگ رہا ہو اور چند منٹ گفتگو کرنا چاہتا ہوں آپ ہے کہ ہمیں ہی لفٹ نہیں کراتے تو اندر سے آواز آئی آپ اندر آجائیں تو ایک جوان آفیسر موجود تھا جو چند لمحے آرام کے لیے آیا تھا ۔میں نے اپنا اور دوستوں کا تعارف کروایا اور دس پندہ منٹ کی ملاقات میں کافی معلومات حاصل ہوئی اور ہم ان کا شکریہ ادا کر کے آگے نکل گئے ۔ہم جہاں بھی پہنچے ایک ہی آواز کانوں میں پڑی کہ سب سے پہلے پاک فوج ہماری مدد کو پہنچی سڑکیں اور پل گزرنے کے قابل بنائے اور اسکے بعد لوگوں کی زبانوں سے دو تنظیموں کے نام سن کر حیران ہوا زیادہ تر نے الخدمت فاونڈیشن اورفلاح انسانیت فاونڈیشن کی تعریف کی کہ پاک فوج اور ان کے علاوہ اگر ہماری کسی نے مدد کی ہے تو یہی افراد ہے ۔تھر میں قحط کے باعث سینکڑوں بچوں کی موت نے ہر پاکستانی کو دکھ و کرب میں مبتلا کر دیا۔دکھ کی اس گھڑی میں پھر ایک دفعہ الخدمت فاونڈیشن اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کے ساتھ ساتھ ملک ریاض بھی میدان میں موجود ہیں فوج کی جانب سے بھی بھر پور اقدامات کیے گئے ۔اس کے علاوہ وہ نوجوان بھی میدان میں نظر آرہے ہیں جو مقامی سطح پر این جی اووز چلاتے ہیں ۔اس کے علاوہ وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف جہاں متاثرین تھر کے لیے فکر مند نظر آئے وہاں صوبہ خیبر کے جواں جذبہ صوبائی وزیر سراج الحق بھی امداد سمیت متاثرہ علاقے میں پہنچے ۔پاکستانی قوم انتہائی بڑا دل رکھنے والی قوم ہے۔جو بڑی سے بڑی مشکل کامقابلہ کرنا جانتی ہے۔ رفاعی کاموں میں لوگ بہت برھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔بس کمی ہے تو بہتر منصوبہ بندی کی کمی ہے اگرمتاثرہ علاقے کی ایک ایک یونین کونسل ہر اس این جی او کے حوالے کر دی جائے جو وہاں بہتر کام کرنے کی صلا؂حیت رکھتی ہو۔ ایک تو بہتر انداز میں وہاں کام کر سکے گے دوسرا یک مقابلے کی فضا بنے گی ۔کیونکہ ہمارا دین بھی یہ بات سکھاتا ہے کہ نیکی اور خدمت کے کاموں میں دوسروں پر سبقت لیے جاو ۔مسائل تو ہر جگہ پیدا ہوجاتے ہیں لیکن ان کے حل کی بہتر منصوبہ بندی ہی اصل مسئلے کا حل ہے۔ابھی چند دن پہلے ملک ریاض بھی اعلان کر چکے ہیں کہ متاثرین تھرکی تمام ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہیں حکومت کو ایسے افراد کو موقع دینا چایئے ۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

WordPress Blog