سموگ کے اثرات اور بچاو

Published on October 22, 2021 by    ·(TOTAL VIEWS 158)      No Comments

تحریر ایم ایس مہر
سموگ ماحولیاتی آلودگی کی ایک خطرناک قسم ہے جسےسردیوں کے ابتدائی مہینوں میں دیکھا جاتا ہے۔ ہوا میں موجود گیسیں مثلاً کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسا ئیڈ ، میتھین، سلفر ڈائی آکسائیڈاور ہائیڈرو کاربن بھی ہوا میں موجود کیمیائی ذرات کے ساتھ مل کر سموگ کا روپ دھار لےتی ہےں۔ سموگ انسانوں، جانوروں اور پودوں کے علاوہ پورے ماحول کو آلودہ کر دیتا ہے اور بےشمار نقصانات کا باعث بنتا ہے ۔ سموگ ہوا میں معلق رہتا ہے اور زمین کی سطح کے قریب ہونے کی وجہ سے ہر جاندار بشمول پودوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔سموگ کی زیادتی کی صورت میں پودوں کی بڑھوتری کا عمل رک جاتا ہے اور ےہ حالت انسانی جانوں کے ساتھ فصلات ، باغات اور سبزیات کو بہت نقصان پہنچاتی ہے۔ سموگ کی وجہ سے تیزابی بارشوں کا ڈر بھی ہوتا ہے جن سے مکانات اور پودے متاثر ہوتے ہیں ۔ زمین کے قریب اوزون کی زیادتی کی وجہ سے پودوں کے پتے سبز رنگ کھو دیتے ہیں اور بے رنگ یا پھرزردی مائل ہو جاتے ہیں۔ سموگ ماہ اکتوبر کے آخر سے لے کر جنوری کے شروع تک وقوع پذیر ہوتا ہے جب سرسوں اور سبزیات کی فصلات کی بجائی اور چاول ، کپاس ، مکئی اور سبزیات کی فصلات کی برداشت کا موسم ہوتا ہے سموگ کی زیادتی کی وجہ سے ان تمام فصلات کیلئے کافی زیادہ مشکلات درپیش ہوتی ہیںان تمام موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پودوں کی بڑھوتری کا عمل رُک جاتا ہے اور پودے اپنے مدافعاتی نظام کی کمزوری کی وجہ سے مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں کر پاتے ۔ ٹریفک کے دھویں اور صنعتی باقیات کے علاوہ کاشتکار ماہ اکتوبر اور نومبر کو دھان کی باقیات مثلاً پرالی اور مڈھوں کو آگ لگاتے ہیں جس سے اٹھنے والا دھواں بھی سموگ کا باعث بنتا ہے ۔ اسی صورتحال اور عوامی مفادِ عامہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے سموگ کو ایک ” قدرتی آفت”قرار دیتے ہوئے اس کی روک تھام کے لئے حکومت پنجاب نے باقاعدہ طور پر ایک کمیشن تشکیل دیا ہے ۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر سموگ کی روک تھام اور سموگ کا باعث بننے والے عوامل پر کڑی نگاہ رکھنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کرنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے بھی سموگ سے بچا¶ کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں صوبائی حکومت کی طرف سے سموگ سے بچا¶ کی خصوصی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے اور کنٹرول روم قائم کرکے فضا میں سموگ کی شرح کو مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ اس کی شدت کے مطابق سموگ کے سدباب کی سرگرمیوں میں بھی تیزی لائی جائے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں جس طرح پنجاب میں کورونا وائرس پر قابو پا لیا گیا اسی طرح اس وقت سموگ کی روک تھام اور اس کے مضر صحت اثرات کم سے کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے صوبائی مشینری پوری طرح حرکت میں ہے۔ حکومت پنجاب کو اس سنگین مسئلے کی شدت کا مکمل احساس ہے اوراس سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوششیں بروئے کار لائے جا رہی ہیں اور صنعتی و ٹریفک کی باقیات کی تلفی کے ساتھ حکومت پنجاب نے کاشتکاروں کوفصل کی باقیات مثلاً دھان کی پرالی اور مڈھوں کو آگ لگانے کی صورت میں متعلقہ کاشتکار کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے جس کا مقصد ہے کہ کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعدفصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں کیونکہ اس عمل سے نہ صرف زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔دھان کی باقیات سے اٹھنے دھواں ٹریفک حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بھی بنتا ہے۔ محکمہ زراعت کی جانب سے کاشتکاروں کودھان کی باقیات کو تلف کرنے کیلئے فصل کی برداشت کے بعدرائس سٹرا چاپر/ روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو کی مدد سے زمین میں ملا دیںیا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا دیں۔اس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کے واقعات کو روکنے کیلئے محکمہ زراعت پنجاب ہر ممکن اقدام کررہا ہے کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگی کے ساتھ فصلات، باغات اور سبزیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ موجود ہوتا ہے۔ امسال سموگ میٹی گیشن سیل اور مانیٹرنگ ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر دھان کی فصل کی باقیات کو آگ لگانے والے واقعات کی مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور ایسا کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔سموگ سے بچاﺅ کے لئے کی جانے والی کوششوں مےں ہر شخص کو انفرادی طور پر حصہ لےنا چاہہ۔کا رخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں سے زہریلی گیسوں کے اخراج کو بند کرکے اور ان میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں۔سموگ کے دوران شہرےوں کو چاہےے کہ غیر ضروری باہر کھلی فضا میں نکلنے سے گریز کریں اور اگر باہر نکلنا ہو تو پھر ناک پر رومال اور منہ پر ماسک پہنیں۔آنکھوں پر سن گلاسز والا چشمہ لگائیں اور جب بھی باہر سے واپس آ ئیں تو آنکھوں کو پانی سے خوب اچھی طر ح دھوئیں۔ گھروں میں یا باہر کھلی جگہوں میں آگ لگانے یا دھواں پیدا کرنے سے گریز کریں۔سموگ کے زہریلے اثرات کو ختم کرنا انسان کے بس سے باہر ہے مگر اس کے اثرات کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Free WordPress Theme