ڈپٹی ڈائریکٹر ٹھٹھہ کو ہٹا کر کوئی فرض شناس افسر کو لا کر کینجھر کو بچایا جاۓ۔مطالبہ

Published on November 30, 2022 by    ·(TOTAL VIEWS 40)      No Comments

ٹھٹھہ(یواین پی/ حمید چنڈ) سندھ حکومت ای ای پی فشريز ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے پچھلٕے چار سالوں سے کینجھر جھیل میں کروڑوں کی تعداد میں مچھلی کا بیج چھوڑا جارہے ہے اور ڈبلیو ڈبلیو ایف اور فشريز کے تعاون سے کینجھر کنرزرویشن نیٹ ورک نے کینجھر جھیل کے داخلی اور خارجی بٸراجوں پر جھال لگا کر جھیل سے زایع ہونے والی مچھلی کو محفوظ کر رکھا ہے ۔ جس سے کینجھر کے ماہیگیروں کے روزگار میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے ۔لیکن افسوس کہ چند ماہیگیر دشمن عناصر پچھلے چھ ماہ سے بولو گجو گھاٸو بنگالی ٹاٸپ کے غیر قانونی نقصاندہ جھال لگا کر نسل کشی کر رہے ہیں جس کی اطلاع فشریز کے اعلی افسران کو دی گٸی ہے کہ ڈپٹی ڈاٸریکٹر فشریز ٹھٹہ فقط بل بنارہا ہے ۔ڈی جی فشريز نے نوٹس لیا اورحکم جاری کیا کہ فوراً غیر قانونی جھال کے خلاف آپریشن کيا جائے ۔جس پر غلام مصطفی میمن نے تیش میں آکر کے سی این کے رضاکار ماہیگیروں کے لیگل جھال چھین کر لے گیا ہے جبکہ چھ ماھ سے جھیل کو تباھ کرنے والوں کو جان بوجھ کر چھوٹ دی جارہی ہے اور کے سی این سے کے میمبران ماہیگیروں کے لاسنس بنانے سے انکار کر رہا ہے اور کینجھر کے ماہیگیروں سے لاٸسنس کی مد میں ایک دو ہزار مزید مانگ رہا ہے۔کینجھر کنزرویشن نیٹ ورک کے رہنما انیس ھیلایو ارشاد عمر گندرو سید بچل شاھ کاظمی ابراہیم گندری غلام نبی گندرو عبدالرٶف پالاری عبدالغفور گندرو موسی منچھری ساجد علی گندرو محسن علی گندرو سلیم گندرو اور دیگر نے ڈی جی فشریز ڈاٸریکٹر انلینڈ فشریز ڈی سی ٹھٹہ اور ديگر اعلي حکام سے مطالبا کرتے ہوۓ کہا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ٹھٹہ کو ہٹا کر کوئی فرض شناس افسر کو لا کر کینجھر کو بچایا جاۓ۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

WordPress主题