قوم کی بیٹی عافیہ کی رہائی کب تک؟

Published on April 9, 2015 by    ·(TOTAL VIEWS 841)      No Comments

index
تحریر۔۔۔حفیظ خٹک
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے جاری کوششوں کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھانے کیلئے ان دنوں دو امریکی قانون دان اسٹیفن ڈاؤنز اور کیتھی مینلے پاکستان کے دورے پر ہیں۔اسٹیفن ڈاوئنز جوکہ ماہر امریکی قانون دان، جنہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا بیشتر وقت نیویارک میں اٹارنی جنرل کی حیثیت سے گذارا۔ ججز کی جانب سے غیر منصفانہ فیصلوں ، اقدامات و دیگر پر نظر رکھنا ان کی ذمہ داری تھی۔2003 میں ریٹائرڈ ہوئے بعد انہوں نے 2008 میں“ سلام` کے نام سے ایک ادارہ بنایا۔ سلام جس کا محفف سپورٹ اینڈ لیگل ایڈوکیسی فار مسلم ہے۔ اس ادارے کا مقصد ایسے تمام مسلمانوں کو قانونی معاونت فراہم کر نا ہے جو کہ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں غیر منصفانہ رویوں اور سزاؤں کو بھگت رہے ہوں ۔2010 میں قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے اس ادارے نے کام کا آغاز کیا۔ سلام ہی کے زیر اہتمام نیشنل کولیشن ٹو پراٹیکٹ سول فریڈم کے نام سے ایک ذیلی ادارہ قائم ہوا ۔ جس کا مقصد قیدیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف جدوجہد کرنا تھا ۔ اسٹیفن ڈاؤنز2012 سے سلام کے ڈائریکٹر ہیں۔
ان کے ساتھ کیتھی مینلے ہیں جوہ بھی امریکی ماہر قانون دان ہیں۔ امریکی معاشرے میں جرائم سے تخفظ اور دستوری حقوق کی پاسداری کیلئے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے متعدد مقالے لکھے ۔ انسانی حقوق کی دیگر کئی تنظیموں کے ساتھ مل کر ان دنوں کام کر رہی ہیں۔ اپنی خدمات کے عیوض انہیں متعدد ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انصاف کی فراہمی کیلئے 2013 میں نیویارک کا عالمی ایوارڈحاصل کر چکی ہیں ۔ ان دنوں سلام کی لیگل کمیٹی کی صدر کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔
پاکستان آمد کے متعلق اسٹیفن ڈاؤنز کا کہنا تھا کہ بہن ڈاکٹر عافیہ ہمارے پاکستان آنے کی سب سے بڑی اور اہم وجہ ہیں ، ہم عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ان کے دیگر گھر والوں سے ملاقات کریں گے ۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی عہدیداران ، وکلاء ، سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل کر عافیہ کی وطن واپسی کی کوششوں کو تیز کرنے کیلئے مشاورت ، طریقہ کار اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔
جب ان سے یہ پوچھا کہ دوران قید ان کی عافیہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ عافیہ کے مقدمے کے دوران انہوں نے عافیہ کو دیکھا ۔ وہ باپردہ تھیں ، جس کی وجہ سے ہم انہیں دیکھ نہیں پائے تاہم وہ ایک پر عزم خاتون لگ رہی تھیں اس کے بعد انہیں عافیہ کو سننے یا دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔
عافیہ کے کیس کے متعلق کیتھی مینلے نے کہا کہ اس وقت امریکی جیلوں ڈاکٹر عافیہ سب سے اہم سیاسی قیدی ہیں ان کے ساتھ نہ صرف نا انصافی ہوئی بلکہ ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر اخلاق کی بھی دھجیاں اڑائی گئیں۔ عافیہ اور اس کے تین بچوں کے ساتھ ہونے والے سلوک ،اقوام عالم کے انصاف پسندوں کیلئے اک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام کو عافیہ کے ساتھ ہونے والے سلوک کا علم نہیں کیونکہ کہ وہاں کی حکومت نے عافیہ کو ان کے سامنے ایک مجرم کی حیثیت سے پیش کیا تاہم اب وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ عافیہ کے متعلق امریکی عوام کی رائے بدل رہی ہے اور عافیہ کیلئے ہمدردی کے جذبے میں اضافہ ہورہا ہے۔
اسٹیفن ڈاؤنز کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس عافیہ پاکستانی عوام کے دلوں میں رہتی ہیں۔ پاکستان آکر یہ محسوس ہوا کہ عافیہ کیلئے پوری قوم بے انتہا محبت اور ہمدردی کے جذبات رکھتی ہیں اور اس کی جلد رہائی چاہتی ہے۔ تاہم ہمارے لئے یہ امر قابل حیرت اور افسوس ہے کہ حکومتی سطح پر اس حوالے سے اوبامہ انتظامیہ سے رابطہ کیونکر نہیں کیا گیا؟اس سوال پر کہ امریکی حکومت انسانیت کے ناطے عافیہ کو کیونکر آزاد نہیں کرتی؟
اسٹیفن ڈاؤنز اور کیتھی مینلے نے کہا کہ وہ اپنا دورہ مکمل کرلینے کے بعد واپس جاکر امریکی انتظامیہ سے اس معاملے پر بات کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کے سامنے عافیہ کے بدلے شکیل آفریدی کی حوالگی کا نقطہ قابل قبول ہوگا۔
اپنے ادارے سلام کے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلام جس کا محفف سپورٹ اینڈ لیگل ایڈوکیسی فار مسلم ہے اس کا مقصد امریکی جیلوں میں ناانصافیوں کے مرتکب مسلمانوں کو قانونی اور اخلاقی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس کے زیر اہتمام نیشنل کولیشن ٹو پروٹیکٹ سول فریڈم کا قیام عمل میں آیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف امریکی حکومت اور ایجنسیوں نے بے جا اقدامات کئے ،بے شمار لوگوں کو مخص شک کی بناء پر پکڑ کرمقدمات اور بعدازاں سزائیں دی گئیں ۔ ان جعلی اور مصنوعی مقدمات کا مقصد امریکی عوام کو یہ بارآور کرانا تھا کہ دہشت گرد امریکہ میں ہار رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ گرفتار مسلمانوں سے امریکی حکومت اور عوام کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔
کیتھی مینلے نے کہاکہ اب تک امریکی حکومت نے خفظ ماتقدم کے تحت 399 مقدمات قائم کئے ۔ دہشت گردی کے ان مقدمات میں94فیصد افراد بے گناہ اور معصوم ہیں ۔لیکن انہیں غیر انسانی اور غیر اخلاقی مقدمات میں پھنسا کران کے ساتھ غیر امتیازی سلوک روا رکھا گیا انہیں سزائیں دی گئیں ان میں سرفہرست ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں 94. فیصد کی سار ی تعداد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔
اسٹیفن ڈاؤنز نے بتایا کہ پاکستانی قوم کی بیٹی کیلئے حکومت کا کوشش نہ کرنا قابل افسوس ہے۔ حکومت اگر اوبامہ انتظامیہ سے باظابطہ بات کرے تو کوئی بعید نہیں کہ امریکی حکومت عافیہ کو رہاکردے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دورے کے دوران حکومتی عہدیداروں سے عافیہ معاملے پر بات کرنے اور واپس جاکر عافیہ کی رہائی کو جلد ممکن بنانے کی کاوشیں کریں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی قوم کی بیٹی عافیہ کی رہائی کیلئے سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزی کلارک اور دیگر کئی شخصیات پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں ،دورہ کرنے والے سب افراد کی یہ رائے تھی کہ عافیہ کی رہائی میں دیری حکومت پاکستان کی جانب سے ہے ۔ پاکستان آج بھی اگر عافیہ کے حوالے سے دوٹوک انداز میں امریکی حکومت کے سامنے اپنا موقف رکھے تو کوئی عافیہ کی رہائی شاید دنوں نہیں گھنٹوں کی بات ثابت ہو۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمارے حکمران کیونکر عافیہ کے معاملے میں سستی اور بے حسی کا مظاہر ہ کر رہے ہیں۔ عافیہ کی بوڑھی ، بیمار والدہ اور معصوم بچوں سے وعدے کر کے کیوں بھلادیئے جاتے ہیں؟انتخابات کو جیتنے کیلئے تو نہ صرف عافیہ کا ذکر کر دیا جاتا ہے ، عافیہ کے معاملے کو اپنی مہم کا باقاعدہ حصہ بنا یا جاتا ہے لیکن مقاصد حاصل ہونے کے بعد سب کچھ بھلا دیاجاتا ہے۔ آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا؟ کب تک عافیہ کی ماں ، اور بچے عافیہ کی راہ تکتے رہیں گے؟ ان کی بہادر بہن جو اپنی زندگی کو خطرات میں ڈال کر ، اپنے کیریئر کو داؤ پہ لگا کر اپنی مظلوم بہن کی رہائی کیلئے جدوجہد کرتی رہیں گی؟کب تک ؟ ۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Premium WordPress Themes