کویت ،اسکوائش کے کھلاڑی فیدڑیشن کی ناقص پالیسی پرپھٹ پڑے

Published on May 11, 2015 by    ·(TOTAL VIEWS 425)      No Comments

11186200_904672389592684_868919822_n
کویت سٹی( عبدالشکورابی حسن)صحرائے کویت میں اسکوائش کے کورٹ میں راکٹ کے شاٹس اورجب ’’بال ٹپ ٹپ‘‘ کرتی ہیں تو پاکستان کے وہ کھلاڑی ذہنوں میں گھومتے ہیں جنہوں نے 37سال تک اسکوائش کے کورٹوں میں حکمرانی کی، رستم خان ،رحمت خان ،قمر زمان، جہانگیر خان اورجان شیرخان کے بعد پاکستان سے اسکوائش کی بادشاہی جیسے روٹھ ہی گئی اس میں کھلاڑیوں کا قصورہے یا فیڈریشن کا؟ جو کھلاڑیوں کی نشوونما میں کمی کررہی ہے یا کھلاڑیوں کو سیاست اورانا کی نظر کرکے پاکستان میں اسکوائش کے مستقبل کو سازش کے تحت تباہ کیاجارہاہے
جان شیر کے بعد امجد خان ،عمران خان ،احمد گل،عامراطلس ،فرحان محبوب ،نے اپنے تئیں بہت کوشش کی لیکن فیڈریشن کی سیاست نے اسکوائش کے کھیل کا ستیا ناس کردیاہے اوریہ کھلاڑی اپنا مستقبل تاریک کربیٹھے اوراب ان میں کوئی دوسرے ممالک میں کوچنگ کررہاہے یا پھر اپنے ہی ملک میں گم نامی کی زندگی گذاررہاہے کسی پر اخباری نمائندؤں کے ساتھ گفتگو کے بعد پابندی عائد کرکے گھربیٹھا دیاجاتاہے جو ان کے جذبات کوہمیشہ کے دفن کرنے کے مترادف ہے کرکٹ میں تو کوئی چھکا ماردے تو ملک ریاض اس کو پلاٹ سے نوازدیتے ہیں اورمعروف اینکر یا کالم نگار ان کے قصیدے لکھ دے تو وہ فوراًان کی مددکے لئے لبیک کہہ دیتے ہیں لیکن جو کھلاڑی اپنی محنت سے پاکستان کا نام بلندکرتاہے ان کے لئے توحکومت انہیں انعام سے نوازتی اورنہ ہی کوئی دولت مند ان کی خدمت کے لئے آگے آتاہے پاکستان میں اسکوائش اگر بربادہوگئی تو اس کی ذمہ داری حکومت اورفیڈریشن پرتوہوگئی ہی لیکن وہ سپانسرکمپنیاں اوروہ لوگ بھی ہوں گے جو کھلاڑیوں کے لئے کسی قسم کی سرپرستی نہیں کرتے۔ کویت میں منعقد ہونے والی ’’ایشین انفرادی اسکواش چیمپئن شپ‘‘ میں چار پاکستانی کھلاڑیوں طیب اسلم، دانش اطلس، فرحان زمان اور ناصر اقبال نے شرکت کی اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ناصر اقبال اور فرحان زمان نے سیمی فانل تک رسائی حاصل کی اور انتہائی سخت مقابلہ کے بعد شکست سے دوچار ہوئے۔ ناصر اقبال کو کویتی کھلاڑی عبداﷲ المزین اور فرحان زمان کو ہانگ کانگ کے لیو ایو نے شکست سے دوچار کیا۔ طیب اسلم جو پاکستان کے نمبر ون کھلاڑی ہیں اور دانش اطلس ابتدائی راؤنڈز میں ہی شکست سے دوچار ہو گئے۔انجینئر ارشد نعیم چوہدری نے چاروں ان کھلاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کو اپنے گھر عشائیہ پر مدعو کیاحالانکہ کویت میں ایک روایت بن چکی ہے پاکستان سے آنے والوں کے اعزازمیں پارٹی یا انہیں شیلڈ سے نوازدیاجاتاہے یہ چاروں کھلاڑیوں کے معصوم چہروں پر مایوسی عیاں تھی اوریہ کھلاڑی اتنے غصے میں تھے کہ وہ بالاخر’’ پھٹ ہی پڑے ‘‘پاکستانی کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار پاکستان اسکوائش فیڈریشن کو قرا ر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو سہولتیں حاصل نہیں، وہ اپنی جیب سے ٹکٹ خرید کر ٹورنامنٹ کھیلنے جاتے ہیں۔ سیمی فائنل کھیلنے والے کھلاڑی ناصر اقبال نے کہا کہ پاکستان اسکواش میں کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ کھلاڑیوں کے مالی مسائل حل کئے جائیں اورکوئی سپانسرشپ ملے تو ہمارا حوصلہ بلندہوجائے گا۔ کھلاڑی اپنی انعامی رقم سے ٹکٹ خرید کر جاتے ہیں۔ وہ کویت سے برٹش اوپن کھیلنے انگلینڈ جا رہے ہیں، مگر انہیں معلوم نہیں کہ کہاں قیام کرنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اکیڈمی کھولی جائیں۔ اسکول کی سطح پربچوں کو تربیت دی جائے۔ مصر میں ایک ایک اکیڈمی میں دو دو سو بچے ہیں۔ ان میں سے اچھے کھلاڑی مل رہے ہیں۔ اسکواش کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی فرحان زمان نے جو سابق عالمی چیمپئن قمر زمان کے بھتیجے ہیں، کہا کہ وہ لوگ اپنی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں، کویت میں ان کا اور ناصر اقبال کا سیمی فائنل کھیلنا بہت اچھا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کی عالمی درجہ بندی میں پوزیشن 50 درجہ سے بھی نیچے ہے، اگر وہ پندرہویں سولہویں پوزیشن کے کھلاڑیوں سے سخت مقابلہ کرتے ہیں تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کا معیار تو بہت بلند ہے، ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن پر کوئی انعام نہیں دیا گیا۔ یہی اعزاز انڈین کھلاڑیوں نے حاصل کی ہوتی تو ان پر انعامات کی بارش ہو جاتی، جب کھلاڑیوں کو ریکٹ میسر نہیں، وہ کہاں سے گیندخریدیں، 200 روپے کی گیند آتی ہے، ایک کھلاڑی دن میں دو گیندیں تو پھاڑ دیتا ہے۔ ریکٹ گیارہ ہزار روپے سے آتا ہے، ایک کھلاڑی کے پاس کم از کم پانچ ریکٹ تو ہونے چاہئیں۔ یہ چیزیں اسکولوں میں بانٹنی چاہئیں تاکہ اچھے کھلاڑی تلاش کئے جا سکیں۔ دانش اطلس جو عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی عامر اطلس کے بھائی ہیں، کہا کہ ورلڈ جونیئر میں پاکستانی کھلاڑی دوسرے جبکہ انڈین کھلاڑی پانچویں نمبر پر تھے، وہ بڑے خوش تھے کہ اب ان پر انعامات کی بارش ہو جائے گی۔ جو کھلاڑی کھیل رہے ہیں وہ اپنی دلچسپی اور شوق سے کھیل رہے ہیں۔ دو سال پہلے تنویر محمود جب اسکواش فیڈریشن کے سربراہ بنے تو ان کے بھائی عامر اطلس کو ٹارگٹ دیا کہ وہ انیسویں سے سولہویں نمبر پر آئیں گے۔ ایک سال میں اس نے یہ ٹارگٹ حاصل کر لیا، پھر ٹارگٹ دیا کہ 13 ویں نمبر پر آؤ، اس نے یہ ہدف بھی حاصل کر لیا۔ وہ پہلی دس پوزیشنوں پر آجاتا مگر فیڈریشن کے سربراہ تبدیل ہو گئے، اور نئے سربراہ نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر عامراطلس پر پابندی عائد کر دی۔ چاروں کھلاڑیوں طیب اسلم، دانش اطلس، فرحان زمان اور ناصر اقبال نے بیک زبان ہو کر ان الزامات کی تردید کی کہ نوجوان کھلاڑی ٹریننگ نہیں کرتے، انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی کھلاڑی آٹھ آٹھ گھنٹے ٹریننگ نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ کویتی کھلاڑی عبداﷲ کو صرف ایک کلب سے 400 دینار ماہانہ ملتے ہیں جبکہ ہمیں دس ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں اور وہ بھی نامعلوم وجوہات کی بناء پر بند کر دیئے گئے۔اس سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی نہیں حوصلہ شکنی ہوتی ہے اگر کوئی ہمیں سپانسر شپ مل جائے تو ہم قوم سے وعدہ کرتے ہیں ہم انشاء اللہ تعالی سکوائش کے کورٹ میں پاکستان کا کھویاہوامقام واپس دلانے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

WordPress主题