مارگلہ کی پہاڑیوں پر نصب کرش مشین پربلاسٹنگ کے دوران لینڈ سلائیڈنگ تین مزدور ہلاک

Published on October 10, 2015 by    ·(TOTAL VIEWS 507)      No Comments

unnamed
ٹیکسلا (یو این پی)مارگلہ کی پہاڑیوں پر نصب کرش مشین پربلاسٹنگ کے دوران لینڈ سلائیڈنگ تین مزدور ہلاک متعدد مزدور زخمی،حادثہ بلاسٹنگ کے بعد پتھر سمیٹتے ہوئے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پیش آیا، مارگلہ کی پہاڑیوں پر رائج جنگل کے قانون نے انسانی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا،کرش مشینوں کی لیز ختم ہونے کے باوجود بلاسٹنگ کا غیر قانونی کاروبار عروج پر ہے،مارگلہ سے متصل تھانے واپڈا سمیت مختلف محکوں کے افراد بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں،ماہانہ منتھلیوں کے باعث انتظامیہ نے آنکھیں موند رکھیں ہیں،کرش مشینوں پر بجلی کنکشنز کی غیر قانونی فراہمی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے،قبل ازیں رائل سٹون نذد بن بھولا میں پہاڑی تودہ گرنے سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں،تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز اسلام آباد مارکیٹ کے مغربی حصہ جو کہ ایچ آئی ٹی ٹیکسلا کے عقب پر واقع ہے،مارگلہ ہلز گرین سٹی کے نذیک کرش مشین نمبر گیارہ جس کا مالک مراد خان بتایا جاتا ہے پر صبح کے وقت رو زمرہ بلاسٹنگ کے بعد مزدور پتھر جمع کر رہے تھے کہ اچانک لائنڈ سلائڈنگ کا ہولناک واقع پیش آگیا جس سے کرش مشین کے قریب موجود ہیوی مشینری بھی ملبے تلے دب گئی جبکہ وہاں کام کرنے والے کئی مزدور اس حادثہ کا شکار ہوگئے ،زرائع کے مطابق پلانٹ کا منشی فرمان علی اور ثاقب رحمان ملبے تلے دب کر جان کی بازی ہار گئے جبکہ سلمان سمیت متعدد مزدوروں کی زخمی ہونے کی اطلاعات ملیں جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ، ہالک ہونے والے فرمان علی کا تعلق شبقدر چار سدہ ، جبکہ ثاقب رحمان کا تعلق ضلع اٹک سے بتایا جاتا ہے،ادہر واقع کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی امدادی کاروائیاں شروع ہوگئیں ،یاد رہے کہ ابھی کچھ عرصہ قبل رائل سٹون نزڈ بن بھولا کے قریب اسی قسم کا واقع رونما ہوا جس میں پہاڑی تودہ گرنے سے پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ کئی زخمی ہوئے ،ادہر عوامی حلقوں نے اس پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر جہاں پنیتیس سو کرش مشینیں نصب ہیں انکی لیز کٹم ہوچکی ہے ، لیکن بلاسٹنگ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے،انھوں نے اس کاروبار کو غہر قانونی قرار دیتے ہوئے اس امر کا اظہار کای کہ بلاسٹنگ کے لئے بارودی مواد بھی غیر قانونی طریقہ سے سپلائی ہوتا ہے، جبکہ متصل تھانوں سمیت محکمہ واپڈا اور محکمہ معدنیات اس مد بھی بھاری نذرانہ بھتہ کے طور پر وصول کرتے ہیں بتایا جاتا ہے کہ ہر ماہ پچا س ہزار سے زائد بھتہ ان مشینوں سے وصول کیا جاتا ہے،جبکہ مارگلہ ہلز پر نصب مشینیں کنڈا ڈال کر غیر قانونی بجلی استعمال کر رہے ہیں جبکہ انکے بجلی کے میٹرز اتر چکے ہیں لیکن کاروبار جون کا توں جاری ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ محکموں نے آنکھیں موند رکھیں ہیں ،مارگلہ ہلز پر بلاسٹنگ کی وجہ سے جہاں ماحولیاتی آلودگی حد سے بڑھ چکی ہے وہاں آئے روز حادثات کا رونما ہونا متعلقہ اداروں کے لئے کسی سوالیہ نشان سے کم نہیں،عوامی حلقوں کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب ، وزیر داخلہ ، آئی جی پنجاب و دیگر متعلقہ اداروں کے ذمہ داران سے اپیل کی ہے کہ ان محکموں میں موجود کالی بھیڑوں کا بھر پور محاسبہ کیا جائے ،جو اس مافیا کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں،اور قانون پر عمل داری کی بجائے ان کے پے رول پر کام کر رہے ہیں،علاوہ ازیں کرش مشینوں کی لیز ختم ہونے کی بابت مکمل تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے جس اس سارے عمل کی از خود نگرانی اور حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرے،بجلی کی غیر قانونی ترسیل کو فوری بند کیا جائے اورمحکمہ واپڈا میں موجود کالی بھیڑوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ انکی مجرمانہ غفلت پر سخت کاروائی ہوسکے

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Free WordPress Theme