سرٹیفیکیٹِ شہادت نہیں،صرف اتفاق چاہیے

Published on November 19, 2013 by    ·(TOTAL VIEWS 235)      No Comments

\"aqeel
شہید کا مطلب گواہی دینے والا ہے لیکن عام اصطلاح میں شہید سے مراد عموماً وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اسلام کی خاطر جان دے ۔ اسلام میں شہید کا مرتبہ بہت بلند ہے اور قرآن کے مطابق اسلام کی راہ میں جان دینے والے شہید مرتے نہیں بلکہ زندہ ہیں۔ شریعت میں اِسکا مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے دِین کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان قْربان کرنے والا ، میدانِ جِہاد میں لڑتے ہوئے ، جِہاد کی راہ میں گامزن اور دِین کی دعوت و تبلیغ میں جان دینا اور جِس موت کو شہادت کی موت قرار دِیا گیا ہے اْن میں سے کوئی موت پانے والا۔
شہادت کی اقسام میں ایک تواللہ کے لیے نیک نیتی سے میدانِ جِہاد میں کافروں ، مْشرکوں کے ساتھ لڑتے ہوئے قتل ہونے والا اور دوسراوہ جوشہادت کی موت کا درجہ پانے والا یعنی میدان جِہاد کے عِلاوہ ایسی موت پانے والا جسے شہادت کی موت قرار دِیا گیا۔
آخری رسول حضرت مْحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اْمت پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں میں سے ایک رحمت یہ بھی ہے کہ سابقہ اْمتوں کے شہیدوں کی طرح اْمتِ مْحمدیہ میں درجہِ شہادت پر صِرف اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے قتل ہونے والوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ دوسروں کو بھی اِس درجہ پر فائزفرمایا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہْ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا! تم لوگ اپنے(مرنے والوں ) میں سے کِسے شہیدسمجھتے ہو ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کِیا اے اللہ کے رسول جو اللہ کی راہ میں قتل کِیا جاتا ہے ہم اْسے شہید سمجھتے ہیں۔ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا اگر ایسا ہو تو پھر تو میری اْمت کے شہید بہت کم ہوں گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کِیا اے اللہ کے رسول تو پھر شہید اورکون ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایاجو اللہ کی راہ میں قتل کِیا گیا وہ شہید ہے اور جو اللہ کی راہ میں (نکلا اور معرکہِ جِہاد میں شامل ہوئے بغیر مر گیا ، یا جو اللہ کے دِین کی کِسی بھی خِدمت کے نکلا اور) مر گیا وہ بھی شہید ہے ۔ جو طاعون (کی بیماری )سے مر گیا وہ بھی شہید ہے۔ جو پیٹ کی بیماری سے مر گیا وہ بھی شہید ہے۔ عبید اللہ ابن مقسم نے یہ سْن کر سہیل کو جو اپنے والد سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہْ کے ذریعے روایت کر رہے تھے ، کہا میں اِس حدیث کی روایت میں تمہارے والد کی (کی درستگی ) پرگواہ ہوں اور اِس حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے ۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہْ سے دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا شہید پانچ ہیں مطعون ،پیٹ کی بیماری سے مرنے والا ، ڈوب کر مرنے والا ، ملبے میں دب کر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔
آج کل ہمارے ملک میں بھی شہید کے بارے میں بڑے چرچے ہورہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا سے لیکر پرنٹ میڈیا تک ہر جگہ پر شہادت کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ ہرکوئی اپنی اپنی زبان سے شہادت کے سرٹیفکیٹ کی تشریح کررہا ہے۔ کیا کسی بھی عالم یا لیڈر کے کہنے سے کسی کو شہادت کا سرٹیفیکیٹ ملے گا؟ مولوی حضرات اپنی اپنی سوچ کے مطابق شہید کا اعلان کررہے ہیں ۔ کوئی انسان کو شہید کا درجہ دے رہا ہے تو کوئی جانور کو۔ شہید کے لیے کسی مولوی کے فتوے کی ضرورت نہیں اس کا فیصلہ تو اللہ کے ہاں ہوگا کہ کون شہید تھا اور کون دنیا دکھاوے کے لیے اپنی جان کی بازی ہارا۔ صرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بتا سکتے تھے کہ یہ مرنے والا جنتی ہے یا جہنمی۔
پچھلے دنوں طالبان کا لیڈرحکیم اللہ محسود امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا ۔ اس دن پاکستان میں ایک ناختم ہونے والی بحث چل رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکی فوج پاکستان یا اسلام کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ہر گز نہیں۔یہ پاکستان کو کمزور کرنے اور اپنے ذاتی مفادکے لیے لڑرہی ہے۔ امریکہ کا اصل چہرہ دیکھنا ہے تو پھر مسلمانوں سے گوانتا نا موبے جیل کے اندر کیاجانے والا سلوک دیکھو۔امریکی ایجنٹ مسلمانوں کا بھیس بدل کر مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہا ہے۔ ایک مثال آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جب لبنان میں حسن نصراللہ کے لوگ امریکی اور اسرائیلی دہشت گردی میں مارے جائیں تو انہیں یک دم شہید قرار دیاجاتا ہے۔ اسی امریکی اور اسرائیلی دہشت گردی میں اگر کوئی افغان مارا جائے تو وہ شہید نہیں بلکہ الٹا اسے دہشت گرد کہا جاتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے امریکی ڈرون سے ہلاک ہونے والے کتے کو بھی شہید قرار دینے کا فتویٰ دیا۔کیا ان کے کہنے سے کتا شہید کہلائے گا؟ ہرگز نہیں یہ بات انہوں نے استعاراً کہی لیکن ہم نے بغیر سوچے سمجھے اس بات کا بتنگڑ بنا لیا ۔سید منور حسن کے بیان کو بھی بہت اچھالا جارہا ہے۔ ان کا مقصد بھی ایسا نہیں تھا مگر کچھ شر پسند لوگ اور مخصوص میڈیا پاکستان میں مذہبی انتشار کو ہوا دینا چاہتا ہے۔
اس ملک میں جرائم پیشہ افراد مارے جائیں تو ان کے سرپرست فوری طور پر ان کو شہید قرار دیتے ہیں ۔ اس معاملے کو اچھالنے والوں کا کچا چٹھا سوشل میڈیا کھل کر بیان کرتا ہے ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ سوشل میڈیا پر جو حقیقت ظاہر کی جاتی ہے جس سے عوام متفق ہے امریکی احکامات کے زیراثر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس سے بالکل الٹ امریکی اور اسلام دشمنوں کی زبان بولتا ہے کیونکہ ایک مخصوص طبقہ بنگلہ دیش کی طرح مذہبی لوگوں کو پیچھے دھکیل کر سیکولر لابی کو آگے لانا چاہتا ہے۔ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ سیکولر لابی کا نعرہ ہی اس ملک میں فتنہ و فساد پھیلا سکتا ہے اور ان کی اس بات میں وزن بھی ہے۔کیونکہ اب نام نہاد لیڈروں کو میڈیا میں ان رہنے کا موقع مل گیا ہے اور اسلام کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والوں کو زیرعتاب لانے کا بہانہ مل گیا۔ وہ نہیں سمجھتے کہ ان کے اس طرزعمل سے اسلام اور پاکستان کی کتنی رسوائی ہورہی ہے۔ بس یہ لوگ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ انہیں ملک میں انتشار کو ہوا دینے کا کوئی بہانہ ، کوئی موقع مل جائے اور ملکی و غیر ملکی اسلام دشمن طاقتوں کی پاکستان کو کمزور کر کے تقسیم کرنے کی دیرینہ خواہش پوری ہو جائے۔
پاکستانی عوام کو ایسے لوگوں کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے ۔ شہید کی اقسام ہمیں قرآن و حدیث سے مل جاتی ہیں تو پھر ہمیں کسی سے سرٹیفیکیٹ لینے کیا ضرورت ہے۔ شہید ہونے والے کی شہادت کا فیصلہ اللہ اس کی نیت کے مطابق خود کرے گا کیونکہ دلوں کے بھید تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ۔اگر آج پاکستانیوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو سازشی عناصر اپنے مشن میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ اور نقصان صرف اور صرف اسلام اور امت مسلمہ کا ہوگا ۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Premium WordPress Themes