حسین احمد شیر ازی کا بابونگر

Published on April 13, 2016 by    ·(TOTAL VIEWS 608)      No Comments

akhtar sardar ch
ہم نے بابو نگر کامطالعہ کر کے تبصرہ کرنے کے لیے پوری طرح سے کمر کس لی۔ کتاب اتنی بھاری بھر کم ہے کہ کئی بار کمر ڈھیلی پڑ گئی ۔ کئی بار خیال آیا کہ پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ۔بڑے رائیٹروں کی طرح سونگھ کر ہی دھانسو قسم کا تبصرہ لکھ دیتے ہیں ۔لیکن ہم ٹھہرے چھوٹے لکھاری ابھی اتنی بے ایمانی کے عادی نہیں ہیں ۔اس لیے ایک طرف سے پڑھنا شروع کر دیا ۔اور چند دن میں مکمل کتاب پڑھ ڈالی ۔اب لکھنے کا مرحلہ آیا تو ایک بار پھر کمر ڈھیلی پڑ گئی جس کتاب کی تعریف و توصیف میں عطاء الحق قاسمی، سید ضمیر جعفری مرحوم ، عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جسٹس میاں محبوب احمد جیسے بڑے ادیب رطب اللسان ہوں اس پر لکھنا آسان نہیں ۔یوں تو مجھے کسی بھی موضوع پر عبور حاصل نہیں لیکن طنز و مزاح میں تو بالکل کورا ہوں ۔مزاح تک تو بات سمجھ آتی ہے لیکن یہ جومزاح سے پہلے طنز کا لفظ ایسے ہے جیسے کوئی شہد میں زہر (تاثر ۔تریاق) دے رہا ہو۔
چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی
ویسے مزاح اور طنز کیا ہے یار لوگ اس پر بھی متفق نہیں ہیں کسی نے کچھ کہا ہے دوسرے نے کچھ اور کہا ہے ۔میرے خیال میں ان کے الگ الگ معنی ہیں، جداگانہ خصوصیات ہیں ۔بلکہ یہ متضاد ہیں ۔اور پڑھا ہے کہ یہ اعزاز صرف اردو زبان کو حاصل ہے کہ ان الفاظ کو یکجا لکھا اور برتا جاتا ہے ۔اصل میں مزاح ، کسی عمل، تقریر یا تحریر کے ذریعے تفریح فراہم کرنا، جسے دیکھ ،سن یا پڑھ کر مسکراہٹ ،ہنسی ، قاری کے چہرے پر رنگ بکھیر دے۔اور طنزمیں کسی فرد، گروہ یا قوم و ملک کی کم زوریوں ، برائیوں اور بد اخلاقیوں کو تضحیک اور تحقیر کا نشانہ بنایا جاتاہے ۔
حسین احمد شیرازی کے55مضامین پر( جن میں تعارف کے پانچ مضامین شامل نہیں ہیں) مشتمل مجموعہ ’’بابو نگر‘‘ کے نام سے شائع ہو کر
ایک وسیع حلقہ احباب سے داد وصول کر رہا ہے ۔اس کتاب کی سب سے اہم خوبی مزاح میں ،طنز میں بین السطور پیغام اصلاح ہے ،جو اقدار کا ماتم بھی ہے ،معاشرے کا آئینہ بھی ہے ،اس کی قدر شناسی ضروری ہے ۔وہ بعض اوقات نشتر سے مرہم لگاتے ہیں ۔ان کی کتاب پر اگر ایک فقرہ میں تبصرہ کرنا ہو تو وہ کتاب کی ابتدا میں ’’اْردو ظرافت کا باغیچہء شیراز‘‘ کے عنوان سے سید ضمیر جعفری مرحوم نے کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ’’یہ تحریریں شائستہ، ذہین اور بشاش ظرافت کی اس سطح کی نمائندگی کرتی ہیں جس سے کسی قوم کی تہذیبی سطح کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر اسے رَوا رَوی میں پڑھو تو ’’کامیڈی‘‘ معلوم ہوتی ہے اور سوچ کر پڑھو تو ’’ٹریجڈی‘‘ محسوس ہوتی ہے ‘‘
اس کتاب کی خاص بات یہ بھی ہے کہ تمام مضامین میں اْردو کے کلاسیکی اشعار کا بَرمحل استعمال کیا گیا ہے ۔یہ اشعار قدیم و جدید شعرا ء کے ہیں ۔جو تحریر کی چاشنی بڑھا دیتے ہیں ۔کچھ اشعار میں مصنف نے ایک آدھا لفظ بڑھا کر یا تحریف کر کے اسے موقع محل کے مطابق بنایا ہے ۔چونکہ یہ کتاب بابونگر حسین احمد شیرازی نے اپنے شائع شدہ مضامین کو یکجا کر کے ترتیب دی ہے شائد اس وجہ سے ایک ہی شعر دو یا تین بار بھی مختلف مضامین میں لکھے گئے ہیں ۔مناسب ہوتا کہ اسی موضوع کا ہر بار کوئی نیا شعر لکھا جاتا ۔کیونکہ اشعارکا خزانہ تو ان کے پاس وسیع ہے ۔اور ہر موقع محل کے مطابق اسے مالا میں موتی کی طرح پرونا بھی آتا ہے ۔
’’لوٹ کے بدھو گھر سے آئے‘‘میں انہوں نے اپنا سفر لکھا ہے ۔اس طویل مضمون کے آخر میں ’’یہ کام تو اڈے پر بھی ہو سکتا تھا ‘‘پڑھ کر ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن اس مضمون میں بعض فقرے ایسے بھی ہیں جو سوچ کے نئے در کھولتے ہیں ۔مثلا ’’لیکن شوکت صاحب کا رویہ (میری) ان تجاویز کے بارے میں وہی تھا جو اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کی قراردادوں کے بارے میں بڑی طاقتوں کا ہے ‘‘یا یہ ’’کوئی من چلا گورا جب ’’پاکی ‘‘’’پاکی‘‘کہتا تو ان کو یوں لگتا کہ جیسے کسی نے انہیں گٹر یا سیوریج میں پھینک دیا ہے ۔ان کی آرزو تھی کہ پاکستان واپس چلے جائیں اور وہ حیران تھے کہ لوگ کس بکھیڑے میں پڑنے کے لیے لندن آتے ہیں ۔‘‘وغیرہ
’’جدید قصہ چہار دویش بے تصویر وبے نظیر‘‘ میں مصنف نے مشکل اردو کے ثقیل وقدیم الفاظ استعمال کر کے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی
لیکن مشکل زبان کے سبب یہ اپنا رنگ نہ جما سکا ۔اس مضمون کی دوسری خامی اس کی بے جا طوالت بھی ہے ۔اگر یہی مضمون پانچ یا سات صفحات پر لکھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا ۔لیکن یہ تاثر ’’چپل کی کہانی ‘‘پڑھ کر جاتا رہا ۔ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے کڑوے سچ اپنے مقصد اور لالچ کے لیے چاپلوسی سے کیسے کام لیا جاتا ہے ۔بڑے ہی خوبصورت الفاظ ،جاندار انداز بیاں،مزاح کے رنگ میں لکھا ۔ایک اقتباس دیکھیں ’’شکر ہے میری بات سمجھنے لگے ہو کہ اپنا کام نکالنا ہو تو انکار نہ کرو ،تکرار نہ کرو ،غلطی نکال کر دوسرے کو شرمسار نہ کرو،اور یہ کہ ترقی کی منزل تک سب سے آسان زینہ منافقت کا ہے ‘‘اسی مضمون میں یہ اشعار بھی قابل داد ہیں ۔
آو مل کر یہ دونوں جہاں بیچ دیں
یہ زمین بیچ دیں ،آسماں بیچ دیں
اور اگر کچھ نہیں ہے تو بھائی مرے
ایک بیوہ سے چھینیں ،مکاں بیچ دیں
’’کھیر ،چرخہ ،کتا اور ڈھول‘‘ واقعاتی مزاح کی اعلی مثال ہے ۔یہ صولت صاحب کے بارے میں ہلکا پھلکا مضمون ہے ۔ایک بار صولت صاحب سے ان کے پروفیسر صاحب نے ازراہ تفنن پوچھا کہ ’’آپ کی کلاس عمومی غیر حاضری کی وجہ کوئی خاص ناپسندیدگی ہے ‘‘تو صولت گویا ہوئے کہ مجھے یہ کالج پسند نہیں ،اس کی عمارت پسند نہیں ،استاد پسند نہیں اور ساتھی طالب علم پسند نہیں ۔
’’منزل کے بغیر مسافتیں‘‘ایک سماجی طنز پر لکھا گیا پوری کتاب میں مجھے سب سے زیادہ پسند آنے والا مضمون ہے ۔(ویسے پسند اپنی اپنی ہوتی ہے )آٹھ کردار پر مشتمل یہ ڈراما نما مضمون نہ صرف مزاحیہ ہے بلکہ طنز کی بھی کاٹ لیے ہوئے ہے ۔اس تحریر میں ایک ایک سطر پر محنت کی گئی ہے ۔
آپ زیادہ پڑھا کریں ۔دو روپے خر چ کر کے آپ ’’کے ۔ٹو‘‘ کا سگریٹ پی سکتے ہیں ۔کے ٹو کی چوٹی سر نہیں کر سکتے
فرحان ۔استاد کی عزت کیوں کرنی چاہئے ؟
اعظم ۔وہ فیل کر سکتا ہے
انعام ۔ہر بڑے مقصدکے لیے قوم کو قربانی دینی پڑتی ہے ۔ہمیں بھی اس کے لیے تیار رہنا چاہئے ۔
مرزا۔تم لوگ کیا قربانی دیتے ہو
انعام ۔ہم ہر عید الاضحی پر دو دنبے ذبح کرتے ہیں ۔
انعام ۔(رشتے داروں کے بارے میں بتاتے ہوئے )ان کو متعدی مرض ہے
فرحان ۔کون سا ؟
انعام ۔غربت کا
فرحان ۔آج کل بڑی مہنگائی ہے ۔
اعظم ۔ہاں ہمارے نوکر بہت شور مچاتے رہتے ہیں
فرحان ۔تم لوگ بہت زیادہ خوش کب ہوتے ہو
اعظم ۔ہمیں خوش ہونے کی فرصت ہی نہیں ہے
حسین احمد شیرازی نے دیگر مضامین (بر ادر خوردظلم کی داستان ۔مہمان بلائے جان ۔آب حیات اور گٹر کے ڈھکنے ۔مرحوم ۔میں ایک ممبر ہوں ۔ وغیرہ ) میں بھی ایسے ہی چن چن کر الفاظ لکھے ہیں ۔ اور طنزومزاح کے کی مدد سے بہت سے لطیفے تخلیق کیے ہیں ۔’’مسٹر ،معاشرہ اور منافقتیں‘‘جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ایک طنز سے بھرپور مزاح کے رنگ میں ،ہماری معاشرے میں جو منافقت ہے اس کی عکاسی کرتا سوچ کے نئے در کھولتا مضمون ہے ۔
**
کتاب کا ایک حصہ ،بابو نگر ‘‘پر مشتمل ہے ۔اس میں صاحب کتاب نے زندگی بھر کا مشاہدہ مختلف عنوانات سے اپنے مخصوص انداز بیاں میں تحریر کیا ہے ۔یعنی کسٹم، ایکسائز اور سیلز ٹیکس سے متعلق گورنمنٹ سے ایوارڈ یافتہ مصنف حسین احمد شیرازی نے اپنے شعبے سے متعلقہ ،اپنے مشاہدے میں آنے والے تلخ و شیریں واقعات ،جو اپنے ارد گرد دیکھا ،سنا ،سمجھا اسے بیان کیا ہے ۔
وہ بابو نگر کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں ’’اس مضمون میں بہت سے پرانے قصے لکھے گئے ہیں چنانچہ یہ امکان موجودہے کہ یاداشت کے ضعف کی وجہ سے ہم نے اپنے کارنامے دوسروں کے کھاتے میں ڈال دیئے ہوں ۔
بڑے پاک طینت،بڑے صاف باطن
ریاض ۔آپ کو کچھ ہمیں جانتے ہیں
لفظ بابو کی وضاحت کرنے کے بعد انہوں نے اس کی بنیاد اور تاریخ بھی مفصل بیان کی ہے ۔جو ایک جیسی سوچ اور انداز فکر رکھنے والے افراد پر روشنی ڈالتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں ’’اعمال سے عادت ،عادت سے کرداراور کردارسے مزاج اور سرشت تعمیر ہوتے ہیں ۔منفی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو لباس پر پہلا پیوند ہی بدنما لگتا ہے ۔زندگی میں پہلا جھوٹ ،پہلی بے ایمانی ،پہلی بے حیائی ،پہلی بے غیرتی کافی مشکل ہوتے ہیں ۔ان اعمال کی۔۔۔۔ تکرار سے یہ انسانی فطرت کا جزو بن جاتے ہیں اور پھر ان کا ارتکاب نہ دشوار لگتا ہے نہ ناروا۔
شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
جہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا ہوں گردن کو
بابوؤں کا پس منظر ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں ’’اپنے خمیر کے حوالے سے یہ بابو لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کی پیدا وار ہیں ۔جس نے اپنی پالیسی کا مطمح نظر ایک ایسے طبقے کا فروغ بنایا تھا جو اپنے خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی لیکن اپنے ذوق ،عقیدے ،اصول ،عمل اور فہم و فراست کے اعتبار سے انگریز ہوگا ۔‘‘لیکن دست بستہ یہاں مجھے حسین احمد شیرازی صاحب سے اختلاف ہے انہیں انگریز کی بجائے انگریز کا ذہنی غلام لکھنا چاہئے تھا ۔
دل کو کرتے ہیں بتاں تھوڑے سے مطلب پہ خراب
اینٹ کے واسطے مسجد ہیں یہ ڈھانے والے
ڈنگ ٹپاؤ حکمت عملی۔اختیارات کی مرکزیت اور ماحول کا جبر۔بصیرت سے نفرت ۔رائی کا پہاڑ ۔جیسے مضامین پڑھتے ہوئے آپ ہلکی سی ہنسی چہرے پر سجائے۔ شرم سار سے ہوکر ،اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے مطالعہ فرمائیں گے ۔یہ ہی حسین احمد شیرازی کی تحریر کا خاصہ ا ور وصف ہے ۔’’ایک دفتر میں آگ لگ گئی ۔شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے ۔چند لوگ ایک درخت کے نیچے آرام سے بیٹھے تھے ۔ان سے کسی گزرنے والے شخص نے پوچھا ’’بھائی صاحب آپ اس دفتر میں کام کرتے ہیں ۔‘‘جواب ملا ’’جی ہاں‘‘پھر مشورہ دیا گیا۔’’تو اس آگ کو بجھانے کے لیے کچھ کریں‘تو وہ بولے ’’وہی تو کر رہے ہیں ۔یہاں بارش ہونے کی دعا ہو رہی ہے ‘‘
راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا
خبطی بابو میں لکھتے ہیں ۔بیس سال پرانا واقعہ ہے ۔ہم کسٹم کے کسی بڑے بابو کے دفتر میں موجود تھے ۔وہاں کسی نے تجویز پیش کی کہ انسداد اسمگلنگ مینول چھاپناچاہئے ۔تو بڑے بابو بولے ’’ہم نے ٹیرف اصلاحات کر دی ہیں جس کے بعد اسمگلنگ ختم ہو جائے گی اور پھر ایسی کسی کتاب کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔
بابو اور دربار۔خوشامد اور چمچہ گیری۔میں نہ مانوں ۔کام کے بغیر دفتر۔بڑی زبردست تحریریں ہیں ۔آخرا لاذکر کے آخر میں ’’کہتے ہیں کہ دفتر کے باس کے سر میں کوئی پیچیدہ تکلیف نمودار ہوئی تو اس کا بیرون ملک علاج تجویز ہوا ۔وہاں سرجن نے آپریشن کے بعد بتایا کہ اس کے دماغ میں کوئی خرابی نہیں تھی البتہ بے حد زنگ آلود تھا ۔
’’سفارش ‘‘نامی مضمون میں لکھتے ہیں ۔سفارش ہماری زندگی کا چلن ہے ۔سفارش انشورنش ہے ۔سفارش بارٹر سسٹم بھی ہے ۔سفارش ایک بہت بڑا آرٹ ہے ۔سفارشی کے ساتھ میرٹ کی بحث میں پڑنا فضول ہے ۔’’کرپشن‘‘نامی آرٹیکل میں ایک شعر کا عنوان کے حساب سے استعمال دیکھیں ۔ایسے ہی انہوں نے ہر مضمون میں شعروں کا تڑکا لگایا ہے ۔
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
**
بابو نگر کتاب کا آخری حصہ بابوؤں کی اقسام پر مشتمل ہے ۔جس میں سیاسی ،خاکی ،کاروباری،عدالتی ،وکیل ،عالمی،روحانی،طبی ،ادبی،آرٹسٹ،میڈیا ،خواتین بابوؤں کا تفصیلی ذکر ہے ۔اور ان کے طریقہ وار دات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے ۔’’روحانی بابو ‘‘ میں سے چند فقرات دیکھیں ۔لوگ اسلام کے لیے زندگی قربان کرنے کے لیے تو تیار ہے ۔اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ہمارے روحانی بابوؤں میں نناوے فیصد لیڈر پائے جاتے ہیں ۔روحانی بابوؤں نے ہمارے آزادی کے تینوں ہیروز یعنی سرسید ،اقبال اور قائد اعظم کو کافر قرار دیا تھا ۔ان روحانی بابوؤں کا اسلام ہمیشہ خطرے میں رہتا ہے ۔روحانی بابوؤں نے کفر کے دائرے کی جو حدود متعین کی ہیں ۔۔۔ان تصریحات کے پیش نظر یہ سب بذات خو د بھی اسی دائرے میں آ جاتے ہیں ۔
یہی شیخ حرم ہے جو چرا کے بیچ کھاتا ہے
کلیم بوذرو دلق اویس و چادر زہرا
’’خواتین بابو‘‘میں خواتین بابوؤں کے کئی ایک طریقہ واردات بتائے ہیں دو کا ذکر ۔’’میں نے باس سے کہا سردو دن سے آپ سے ملاقات نہیں ہوئی ۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟تو باس نے جواب دیا ۔’’میں آپ کا شوہر نہیں ہوں کہ آپ سے ملاقات لازمی ہو ۔‘‘
ایک خاتون بابو نے اپنے باس کو دھمکایا کہ’’ خواہ مخواہ میرے کیس میں نوشیرواں عادل بننے کی کوشش مت کرو ،میں نے کندھے سے قمیض پھاڑ کر شور مچا دیا تو اپنے بیوی بچوں سے بھی منہ چھپاتے پھرو گئے ‘‘مصنف ’’بابو نگر‘‘ سابق چیف کلکٹر کسٹم حسین احمد شیرازی کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خاں لکھتے ہیں۔حسین احمد شیرازی کے مضامین اردو ادب کے ممتاز جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔اور یہ جرائد اپنے خاص معیار کے لیے بہت مشہور ہیں ۔جیسے اردو ڈائجسٹ ،ادب لطیف۔نیرنگ خیال ۔ المزان وغیرہ ۔ڈاکٹر صاحب مزید کہتے ہیں ۔’’میں حسین احمد شیرازی کو ایک چھپے رستم کی حیثیت سے اس بہترین کاوش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور مزید ترقی کے لیے دعا گو ہوں ۔‘‘
ہمارے ہاں عام طور پر طنز و مزاح کا مقصد صرف ہنسنا ،ہنسانا ہی لیا جاتا ہے ۔یار لوگ اس سے زیادہ اسے اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ صرف ہنسی بھی یا خوشی بھی کچھ کم نہیں ہے لیکن اس سے بڑھ کر مقصدیت کو سامنے رکھ کر لکھی گئی کتاب کو صرف مزاح کے کھاتے میں ڈال دینا کھوتا کھوں میں ڈال دینے کے مترادف ہے ۔
یوں پھریں اہل ہنر آشفتہ حال ،افسوس ہے
اے کمال افسوس ہے ،تجھ پر کمال افسوس ہے
بابو نگر پڑھ کر احساس ہوتا ہے ۔وہ صرف ایک بابو نہیں ہیں ۔بلکہ ایک ادیب ،شاعر،ڈرامہ نویس،کہانی کار،سیاح ،فلسفی ،تجزیہ نگار ،معاشرے کے نباض بھی ہیں ۔اور انہیں اپنے خیالات کو الفاظ کی شکل دینے کا فن بھی خوب آتا ہے ۔حسین احمد شیرازی میرے خیال میں ایک معقول آدمی ہیں اورمعقول زندگی بھی گزار رہے ہیں۔ان کی کتاب بھی بڑی معقول ہے ۔آپ میری بات سے متفق ہو جائیں گے ’’بابو نگر‘‘ کے مطالعہ کے بعد ۔تحریر کے اختتام پر مجھے کہنا ہے کہ ۔یہ کتاب تو خوب تر ہے اور بلاشبہ پڑھنے کے قابل ہے ۔لیکن اس میں ایک خوب ترین اور خاصے کی چیز بھی ہے اور وہ ہے ۔کارٹونسٹ جاوید اقبال کے کارٹون ۔ایک تو اس سے ہر مضمون کو چار چاند لگ گئے ہیں ۔دوم یہ بھی کارٹون دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ سج جاتی ہے ۔نہیں یقین تو بابو نگر میں جا بجا ہر تحریر سے مطابقت رکھتے جاوید اقبال کے بنائے ہوئے کارٹون دیکھ لیں۔کارٹون مصورانہ ہیں ۔ان میں کسی کی تضحیک نہیں کی گئی اور یہ خوبی کم نہیں کہ موضوع کو سامنے رکھ کر بنائے گئے ہیں ۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Weboy