معجزہِ عظیم ۔۔۔۔ قرآن حکیم

Published on July 3, 2016 by    ·(TOTAL VIEWS 587)      No Comments

Rasheed Naeem
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ۔اس کی جسمانی اور فطری ضراریات پوری کرنے کے لیے مادی وسائل پیدا کیے اور ذہن و روح کی راہنمائی کے لیے بھی اہتمام فرمایا۔خود انسان کو خیر و شر میں فرق کرنے کی صلاحیت اور ضمیرکی آواز عطا فرمائی۔اس کے علاوہ انسان کی کامل راہنمائی کے لیے انبیاء کرام مبعوث فرمائے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں۔اپنی حقانیت اور اپنے انبیاء کرام کی صداقت ثابت کرنے کے انبیا ء کرام کو معجزات سے نوازا
معجزہ چونکہ نبی کی صداقت ظاہر کرنے کے لیے ایک خداوندی نشان ہوا کرتا ہے اس لیے معجزہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ خارقِ عادت ہو یعنی ظاہری علل و اسباب اور عادات جاریہ کے بالکل ہی خلاف ہو ورنہ ظاہر ہے کہ کفار اس کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو فلاں سبب سے ہوا ہے اور ایسا تو ہمیشہ عادۃً ہوا ہی کرتا ہے اس بنا پر معجزہ کے لیے یہ لازمی شرط ہے بلکہ یہ معجزہ کے مفہوم میں داخل ہے کہ وہ کسی نہ کسی اعتبار سے اسباب عادیہ اور عادات جاریہ کے خلاف ہواور ظاہری اسباب و علل کے عمل دخل سے بالکل بالاتر ہو تا کہ اس کو دیکھ کر کفار یہ ماننے پر مجبور ہو جاہیں کہ چونکہ اس چیز کا ظاہری کوئی سبب بھی نہیں ہے اور عادۃًایسا کبھی ہوا بھی نہیں کرتا اس لیے بلاشبہ اس چیز کا کسی سے ظاہرہونا انسانی طاقتوں سے بالاتر کارنامہ ہے لہذا یقیناًیہ شخص اللہ کی طرف سے بھیجا ہو ہے ا ور اس کا نبی ہے ہر نبی کا معجزہ چونکہ اس کی نبوت کے ثبوت کی دلیل ہوا کرتا ہے اس لیے خداوند عالم نے ہر نبی کو اس کے دور کے ماحول اور اس کی امت کے مزاج اور عقل و فہم کی مناسبت سے معجزات سے نوازا چنانچہ مثلاً حضرت موسیٰ کے دور میں چونکہ جادو اور ساحرانہ کارنامے اپنی ترقی کی اعلی ترین منزل پر پہنچے ہوئے تھے اس لیے اللہ تعالی نے آپ کو ید بیضا اور عصا کے معجزات عطا فرمائے جن سے آپ نے جادو گروں کے کارناموں پر اس طرح غلبہ حاصل فرمایا کہ تمام جادو گر سجدے میں گر پڑئے اور آ پ کی نبوت پر ایمان لے لائے اس طرح حضرت عیسےٰ علیہ السلام کے زمانے میں علم طب انتہائی معراجِ ترقی پر پہنچا ہوا تھا اور اس دور کے طبیبوں اور ڈاکٹروں نے بڑئے بڑئے امراض کا علاج کر کے اپنی فنی مہارت سے تمام انسانوں کو مسحور کر رکھا تھا اس لیے اللہ تعالی نے حضرت عیسےٰ کو مادرزا داندھوں اور کوڑھوں کو شفا دینے اور مردوں کو زند ہ کردینے کا معجزہ عطا فرمایا جس کو دیکھ کر دورِمسیحی کے اطبا ء اور ڈاکٹروں کے ہوش اڑ گئے اور وہ حیران و ششدررہ گئے اوہ بالاآخر انہوں نے معجزات کو انسانی کمالات سے بالاتر مان کر آپ کی نبوت کا اقرار کر لیا ،اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام کے دور بعثت میں سنگ تراشی اور مجسمہ سازی کے حالات کا بہت چرچا تھا اس لیے خداوند تعالی نے آپ کو معجزہ عطا فرما کر بھیجا کہ آپ نے ایک پہاڑی کی طرف اشارہ فرما دیا تو اس کی چٹان شق ہو گئی اور اس میں سے ایک بہت ہی خوبصورت اور تندرست اونٹنی اور اس کا بچہ نکل پڑا اور آ پ نے فرمایا کہ’’ یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمھارے لیے معجزہ بن کر آئی ہے ،، حضرت صالح علیہ السلام کی قوم آ پ کا یہ معجزہ دیکھ کر ایمان لے آ ئی ،الغرض اسی طرح ہر نبی کو اس کے دور کے ماحول کے مطابق اور اس کی قوم کے مزاج اور ان کی افتا د طبع کی مناسبت سے کسی کو ایک’ کسی کو دو اورکسی کو اس سے زیادہ معجزات ملے مگرہمارے نبی آخرالزمان حضرت محمدﷺ چونکہ تمام نبیوں کے بھی نبی ہیں اور آپ کی سیرتِ مقدسہ تمام انبیاء علیہم السلام کی مقدس زندگیوں کا خلاصہ ہے اور آپ کی تعلیم تمام انبیاء کرام کی تعلیمات کا عطر ہے ۔آپ دنیا میں ایک عالمگیر اور ابدی دین لے کر تشریف لائے اور عالم کائنات میں اولین و آخرین کی تمام اقوام و ملل آپ کی مقدس دعوت کے مخاطب تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذاتِ مقدسہ کو انبیاء سابقین کے تمام معجزات کا مجموعہ بنا دیا اور آپ کو قسم قسم کے بے شمار معجزات سے سرفراز فرمایا جو ہر طبقہ ، ہر گروہ، ہر قوم اور تمام اہلِ مذاہب کے مزاج اور عقل و فہم کے لیے ضروری تھے اسی لیے آپ کی صورت، آپ کی سیرت ،آپ کی سنت و شریعت، آپ کے اخلاق واطوار اور معمولات زندگی میں آپ کی ذات و صفات کی ہر ہر ادا اور ایک ایک بات اپنے دامن میں معجزات کی دنیا لیے ہوئے ہے۔آپ پر جو کتاب نازل ہوئی وہ آپ کا سب سے بڑااور قیامت تک رہنے والا ابدی معجزہ ہے ۔آپ کے معجزات عالم اعلیٰ اور عامِ اسفل کی کائنات میں اس طرح جلوہ فگن ہوئے کہ فرش سے عرش تک آپ کے معجزات کی عظمت کا ڈنکا بج رہا ہے۔روئے زمین پر جمادات ،نبادات،حیوانات کے تمام عالموں میں آپ کے طرح طرح کے معجزات کی ایسی ہمہ گیرحکمرانی و سلطنت کا پرچم لہرایا کہ بڑے بڑے منکروں کو بھی آپ کی صداقت و نبوت کے آگے سرنگوں ہونا پڑا اورمعاندین کے سوا ہر انسان خواہ وہ کسی قوم ہ مذہب سے تعلق رکھتا ہو اپنی افتاد طبع اور مزاجِ عقل کے لحاظ سے کتنی منزلِ بلند پر فائز کیوں نہ ہو مگر آپ کے معجزات کی کثرت اور ان کی نوعیت وعظمت کو دیکھ کر اس کو اس بات پر ایمان لانا ہی پڑا کہ بلا شبہ آپ نبیِ برحق اور خدا کے سچے رسول ہیں۔آپ کی روحانی و جسمانی خداداد طاقتوں پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آپکی حیاتِ مقدسہ کے مختلف دور کے محیرالعقول کارنامے خود عظیم سے عظیم تر معجزات ہیں۔کبھی عرب کے ناقابلِ تسخیرپہلوانوں سے کشتی لڑکر پچھاڑ دینا اور کبھی انگلیوں کے ا شارے سے سے چاند کے دو ٹکڑے کر دینا ،کبھی ڈوبے ہوے سورج کو واپس لٹا دینا اور کبھی خندق کی چٹان پر پھاوڑہ مار کر روم و فارس کی سلطنتوں میں اپنی امت کو پرچمِ اسلام لہراتا ہوا دکھا دینا، کبھی انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کر دینا اور کبھی مٹھی بھر کھجو رسے ایک بھو کے لشکر کو اس طرح راشن دینا کہ ہر سپاہی نے شکمِ سیر ہو کر کھا لیا۔ انہی معجزات کی لڑی میں ایک اور عظیم معجزہ ہے ۔۔۔ اور وہ ہے ۔۔۔ عرشِ معلی سےْْقرآنِ حکیم کا نزول ۔۔ ارشادِ خدا وندی ہے’’ اور تمہاری طرف ہم نے یہ کتاب نازل کی ہے ۔یہ حق لے کر آئی ہے۔اس سے پہلے جو آسمانی کتابیں آئیں ان کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ و نگہبان ہے‘‘قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’بلا شبہ یہ ذکر ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے محافظ ہیں‘‘نبی کریمﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اللہ نے آپﷺ پر قرآن مجید نازل کیا۔یہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔جو تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کا دائمی ذریعہ ہے اور تمام سابق کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔قرآنِ کریم انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق راہنمائی کرتا ہے۔اس میں انسانی زندگی کی حقیقت ، خیر وشر، حلال و حرام ،اخلاقی تعلیمات سمیت زندگی کے ہر پہلوکے متعلق راہنمائی موجود ہے۔اس میں انسان کی آخرت کی زندگی کے بارے میں تفصیلی معلومات ہیں اور آخری زندگی کی اہمیت کو نہایت پُر تاثیر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔قرآن مجید انسان کی انفرادی زندگی ، اس کے اجتماعی معاشرتی حقوق و فرائض ،معاشی و اقتصادی امور کے متعلق بنیادی ہدایات، سیاسی و بین الا قوامی معاملات اور اخلاقی رویوں کے متعلق جامع تعلیمات پیش کرتا ہے۔ قرآن انسانی راہنمائی کا خزانہ ہے۔قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرم ﷺ پر عطا کردہ معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے ۔جس کے دنیا بھر میں موجود نسخوں میں ایک لفظ یا زیر زبر کا بھی فرق نہیں ہے۔قرآن حکیم کو بڑی فضیلت حاصل ہے۔ اس کا پڑھنا ثواب ، اس کا سننا باعث برکت اور اس پر عمل کرنا دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ارشاد نبویﷺ ہے ’’تم میں بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا‘‘ قرآن پاک کی تلاوت بہت بڑی نیکی ہے۔اس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں جبکہ اس عمل کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں میں عزت و سرفرازی عطا فرماتا ہے

Readers Comments (0)




Weboy

Premium WordPress Themes