بریکنگ نیوز اب ’’بریکنگ نرونیوز‘‘ بن گئیں ہیں،اسکرپٹ رائٹر و ڈائریکٹر طلال فرحت

Published on December 18, 2013 by    ·(TOTAL VIEWS 479)      No Comments

\"normal_DSC05570-T2\"
کراچی(یواین پی)’’میڈیا ریٹنگ کی دوڑ میں‘‘ کے عنوان سے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع مقامی یونیورسٹی میں سیمینار منعقد ہوا ، مہمانان گرامیوں میں پی ٹی وی کے سابقہ نیوز پروڈیوسراقبال جمیل،مقامی جریدہ کی ایڈیٹر ان چیف محترمہ قدسیہ صاحبہ، مقامی چینل کی نمائندہ، معروف گلوکار،علی گل میر، ایف ایم 105کے آر جے اورآؤٹ فیلڈرز فلمز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرطلال فرحت نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، اقبال جمیل نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس ترقی یافتہ دور میں ہم صرف شہروں کو ہی کیوں ریٹنگ کے زمرے میں لاتے ہیں، شہر کے چند پسندیدہ علاقوں میں ریٹنگ میٹرز لگا کر ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلاں پروگرام یا فلاں نیوز چینل آج کی ریٹنگ کے مطابق اس نمبر پر ہے، جبکہ دیکھا جائے تو ہماری کل آبادی کا ایک فیصد بھی اس ریٹنگ کی دوڑ میں شامل نہیں،کیوں نہیں انٹریئر سندھ یا پنجاب کے ملحقہ علاقوں میں جا کر ایسے میٹروں کی تنصیب کرتے ہیں،ایک وقت تھا جب پی ٹی وی کی نیوز کا رات 9بجے انتظار کیا جاتاتھا،اب تو ہر وقت بریکنگ نیوز تیار رہتی ہے، کہ فلاں جگہ اونٹ گٹر میں گر گیافلاں فلاں فلاں، یہ نیوز دکھانے کا انداز نہیں بلکہ یہ خود مذاق اڑوانے کے مترادف ہے، میں نہیں سمجھتا کہ ریٹنگ مناسب اور منصفانہ طور پر ہوررہی ہے. مقامی جریدہ کی ایڈیٹر ان چیف قدسیہ صاحبہ نے کہا کہ ہمارے چینلز کے کرنٹ افیئرز پروگراموں میں سیاستدا ن اپنا مذاق خود اڑواتے ہیں اور ہماری عوام ان کو دیکھ کر محظوظ ہوتی ہے جس سے ہمارے ملک کا امیج اور خراب ہوتا جا رہا ہے، میں ایسے پروگراموں کو آن ایئر جانے پر اچھا نہیں سمجھتی، ہمیں چاہیے کہ ہمیں اپنی گفتگو میں نرمی کے ساتھ دلائل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اچھے پروگرامز دکھانے چاہئیں،یہی نہیں بلکہ ہماری پروگراموں کے میزبانوں کو بھی چاہیئے کہ جس جگہ محسوس ہو کہ اب بات بگڑتی جا رہی ہے اور بات گلام گلوچ پر پہنچنے والی ہے تو اس شوکو ختم کر دینا مناسب ہے، سیمینار میں آؤٹ فیلڈر فلم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرطلال فرحت نے ریٹنگ جیسے اہم موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میں ریٹنگ جیسی چیز کو نہیں مانتا، ہم صبح اٹھتے ہیں تو مارننگ شوز میں یا تو ہم رونے دھونے، جادو ٹونے جیسے شوز دیکھتے ہیں یا پھر شادی بیاہ جیسی فضول رسومات کے ساتھ اپنی مائیں بہنیں اور بیٹیوں کو اسکرین پر مختلف قسم کے لباسوں میں ناچتا دیکھتے ہیں اورپھر چینلز بھی نہیں بدلتے، جب کہ دیکھا جائے تو ایک وقت میں پی ٹی وی پر جب محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کا ڈرامہ، افشاں، عروسہ، یا تنہائیاں، ان کہی جیسے خوبصورت ڈراموں کا انتظار رہتا تھا کہ کہیں نہ کہیں کسی منظر میں شادی بیاہ کا ضرور دکھایا جائیگا اور وہ اس طرح سے پکچرائز کیا جاتا تھا کہ جس سے اسلامی قدروں کے ساتھ لباس کا بہت خیال رکھا جاتا تھا، اب جب کہ چینلز کی بہتات ہے اور مزید چینلز آنے کو تیار بیٹھے ہیں تو یہ اپنی قدریں کھو چکے ہیں، انہیں جو ملے، وہ دکھا دو،الیکٹرانک میڈیا میں اب کوئی پرائی ویسی نہیں رہی ، جس کا دل کرتا ہے وہ کیمرہ اٹھا کر یا توچھاپے مارتا پھرتا ہے یا پھر سڑکوں اور پارکوں میں جا کربیٹھے ہوئے جوڑوں پر اپنے پروگرام چلا کر یا مارننگ شوز میں مختلف انداز سے کالج و یونیورسٹی کے طلباء و طالبات بغیر اسکرپٹ کے لائیو شوز میں اونچے نیچے کپڑے پہن کر خودنمائی کرنے کی کوکشش کرتے ہیں اوراسی چینل کے میزبان اوران کے مالکان اپنے پروگراموں کی ریٹنگ بڑھانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں،بریکنگ نیوز اب بریکنگ نرونیوز بن گئیں ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے میڈیا کے ذریعے مثبت بات کو مثبت اندازایک پیغام کی صورت میں پہنچا کر دوسروں سے دعائیں لیں اور ساتھ ہی ہمیں ایسے پروگرام مرتب کرنا چاہیں کہ جس سے معاشرے میں مثبت انداز سے ترقی کی جانب ہماری نئی نسل راغب ہو اور پاکستان کا نام اور اونچا ہو نہ کہ ہم ریٹنگ جیسے فضول باتوں کو ترویج دیں. پروگرام کے آخر میں تمام مہمانوں کو یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی شیلڈ دی گئیں.

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Premium WordPress Themes