جموں وکشمیرکے تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں ؛وزیر اعلی محبوبہ مفتی

Published on August 16, 2017 by    ·(TOTAL VIEWS 595)      No Comments


سری نگر(یو این پی) مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں وکشمیر کی شناخت کو برقرار رکھنے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں جبکہ وہ محبوبہ مفتی پر امیدہیں کہ سپریم کورٹ آف انڈیا دفعہ370اور آرٹیکل35اے کے خلاف دائر عرضیوں کو خارج کرے گا۔وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں وکشمیرکے تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں ۔قریب15منٹ کی تقریر میں انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیرکی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچا نے کی کوئی مر تبہ کوششیں کی گئیں لیکن تمام کوششیں ناکام ہوئیں ۔ان کا یوا ین پی سے کہناتھا ہمیں اپنے سپریم کورٹ پر یقین ہے، جب جب کسی نے جموں وکشمیر کے خصوصی تشخص کی طرف اگلی اٹھائی اور اس کو زک پہنچانے کی کوشش کی تو سپریم کورٹ نے اس کوشش کو ناکام بنایا۔بخشی اسٹیڈیم سرینگر میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں دفعہ370اور آرٹیکل35اے کے خلاف دائر عرضیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا مجھے یقین ہے کہ آج جو معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، سپریم کورٹ وہی موقف اختیار کرے گا جو وہ گذشتہ70 برسوں سے اختیار کرتا آیا ہے۔ وزیر اعلی نے مزید کہا میں پر امید ہوں کہ سپریم کورٹ آف انڈیا دفعہ370اور آرٹیکل35اے کے خلاف دائر عرضیوں کو خارج کرے گا۔وزیر اعلی نے کہا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کا دفاع کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں اور اس پر کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔محبوبہ مفتی نے کہاجہاں جموں وکشمیر کے تشخص کی بات آئے گی ہم سب ایک ہیں،کرسی کی لڑائی الگ ہے، سیاسی لڑائی الگ ہے لیکن جب ہمارے تشخص کی بات آئے گی، ہم سب متحد ہیں۔آرٹیکل 35اے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کئے جانے بعد اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہامیں کشمیر کے سینئر لیڈر فاروق عبداللہ صاحب کا شکر گذار ہوں جنہوں نے مجھے ملاقات کا موقع دیا، میں نے ان سے گذارش کی کہ ہمیں بتائیں کہ آج پھر کوئی سپریم کورٹ میں گیا ہے، پھر سے کسی نے دفعہ 370 پر وار کرنی کی کوشش کی ہے، مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بہت ہی پیار بلکہ ایک شفقت والے باپ کی طرح میری بات سنی اور کچھ مشورے دئے، جن پر میں نے عمل کیا۔انہوں نے کہا ہماری ریاست میں مشکلات ہی مشکلات ہیں،جب بھی مجھے ضرورت پڑے گی تو مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی شفقت کا ہاتھ میرے سر پر رکھیں گے اور مجھے ہمیشہ مشورہ دیتے رہیں گے کہ ہمیں آگے کیا کرنا ہوگا؟، کس طرح سے اس ریاست کو مصیبت سے نکالا جاسکتا ہے؟۔۔انہوں نے کہامجھے امید ہے کہ دلی بھی سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپا ئی کے فلسفے پر چل کر مسئلہ کشمیر کا انسانیت کے دائرے میں حل تلاش کرنا چاہئے کیو نکہ مسئلہ کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسے انسانیت کی بنیاد پر ہی حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ان کا کہناتھا کہ ہند پاک کشیدگی اور تناؤ کا خمیازہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو بھگتنا پڑ تا ہے کیو نکہ دونوں ممالک کے تعلقات کا اثر براہ راست ریاست پر پڑتا ہے ۔سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی کشمیر پالیسی کو بہترین اور ثمر آور قرار دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا ملک کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ ہم مسئلے کو انسانیت کے دائرے میں حل کریں گے۔ انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ بھارتی حکومت اس بات پر عمل کرکے جموں وکشمیر کے لوگوں اس مصیبت اور اس تکلیف باہر آنے کا موقع دے گی۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Free WordPress Themes