میں وہ واحد ہیروئن ہوں جو ابھی تک فلم انڈسٹری میں کام کر رہی ہوں میرا

Published on January 16, 2014 by    ·(TOTAL VIEWS 805)      No Comments

\"OLYMPUS
ڈوبتی ہوئی فلم انڈسٹری میں ایک مضبوط ستون بن کرسامنے آئے ہیں، خالد حسن خان
کراچی(یواین پی) میں وہ واحد ہیروئن ہوں جو ابھی تک فلم انڈسٹری میں کام کر رہی ہوں، یہ بات فلمسٹار میرا نے کراچی پریس کلب میں ہوٹل فلم کی تشہیری مہم کے سلسلے میں پریس بریفنگ دی جس میں بڑی تعداد میں پاکستان کے اخبارات، جرائد اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی،اس موقع پر فلم کے اسکرپٹ رائٹرو ڈائریکٹر خالد حسن خان، فلم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر طلال فرحت ،سینئر صحافی اطہر جاوید صوفی اور وسیع قریشی سمیت اعلی عہدیداران نے شرکت کی، اس موقع پرہوٹل ٹیم نے پریس کلب کے تمام عہدیداران اور تمام صحافی خواتین و حضرات کاخصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ، اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فلمسٹار میرا نے کہا کہ میں میری خواہش تھی کہ میں ایک ایسی فلم میں کام کروں جواسکرپٹ کے لحاظ سے مختلف ہو کہ دیکھنے والا اسے مدتوں یاد رکھے اور میرا فلم میں کام کرنے کا یہ خواب انشا اللہ ۲۰۱۴ ؁ء میں پورا ہوجائے گا، اس فلم میں میرا کردار اہم ہے جس کے گردفلم کی کہانی گھومتی ہے، میں نے فلم میں دیگر فنکاروں کے ساتھ کام کیا ا ور مجھے اس بات کی بہت خوشی ہوئی کہ یہ سب نئے ہیں اور پہلی بار فلم میں کام کر رہے ہیں،مجھے شوٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ ان تمام فنکاروں نے مہینوں ریہرسلز کیں اور ان کی ریہرسلز نے آج انہیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے،گزشتہ چھ ماہ سے میں اخبارات میں ہوٹل فلم کے حوالے خبریں پڑھتی رہتی ہوں، جس میں مثبت انداز سے رپورٹنگ کی جاتی رہی ہے جس کے لیے میں دلی طور سے شکر گزارہوں، اسپتال کے پروجیکٹ کے سلسلے میں انہوں نے یہ بتایا کہ اسپتال امیر و غریب کا ہے نیز اس میں فنکاروں اور صحافیوں کے لیے الگ الگ وارڈ بنائے جائیں گے، اسپتال میں دس روپے میں فری علاج کی سہولیات مہیا ہوں گی، اس سلسلے میں وہ پنجاب کے گورنرصاحب سے ملاقات کر چکی ہیں اور انہوں نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے،پریس کانفرنس میں فلم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر طلال فرحت نے فلم کی کہانی کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی سائکو تھرلر فیچر فلم ہے جس کی کہانی ایک لڑکی کے گرد گھومتی ہے،فلم کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ میرا جی یعنی ’’کاشیکا‘‘ اپنے شوہر کے ساتھ دلی سے دوسرے شہر کی جانب ٹیکسی میں سفر کرتی ہیں، راستے میں رات ہو جاتی ہے جہاں انہیں ایک ہوٹل میں ٹھہرنا ہوتا ہے، وہاں کاشیکا کی ملاقات اپنی اس بہن سے ہوتی ہے جو کہ پیدا نہیں ہوئی، انہوں نے بتایا کہ یہ فیچر فلم’’ہوٹل‘‘ برصغیر میں موجودلڑکیوں کے ساتھ ناروا سلوک کو موضوع پر مبنی ہے،خصوصی طور پر ان بچیوں کو جنہیں پیدائش سے قبل ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔یہ فلم پہلی اصلی بھارتی فلم ہے، جو مکمل طور پر پاکستان میں بنائی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ ہوٹل بنیادی طور پر ہوٹل الفاظ ہیں اور اس میں (A) کی کیا کہانی ہے، اس کی اصل حقیقت آپ فلم میں دیکھ سکیں گے، انہوں نے بتایا کہ اس فلم کو بنانے کا مقصد صرف اچھے اسکرپٹ کو فلم کے اندازمیں لا کر عوام کو ایک نئی کہانی سے متعارف کرانا ہے،ہمارے آنے والے نئے ڈائریکٹرز کو بھی چاہیئے کہ ایسی چبھتی کہانیوں پر اسکرپٹ لکھیں اور فلمیں اس انداز سے بنائیں کہ انہیں فلم بنانے کی تمام تیکنیک آتی ہوں اور ان کی بنائی ہوئی فلم میں انوکھا پن ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی ثقافت اور امیج کو مثبت انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکیں ، انہوں نے بتایا کہ’’ ہوٹل‘‘ فلم کے ٹیزر کو پانچ دنوں میں دنیا بھر میں تقریبا اڑتالیس ہزار لوگوں نے دیکھا اور اسے سراہا،یہاں اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ پاکستان کی فلم انڈسٹری میں چینج چاہتے ہیں اور یہ چینج ہم اور دوسرے ڈائریکٹرز ہی لا سکتے ہیں، ہمیں اب گنڈاسوں اور کھیت کھلیان سے نکلنا ہوگا،انہوں نے بتایا کہ ممبئی پریس کے پریزیڈنٹ نے خصوصی طور پر ہوٹل کی ٹیم کوبھارت آنے کی دعوت دی ہے، اس سلسلے میں مسک فلمز کے پروڈیوسر سردار نوید اے خان نے ابتدائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جس میں میرا جی کے ساتھ چندصحافیوں کے ایک وفد کوبھارت لے جائیں گے جو کہ فلم کی تشہیری مہم کا حصہ ہوگی، پریس کانفرنس میں مدعوہوٹل فلم کے اسکرپٹ رائٹروڈائریکٹر خالد حسن خان نے کہا کہ میں بتاتا چلوں کہ آج سے تقریبا چھ مہینے قبل ہم نے کراچی پریس کلب ہی سے اسی فلم کا مہورت کیا تھا اورالحمدو للہ ہم باضابطہ طور پرپریس کلب کراچی سے اعلان کر رہے ہیں کہ یم نے آج سے فلم’’ہوٹل‘‘ کی تشہری مہم کا آغاز کر دیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم جہاں جہاں جائیں میرا جی اس تشہیری مہم کا حصہ بنیں،امید ہے ’’ہوٹل‘‘ مارچ تک ملک کے تمام سینماؤں کی زینت بنے ،ساتھ ہی غور کر رہے ہیں

\"P1130004\"

کہ ہم پڑوسی ملک بھارت میں جا کر بھی اپنی فلم کی تشہیری مہم چلائیں،مزید انہوں نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ ڈوبتی ہوئی فلم انڈسٹری میں ایک مضبوط ستون بن کرسامنے آئے ہیں، گو کہ یہ ہماری پہلی فلم ہے اور اس کا اورجنل اسکرین پلے کے ساتھ ساتھ ڈائریکشن بھی میری ہے، اس فلم کو بنانے کے بعد ہمارے حوصلے بلند ہیں اور ہماری ٹیم اور فنکاروں نے بھرپور تعاون کے ساتھ فلم کو مکمل کرایا ،انشااللہ مارچ میں ایک اور نئی فلم بنانے جا رہے ہیں جس کی تفصیلات آنے والے دنوں میں آپ کو دے دی جائیں گی، ماضی میں جس طرح سے آپ لوگوں نے فلم کواپنی تحریروں میں ہائی لائٹ کیا، اس کے لیے ہم نہایت مشکور ہیں، ہماری پوری کوشش ہے کہ فلم کے ذریعے ہم اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں پیچھے نہ ہٹیں اور میرے عاجزانہ درخواست ہے کہ آ پ بھی اپنی تحریروں کے ذریعے مثبت پیغام کو پوزیٹو انداز میں اخبارات و جرائد میں شائع کریں، اس سے نہ صرف آپ کی بلکہ قوم کا وقار بھی بلند ہوگا۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

WordPress主题